Urdu ▪ وائس آف امریکہ
غیر جانبدار خبریں  |  دلچسپ معلومات

صرف متن
Search

آدھی رات کا سورج ۔۔۔ آٹھویں قسط: اے حرمِ قرطبہ


October 1, 2008

Cordoba mosque wall
مسجد کی بیرونی دیوار سے مسجد کے اندر کا حسن عیاں نہیں ہوتا
میں گیارہ مئی 2008ء کی ایک چمکیلی سہ پہر عبدالرحمٰن کی سنہ 786ء میں تعمیر کردہ مسجدِ قرطبہ کے احاطے میں کھڑا تھا جو دنیا بھر میں اسلامی طرزِ تعمیر کے اعلیٰ ترین شاہ کاروں میں سے ایک ہے۔ میرے اور حرمِ قرطبہ کے درمیان صرف ایک دیوار کی دوری حائل تھی۔اس وقت دل کی کیفیت کچھ عجیب سی تھی، اعصاب پر سنسنی سی چھائی ہوئی تھی، ہاتھ پاؤں پھولے جاتے تھے۔

میرے ذہن میں ایک دھندلی سی شبیہ تو ضرور موجود تھی۔ میں نے علامہ اقبال کی مسجد کے اندر مصلا بچھا کر نماز پڑھتے ہوئے دھندلی سی تصویر بھی دیکھ رکھی تھی، مستنصر حسین تارڑ کےبیان کردہ واقعات بھی نظروں کے سامنے گھوم رہے تھے، لیکن میں ٹھیک ٹھیک نہیں جانتا تھا کہ اس بھاری بھوری دیوار کے پیچھے کیسا منظر میرا استقبال کرے گا۔

لیکن ہم شاید وقت سے تھوڑا پہلے قرطبہ پہنچ گئے ہیں۔ میں یہ تو بتانا بھول ہی گیا کہ میڈرڈ سے یہاں تک پہنچا کیسے۔

میڈرڈ سے قرطبہ کاچار سو کلومیٹر کا سفر صبح ساڑھے سات بجے شروع ہوا۔ گذشتہ رات میں اپنا پرانا ہوٹل چھوڑ کر ہوٹل فلوریدا نورتے میں منتقل ہو چکا تھا، جو کہ نسبتاً بہتر ہوٹل تھا۔

ٹور بس اپنے مقررہ وقت پر روانہ ہوئی۔ ٹور گائیڈ صاحب کا نامِ نامی ڈان ہوان تھا۔ یہ انگریزی تو بول لیتے تھے، لیکن ایک طرف تو محاورے میں لغزش  کر جاتے تھے تو دوسری طرف تلفظ کے بھی کچھ مسائل تھے۔ مثال کے طور پر یہ جہاں انگریزی کا حرف H آتا، یہ اسے خ کی طرح بولتے تھے، مثلاً ہوٹل کو خوتل اور ہاؤس کو خاؤس کہتے تھے۔

انگریزی کا مسئلہ پورے سپین میں آڑے آتا رہا۔ سوائے میڈرڈ میں ایک خاتون فارماسسٹ کے، میں نے پورے ملک میں کسی کو گزارے کے قابل انگریزی بھی بولتے ہوئے نہیں پایا۔ کہتے ہیں کہ شاید غیور قوموں کی یہی نشانی ہے۔

دوسری خوبی ڈان ہوان صاحب میں یہ تھی کہ بہت بولتے تھے اور مسلسل بولتے تھے۔ میڈرڈ سے انھوں نے مائیک ہاتھ میں تھام کر جو لندھور بن سعدان کی داستان چھیڑی ہے تو جب تک بس منزلِ مقصود تک پہنچ کر رک نہیں گئی، ان کی گل افشانیِ گفتار جاری رہی۔

میڈرڈ سے باہر نکلنے کے لیے ایک سرنگ کا سہارا لینا پڑا۔ گائیڈ صاحب فرمانے لگے کہ یہ سرنگ ساٹھ کلومیٹر طویل ہے اوراسے صرف چار سال کے قلیل عرصے میں تعمیر کیا گیا ہے۔ یہ شہر کے گرداگرد رنگ روڈ کا سا کام کرتی ہے۔  میڈرڈ سے باہر آ کر بس نے کھلی فضا میں سانس لیا۔ اب مضافات کا آغاز ہو چکا تھا، اور یہاں ہر طرف وہی تعمیرات کا سلسلہ نظر آ رہا تھا جس کا میں پہلے ذکر کر چکا ہوں۔

