امریکی معیشت کو درپیش خطرات جہاں ری پبلکن پارٹی کی آٹھ سالہ کارکردگی پر کئی سوالات اٹھاتے ہیں وہاں تجزیہ نگاروں کے مطابق امریکہ کے آئندہ صدارتی انتخابات پر بھی اثر انداز ہونگے ۔امریکی ایوان نمائندگان نے تو صدر بش کے 700ارب ڈالر کے مجوزہ بیل آوٹ منصوبے کو مسترد کر دیا۔
امریکہ میں ان دنوں صدر بش کے دور صدارت کے آخری ہفتوں میں نمودار ہونے والے بد ترین مالیاتی بحران سے نمٹنے کی کوششیں جاری ہیں ۔ امریکی ماہرین کے خیال میں یہ بحران نومبر کے صدارتی انتخابات کے نتائج پر اثر انداز ہوگا اور یہی وجہ ہے کہ امریکی ایوان نمائندگان کے ریپبلکن اراکین 700ارب ڈالر کے بیل آؤئٹ منصوبے پر اپوزیشن کے اعتراضات کو غیر موثر ثابت کرنے کی کوشش میں خاصی جلد بازی کا مظاہرہ کرتے دیکھے گئے۔
جارج واشنگٹن یونیورسٹی کے پروفیسر رابرٹ ڈن کا کہنا ہے کہ ظاہر ہے آنے والے انتخابات پر ملک کی معاشی صورتحال اثر انداز ہوگی ۔اور ری پبلکنز کو یہی ڈر ہے کہ انہیں ہی مورد الزام ٹہرایا جائے گا ۔ اور اس لئے صدارتی انتخاب سے چند ہفتوں پہلے ری پبلکنز کی کوشش ہے کہ انہیں مسئلہ نہیں مسئلے کے حل کا حصہ سمجھا جائے ۔
امریکہ کو اس معاشی بحران سے نکالنے کے لئے پیش کئے گئے منصوبے پر امریکہ کے عام آدمی کاغصہ صرف ریپبلکنز تک ہی محدود نہیں ہے ۔وہ کہتے ہیں کہ بڑی کمپنیوں کی غلطیوں کا خمیازہ ہم کیوں بھگتیں ؟
جہاں ماہرین پیش گوئی کر رہے ہیں کہ ڈیمو کریٹک پارٹی اس بحران سے فائدہ اٹھا سکتی ہے وہاں ان کا یہ بھی کہنا ہے کہ امریکہ کے نئے صدر کوتاریخ کے بد ترین قرضوں کا بوجھ ورثے میں ملے گا،تاہم ڈیمو کریٹک پارٹی کی جانب جھکاو رکھنے والے اکنامک پالیسی انسٹی ٹیوٹ کے نائب صدر راس آئزن برے کا کہنا ہے کہ عام لوگوں کا غصہ ری پبلکن اور ڈیمو کریٹ دونوں پارٹیوں پر ہے۔
وہ کہتے ہیں کہ عام امریکی سمجھتا ہے کہ بیل آوٹ منصوبےسے انہی کو فائدہ پہنچتا جو امریکی معیشت کو اس حال تک پہنچانے کے زمہ دار ہیں اور عام مالک مکان کو کچھ نہیں ملتا۔
ریپبلکن پارٹی کی حمایت کرنے والے رابرٹ ڈن کا کہنا ہے کہ اگر ری پبلکن پارٹی الیکشن کے دن عوام کے غضب سے بچنا چاہتی ہے تواسے معیشت کی درستگی کے کچھ سخت اقدامات کی ضمانت دینی ہوگی۔ وہ کہتے ہیں کہ ایک تو وال سٹریٹ کے اعلی عہدے داروں کو منصب سے رخصتی کے وقت بھاری رقوم دینی بند کرنی ہونگی اور دوسرے گھروں کے مالکان کو قرضوں کی ادائیگی میں سہولت دینے کے لئے مالی مدد فراہم کرنی ہوگی ۔سارا فائدہ بینکوں کو ہی نہیں پہنچانا چاہیے۔
راس آئزن برے بھی پروفیسر رابرٹ ڈن سے اتفاق کرتے ہیں کہ گھروں کے مالکان کو قرضوں کی ادائیگی میں رعایت دینی چاہئے تھی لیکن بعض حلقوں کے خیا ل میں یہ مالکان مکان کے غیر زمہ دار طرز عمل کو انعام دینے کے مترادف ہوتا۔ تاہم آئزن برے سمجھتے ہیں کہ دیوالیہ ہونا اورمکانوں کی نیلامی معیشت کے لئے اچھا شگون نہیں ہوتی
وہ کہتے ہیں کہ جب لاکھوں افراد ایک ہی جیسے مالی بحران سے گزر رہے ہوں تو آپ یہ تو کہہ سکتے ہیں کہ انہوں نے غلطیاں کیں ۔مگر یہ غلطیاں کیوں ہوئیں اس کی بہت سی وجوہات ہیں ۔تاہم معیشت کو مدد کی ضرورت ہے اورناگوار سہی مگر ہمیں کوئی حل نکالنا ہی ہوگا۔
ایک اور سوال جس کا معاشی تجزیہ نگار جائزہ لے رہے ہیں یہ ہے کہ بینکو ں کو ان کے ڈوبے ہوئے قرضوں کے لئےکس حد تک ادائیگی کی جائے ۔تجزیہ نگاروں کا کہنا ہے کہ قیمت تو امریکی معیشت اور عوام کو ہی ادا کرنی ہوگی۔
رابرٹ ڈن کہتےہیں کہ میں نہیں جانتا کہ حقیقی ادائیگی کا تخمینہ کیا ہوگا مگر اتنا نہیں ہوگا جتنا بظاہر نظر آرہا ہے ،تاہم اتنا ضرور ہوگا کہ بنک اپنا وجود قائم رکھ سکیں۔
ماہرین کاکہنا ہے کہ مکانوں کی خرید پر لئے گئے قرضوں کی زمہ داری اگر امریکی حکومت لے لیتی تو مکانوں کے مالکان سے وصول کی جانے والی رقوم بیل آوٹ کے نام پر نکالی گئی رقم کی واپسی کی مد میں جمع کی جاتیں اور معیشت کی صورتھال بہتر ہوتے ہی یہ دستاویزبیرونی سرمایہ کاروں کو فروخت کئے جا سکتے تھے جو فی الحال امریکہ میں معاشی بحران کی وجہ سے یہاں سرمایہ لگانے سے ہچکچا رہے ہیں مگر 700ارب ڈالر کا بیل آوٹ منصوبہ مسترد ہو جانے سے امریکہ کی معاشی مشکلات ابھی حل طلب ہی رہیں گی۔