دو گھنٹے بھر کے میدانی سفر کے بعد پہاڑیاں کا سلسلہ شروع ہو گیا۔ سڑک پہاڑیوں سے لپٹتی ہوئی اوپر چڑھی، اور پھر دوسری طرف جا کر جیسے لپٹی تھی، ویسے ہی ادھڑتی چلی گئی۔

سپین کا آسمان، فراخ، وسیع،  کسی گنبد کی طرح منظر پر چھایا ہوا لگتا ہے۔ میں نے یہ آسمان کبھی بھی مکمل نیلا نہیں دیکھا، جگہ جگہ اون کے رنگ برنگے گولوں کی طرح بادل بکھرے ہوتے ہیں۔

Road Side bull in Spain
سپین کی سڑکوں کے کنارے جگہ جگہ یہ بے نام و نشان بیل نظر آتے ہیں
موٹر وے نما سڑک پر سفر کرتے ہوئے ایک بات متوجہ کرتی ہے کہ سڑک کے آس پاس بدہیت ہورڈنگ نظر نہیں آتے جن کی سستی اشتہاریت نے پاکستان کی شاہراہوں کے اطراف میں بکھرا حسن ڈھانپ لیا ہے۔ تاہم کبھی کبھی کسی ٹیلے پر، یا کسی موڑ پر ایک کالے رنگ کا بیل نما بورڈ ضرور نظر آتا ہے۔ گائیڈ نے بتایا کہ کسی زمانے میں یہ ایک مشہور ہسپانوی شراب کے اشتہاری بورڈ تھے، لیکن پھر حکومت نے بل بورڈوں پر پابندی لگا دی، کیوں کہ اس کے خیال میں ان سے ڈرائیوروں کے دھیان میں خلل پڑتا تھا۔ لیکن چوں کہ بیل بل فائیٹنگ کی وجہ سے سپین کی قومی علامت بن گیا ہے، اس لیے  حکومت نے یہ بیل رہنے دیے، تاہم ان پر کسی قسم کی عبارت رقم نہیں ہے۔

سڑک کے اطراف میں دیکھتے دیکھتے یکایک ایک منظر نے چونکا کے رکھ دیا۔  ایک طرف سبز رنگ کے معلوماتی بورڈ پر خوش نما عربی ثلث خط میں شہروں کے نام اور فاصلے تحریر تھے۔ اور پھر یہ بورڈ جگہ جگہ نظر آنے لگے۔

یا الٰہی یہ ماجرا کیا ہے؟

ڈان ہوان نے بتایا کہ اس علاقے سے مراکش جانے والے تارکینِ وطن اور سیاح بڑی تعداد میں گزرتے ہیں اور انھی کی سہولت کی خاطر اس علاقے میں عربی بورڈ نصب کیے گئے ہیں۔

راستے میں ایک جگہ رک کر کھانا کھایا گیا۔ میرے ہمراہی سیاحوں کی اکثریت کا تعلق لاطینی امریکہ سے تھا، کولمبیا، چلی، برازیل، ارجنٹینا۔ چوں کہ سپین نے ان ملکوں پر حکومت کی ہے اور ان لوگوں کی زبان بھی ہسپانوی ہی ہے، اس لیے انھیں سپین میں خاص کشش یا اپنایت محسوس ہوتی ہے۔ البتہ ایک عدد نوجوان مسلمان جوڑا بھی اس قافلے میں شامل تھا۔  عثمان کا تعلق لبنان سے تھا لیکن وہ ترکِ وطن کر کے آسٹریلیا جا بسے تھے، اور شین وارن کے لہجے میں انگریزی بولتے تھے۔ ان کی اہلیہ بھی عرب آسٹریلین تھیں۔ تعارف کے وقت جب لوگوں کو شک گزرا کہ شاید یہ شادی شدہ نہیں ہیں تو رافعہ نے نہ صرف مٹھی کھول کر انگوٹھی دکھا دی بلکہ فوراً پرس سے اپنے ایک سالہ بیٹے کی تصویر بھی نکال کر  میز پر رکھ دی، جسے وہ اس کی دادی کی نگرانی میں میلبرن میں چھوڑ آئی تھی۔

میری خاص دوستی نیول اور ان کی بیگم سلویا سے ہو گئی، کیوں کہ یہ بس میں میرے سامنے والی سیٹ پر بیٹھے ہوئے تھے۔ یہ دونوں بھی آسٹریلوی تھے اور ریٹائر ہونے کے بعد اب جہاں گردی پر نکلے تھے، جس میں انھیں پانچ براعظموں کا سفر کرنا تھا۔

مغربی ملکوں میں حلال کھانے کا بڑا مسئلہ درپیش آتا ہے۔ اس لیے ایسے مواقع پر سبزی، مچھلی اور آلو کے قتلوں ہی پر اکتفا کرنا پڑتی ہے۔ میری فرمائش پر ارجنٹینا کی ایمیلیا نے ہسپانوی زبان میں چند کارآمد الفاظ لکھ کر دیے۔

مچھلی:   پِسکادو
آلو:   پَتاتا
سبزی:   وَردوُرا

میں نے ان سے کہا کہ میں ارجنٹینا میں ایک شخص کو جانتا ہوں ۔۔۔ عالمی شہرت یافتہ کہانی نویس خورخے بورخیس کو۔ وہ بے حد حیران ہوئیں کہ تمھیں تو ہسپانوی زبان نہیں آتی، پھر بورخیس کو کیسے پڑھ رکھا ہے۔ میں نے بتایا کہ بورخیس پاکستان کے ادبی حلقوں کا محبوب ادیب ہے۔ ویسے بات سوچنے والی ہے، کہاں لاطینی امریکہ اور کہاں اردو زبان، لیکن ادب نے ان قطبین کو ایک دھاگے میں باندھ رکھا ہے۔

کچھ ہی دیر بعد بس ایک وادی میں اترنے لگی۔  دور سے ایک مٹیالے دریا کے نشیب میں بکھرا ہوا سوادِ شہر ہویدا ہونے لگا۔ یہ قرطبہ ہے، جسے ایک زمانے میں دنیا کے ماتھے کا جھومر کہا جاتا تھا۔

مسجدِ قرطبہ دریائے کبیر سے تھوڑی دوراونچائی پر تعمیر کی گئی ہے۔ بیرونی قلعہ نما سنگی دیوار سے یہ اندازہ نہیں ہوتا کہ اس کے پیچھے عظیم مسجد واقع ہے۔ طویل دیوار کے گرد گھوم کر ہم مالٹے کے درختوں سے بھرے صحن میں پہنچ گئے،جہاں ایک مقامی راہبر ہمارے لیے چشم بہ راہ تھا۔ سپین میں قانون یہ ہے کہ جہاں بھی جائیں، وہیں کے مقامی گائیڈ کی خدمات حاصل کرنا پڑتی ہیں۔ چناں چہ ایسے موقعوں پر ڈان ہوان صاحب ایک کونے میں کھڑے ہو کر سگریٹ سلگا لیتے تھے، اور ان  کے چہرے سے ایک ایسی حسرت ٹپکنے لگتی تھی جیسے سٹیج پر بیٹھے ہوئے جغادری شاعر  کسی اناڑی کے کلام پر سامعین کی بے محابا داد و تحسین سے زخمی نظروں سے ادھر ادھر دیکھتے ہیں۔

تو آج میں اسی صحن میں یوں حیرت و حسرت کا مارا کھڑا تھا جیسے کوئی طویل سفر طے کرنے کے بعد کوئے جاناں تک پہنچے اور وہاں پہنچ کر ٹھٹک جائے، اور اس میں ایک قدم آگے بڑھنے کی ہمت نہ ہو۔ رعب، دبدبے، بے کلی، اشتیاق اور تجسس جیسے ملے جلے جذبات کی خودرو بیلیں میرے پیروں سے لپٹ لپٹ گئیں، اور میں اپنی جگہ پر کھڑا کا کھڑا رہ گیا۔

راہبر کے ٹہوکا دینے پر میں چونکا۔ وہ میری تلاش میں مسجد سے واپس آ گیا تھا۔ اس نے سرزنش کی کہ مسجد کے اندر بہت سے سیاح بھٹک جاتے ہیں اور نتیجتاً اپنی بس سے رہ جاتے ہیں اور انھیں باقی ماندہ سفر ٹرین میں بیٹھ کر طے کرنا پڑتا ہے۔

میں اس کے پیچھے پیچھے چلتا ہوا مسجد کے دروازے سے اندر داخل ہو گیا۔

دروازے کے اندر قدم رکھا۔ ادھر ادھر نظر دوڑائی، آنکھیں پھاڑ پھاڑ کر دیکھنے کی کوشش کی، لیکن کچھ بھی نظر نہیں آیا۔ اندر داخل ہوتے ہی گھپ اندھیرے نے یوں لپیٹ میں لے لیا تھا جیسے گرمیوں میں ایرکنڈیشنڈ کمرے سے باہر نکلیں تو گرم ہوا کا تھپیڑا منھ پر آ لگتا ہے۔

ہم باہر کی بھڑکیلی دھوپ سے گزر کر اندر داخل ہوئے تھے، اس لیے آنکھوں کو اندر کی تاریکی سے راہ و رسم پیدا کرنے میں وقت لگ گیا۔ چند منٹوں کے انتظار کے بعد کہیں جا کر مسجد کے درودیوار نے گویا شرماتے، لجاتے ہوئے، دھیرے دھیرے اپنے چہرے سے اندھیرے کی نقاب سرکانا شروع کر دی۔ 

Iqbal in the Cordoba Mosque
علامہ اقبال کے زمانے میں شاید "نماز پولیس" کا وجود نہیں تھا
آج تقریباً تین مہینے بعد مجھے ٹھیک ٹھیک بیان کرنے میں دقت پیش آ رہی ہے کہ اندھیرے کی دھند چھٹنے کے بعد میں نے وہ منظر کیسا پایا۔ جب آپ کوئی عظیم ادبی شاہ کار پہلی بار پڑھتے ہیں، کوئی معرکہ آرا سمفنی پہلی بار سنتے ہیں، کسی دیوقامت رہنما سے پہلی بار ملتے ہیں، تو ان لمحات کے جگنوؤں کو لفظوں کی مٹھی میں کیسے بند کر سکتے ہیں؟ 

شاید علامہ اقبال کو بھی یہی مسئلہ لاحق تھا کہ ان جیسے قادرالکلام شاعر نے بھی مسجدِ قرطبہ پر طویل نظم لکھتے ہوئے مسجد کے بارے صرف دو سطریں لکھی ہیں:

تیری بنا پائیدار، تیرے ستوں بے شمار
شام کے صحرا میں ہو جیسے ہجومِ نخیل

لیکن اقبال آخر اقبال ہیں، دو سطروں میں بھی بنیادی بات بیان کر گئے ہیں۔ واقعی سرخ اور سفید اینٹوں سے بنی ہوئی دہری محرابوں کندھوں پر اٹھائے ہوئے پتھر سے تراشے ہوئے ستون نخلستان کا سا منظر پیش کرتے ہیں۔ جہاں تک نظر جاتی ہے، انھی ستونوں کی فصل کھڑی نظر آتی ہے۔ راہبر نے بتایا کہ مسجد کےکل ایک ہزار ستون تھے، جو اب کے بیچوں بیچ کلیسا کی تعمیر کے بعد صرف آٹھ سو رہ گئے ہیں۔ لیکن یہ آٹھ سو ستون بھی اتنا پراسرار بصری دھوکا دیتے ہیں کہ لگتا ہے ان کی قطاریں لامتناہی ہیں۔ کثرت میں

مسجدِ قرطبہ‘ کا مکمل متن

ملکہ پکھراج اور طاہرہ سید کی آواز میں

غلام علی کی آواز میں

وحدت اوروحدت میں کثرت۔ اسلامی آرٹ میں یہ جلوہ گری جگہ جگہ نظر آتی ہے۔

مجھے معلوم تھا کہ مسجد کے بیچوں بیچ ایک بھاری بھرکم جسامت کا کلیسا تعمیر کیا گیا ہے، لیکن مسجد کے دالان کی وسعت کا یہ عالم ہے کہ اس کے اندر خاصی دیر تک گھومنے کے بعد بھی پتا نہیں چلتا کہ وہ کلیسا کہاں ہے، کس طرف کو ہے، کدھر ہے۔

میرے گروہ کے علاوہ مسجد میں درجنوں سیاحوں کی ٹولیوں ستونوں کے جنگل میں اپنے اپنے راہبروں کا مستعدی سے دامن تھامے ادھر سے ادھرآ جا رہی تھیں جیسے چوزے مرغی کے پیچھے پیچھے گرتے پڑتے دوڑتے پھرتے ہیں۔ ہر طرف کیمروں کےفلیش ٹمٹما رہے تھے، اور بھانت بھانت کی بولیاں کانوں میں پڑ رہی تھیں، ہسپانوی، انگریزی، جاپانی، اطالوی، فرانسیسی، عربی۔

Arch and palm connection
ہسپانوی مصور مورینو کی ڈرائنگ سے کھجوروں اور مسج کی محرابوں کا بصری تعلق واضح ہوتا ہے
جب مسجد بنی تھی تو اس کے مہندسوں اور معماروں نے مٹی، چونے، پتھر، اور اینٹ گارے کے علاوہ تعمیر کا ایک عنصر روشنی بھی رکھا تھا جس کی موجیں مسجد کی دو منزلہ سفید و سرخ محرابوں، ستونوں اور چوبی چھت پر نفیس نقش و نگار اور فرش پر بچھے قالینوں کو شرابور کر کے ان کے رنگوں کو چمکا دیتی تھیں۔ مسجد کے سامنے دیوار نہیں تھی اور نمازی صحن میں بنے حوض میں وضو بنا کر سیدھے مسجد میں داخل ہو جاتے تھے اور یوں صحن میں ایستادہ کھجور کے درخت اور مسجد کے اندر پھیلا ہوا نخلستان ہم آہنگ ہو جایا کرتے تھے۔ لیکن عیسائیوں نے قرطبہ فتح کرنے کے بعد جہاں مسجد کے قلب میں کلیسا تعمیر کیا، وہیں صحن اور دالان کے درمیان موجود محرابوں کو پاٹ کر مسجد کو اندھیروں میں دھکیل دیا۔

غالباً اس کی وجہ تہذیبی فرق ہے۔ مسلم فنِ تعمیر میں وسعت، کشادگی اور فراخی کا پہلو بہت نمایاں ہوتا ہے، جس میں روشنی اور ہوا سے بھرپور استفادہ کیا جاتا ہے۔ اس کے مقابلے پر کلیساؤں میں تنگی اور گٹھن زیادہ صاف نظر آتے ہیں۔ آپ نے دیکھا ہو گا کہ گرجاؤں میں اکثر اوقات روشنی کو محض رنگین شیشوں کی بلند و بالا کھڑکیوں ہی سے چھن کر اندر آنے کی اجازت دی جاتی ہے۔ یا پھر شاید اس کی وجہ موسمی فرق ہو۔ مسلمان تہذیب گرم علاقوں میں پھلی پھولی، جہاں کھلی اور ہوا دار عمارتیں بنانا قدرتی تھا۔ اس کے مقابلے پر یورپ کے یخ بستہ موسم تنگ و تیرہ عمارتوں ہی کی اجازت دیتے ہوں گے۔

اسی تہذیبی آویزش کا خمیازہ مسجدِ قرطبہ کو بھگتنا پڑا ہے۔  لیکن کیا یہ ممکن نہیں کہ آج کے سیکیولر سپین میں اس تاریخی غلطی کا ازالہ کر کے مسجد کو اس کا چھنا ہوا نور لوٹا دیا جائے؟

شاید نہیں، کیوں کہ مسجد کا انتظام و انصرام کلیسا کے کٹر پادریوں کے ہاتھ میں ہے۔ 2004ء میں قرطبہ میں بسنے والے مسلمانوں نے عیسائیوں کے مذہبی مرکز ویٹیکن سے درخواست کی تھی کہ انھیں مسجد میں نمازادا کرنے کی اجازت دی جائے۔ لیکن ویٹیکن نے اس عرضی کو  ٹکا سا جواب دیتے ہوئے مسترد کر دیا کہ یہ مسجد نہیں بلکہ کلیسا ہے اورمسلمانوں کو چاہیئے کہ وہ تاریخ کو تسلیم کریں۔

مسجد کے اندر محافظ گھومتے رہتے ہیں اور اگر کوئی وہاں نماز پڑھنے کی کوشش کرے تو اسے روک دیتے ہیں۔ جارج اورویل کی زبان میں ان محافظوں کو "نماز  پولیس" کہا جا سکتا ہے۔ معلوم نہیں حضرت علامہ ان محافظوں کی آنکھ بچا کر کیسے نہ صرف نماز پڑھنے میں کامیاب ہو گئے بلکہ انھیں ایک عدد فوٹوگرافر بھی میسرآ گیا جس نے فٹافٹ تصویر بھی بنا لی! قیاس کہتا ہے کہ 1933ء میں آج کی طرح کے برق رفتار کیمرے میسر نہیں ہوں گے اور تصویر لینے میں خاصا وقت لگ جاتا ہو گا۔

1623ء میں سپین سے آخری مسلمان کو بھی نکال باہر کر دیا گیا تھا (تفصیل اگلی قسطوں میں آئے گی) لیکن اب وہاں مسلمانوں کی تعداد میں اضافہ ہوتا جا رہا ہے۔ خود قرطبہ میں پانچ سو کے قریب مسلمان موجود ہیں جو ایک عارضی مسجد میں نماز ادا کرتے ہیں۔

مسجد کے منتظمین اس کی سیر کے لیے مہنگے ٹکٹ بھی جاری کرتے ہیں، جن کے ساتھ ایک معلوماتی بروشر بھی دیا جاتا ہے۔ میں نے مسجد سے واپسی پر یہ بروشر دیکھا تو اس کا ایک ایک لفظ تعصب کی سیاہی سے لتھڑا ہوا پایا۔ بروشر کے سرورق پر مسجد کا کوئی منظر نہیں بلکہ اس کے اندر موجود کلیسا کی تصویر ہے۔ نیز بروشر کی پیشانی پر "دی کیتھیڈرل آف کورڈوبا" لکھا ہوا ہے، حالاں کہ دنیا بھر میں، بہ شمول قرطبہ کے باشندوں کے، اس عمارت کو "مَسکیتا" (Mesquita) یعنی "مسجد"کہا جاتا ہے۔ بروشر کے اندر جگہ جگہ قرطبہ کے مسلمان حکمرانوں کی تسلیم شدہ رواداری Convivencia کو بھی نشانہ بنایا گیا ہے۔

ڈان ہوان صاحب قرطبہ ہی کے رہنے والے ہیں اور وہ بس میں سارا دن قرطبہ کی عظمت اور اس کے سیکیولر معاشرے کی عظمت کے گن گاتے رہے تھے۔  ان کی آواز میں اس وقت تاسف کی پرچھائیاں لہرانے لگی تھیں جب انھوں نے ذکر کیا تھا کہ قرطبہ دو صدیوں تک دنیا کا مرکز تھا اور آج جو مقام لندن، پیرس اور نیویارک کو حاصل ہے، وہی مقام اس وقت قرطبہ کی جھولی میں تھا۔ میں نے بس میں واپس آنے کے بعد یہ بروشر دکھایا تو انھوں نے بڑبڑاتے ہوئے پادریوں کی تنگ نظری اور کوتاہ بینی کی شان میں بے نقط قصیدہ شروع کر دیا۔

مقامی راہبر نے بتایا کہ اپنے عروج کے زمانے میں یہ مسجد صرف نماز پڑھنے کے لیے مخصوص نہیں تھی، بلکہ بیک وقت کمیونٹی سنٹر، عدالت، کانفرنس ہال، آڈیٹوریم اور دانش گاہ کا درجہ رکھتی تھی۔

مسجد کی دالان کی ویڈیو ملاحظہ فرمائیے
میں سوچنے لگا کہ کسی زمانے میں اسی مسجد کے اندر  کسی مخصوص ستون کے نیچے بیٹھ کر ابنِ رشد اپنے شاگردوں کو یونانی فلسفے کا درس دیتے ہوں گے، کسی اور ستون سے کمر ٹیک لگا کر ابنِ حزم اپنی تازہ ترین نظم سامعین کے گوش گزار کر رہے ہوں گے تو کسی قریبی جھنڈ میں بغداد کے مدینہ الحکمت سے آنے والی کسی تہلکہ خیز کتاب کا احوال بیان کیا جا رہا ہو گا۔ اور یہیں کسی ستون کے نیچے ابن العربی متحیر پرستاروں کے گھیرے میں اپنی روحانی وارداتوں کا احوال بیان کرتے ہوں گے۔ کیا عجب کسی ستون کے تنے پر اب تک ان کی انگلیوں کے نشان پائے جاتے ہوں؟

emailme.gif اس صفحے کو ای میل کیجیے
printerfriendly.gif قابل چھپائی صفحہ

  اہم ترین خبر
”اوباما کے اقتدار سنبھالتے ہی حملے رک جائیں گے“

  مزید خبریں
شکاریوں سے قدرتی وسائل کے محافظ تک کا سفر
”بھارتی کرکٹ ٹیم کے دورہ پاکستان کے لیے من موہن سنگھ سے بات کروں گا“
امریکی حملوں کے خلاف طالبان کی انتقامی کارروائی کی دھمکی
قوم پرست لیڈر کی ہلاکت پر بلوچستان میں شٹرڈاؤن اور پہیہ جام ہڑتال
نیٹو ،افغان سپلائی لائن جاری رہے گی: پاکستان
اوباما اپنی کابینہ چننے میں مصروف ہیں
اظہار رائے کی آزادی پر ایک نئی بحث
ہلیری وزیرِ خارجہ بنیں تو بل کلنٹن کی بھی پڑتال ہو گی
بنوں میں مشتبہ امریکی میزائل حملہ، القاعدہ کے اہم رکن سمیت پانچ افراد ہلاک
فیض احمد فیض: اب شہر میں تیرے کوئی ہم سا بھی کہاں ہے
عراق میں 135 صحافی اپنے فرائض کی ادائیگی کے دوران ہلاک ہوئے
گلیشیئر ز کا تیزی سے پگھلنا ماحول کے لیے خطرناک ہے
پاکستان میں قانون کی حکمرانی نہیں ہے: جسٹس افتخار چوہدری
اوباما کو ناکامی ہوگی، ظواہری
جاوید میانداد پی سی بی کے ڈائریکٹر جنرل مقرر
مکی ماؤس 80 سال کا ہو گیا
موجودہ عہد ادب میں ’لا نظریہ‘ کا عہد ہے:گوپی چند نارنگ
ڈاکٹر عافیہ کی ذہنی صحت: عدالتی بحث جاری
اوباما سے امیدیں
اوباما وزیرِ صحت کے اہم عہدے کے لیےسابق ڈیموکریٹ سنیٹر ڈیشل کو نامزد کریں گے: میڈیا
یورپی یونین  کی طرف سے معاشی بحالی کا پیکیج
امریکہ ایشیا اور بحرالکاہل کے ملکوں سے وابستگی اور تعاون جاری رکھے گا: ایڈمرل کیٹنگ
ایران اورشام کے بارے میں عنقریب ایک رپورٹ متوقع
کمانڈو فورس کے سابق سربراہ اسلام آباد کے قریب حملے میں ہلاک
”غربت کے باعث والدین بچے ایدھی مراکز بھیجنے پر مجبور“
گجرات کے قصبے میں AIDS/HIVکے وائرس میں اضافہ
بھارتی بحریہ نے قزاقوں کا جہاز ڈبو دیا
پووپیگنڈہ لٹریچر بھیجنا بند کیا جائے، جنوبی کوریا
کمیشن میں اضافہ کیا جائے: پیٹرولیم ڈیلرز کا مطالبہ
جھنگ کا ممتاز حسین نیویارک کا ایک کامیاب فن کار  Video clip available
عراق سے امریکی فوجیوں کی واپسی 2011ء تک، لیکن توسیع بھی ممکن  Video clip available