عام طور پر ری پبلیکن اور ڈیموکریٹ پارٹیوں کے نائب صدارت کے لیے امیدواروں کے درمیان مباحثے کی کوئی خاص اہمیت نہیں ہوتی مگر 2008 میں ایسا نہیں ہے۔ ڈیموکریٹک پارٹی کے نامزد امیدوار جوزف بائیڈن ہیں جبکہ ری پبلیکن پارٹی کی جانب سے الاسکا کی گورنر سیرا پیلن کا نامزد کیا گیا ہے۔ ان کی نامزدگی سے ووٹروں کے بعض حلقوں کے جوش و خروش میں اضافہ ہوا ہے۔
امریکی بالعموم قطع نظر اس کے نائب صدر کے لیے امیدوار کون ہے، صدارتی امیدواروں کے لیے اپنے دوٹ ڈالتے ہیں۔ مگر اس کے باوجود نائب صدر کا عہدہ بہت اہمیت رکھتا ہے۔ امریکن یونیورسٹی کے پروفیسر کینڈیس نیلسن کا کہنا ہے کہ عام طور پر نائب صدر کے چناؤ کا کسی نہ کسی حوالے سے صدارتی امیدوار پر ضرور اثر ہوتا ہے ۔
ری پبلیکن پارٹی کی جانب سے نائب صدارت کے لیے امیدوار سیرا پیلین ایک خاتون ہونے کے ساتھ ساتھ بہت قدامت پسند عیسائی بھی ہیں ۔ جان مک کین کی جانب سے ٹکٹ نے پارٹی کے لیے قدامت پسند حلقوں کی جانب سے حمایت میں ہوا ہے۔
سیرا پیلن کی موجود کئی حوالوں سے مثبت ہے مگر بعض حلقوں کی جانب سے اس پر سوال بھی اٹھائے گئے ہیں۔جانز ہاپکنز یونیورسٹی کے بن گنز برگ کہتے ہیں کہ امریکی اس بارے میں بہت فکر مند ہیں کہ آئندہ کا نائب صدر کون ہوگا ۔
ری پبلیکن پارٹی کے صدارتی امیدوار جان مک کین اگر منتخب ہوئے تو وہ امریکی تاریخ کے سب سےمعمر صدر ہوں گے۔ وہ 72 سال کی عمر میں وائٹ ہاؤس میں داخل ہونے والے صدر ہوں گے۔انہیں جلد کا سرطان بھی ہے۔بن گنز برگ کا کہنا ہے کہ کچھ امریکی اس بارے میں فکر مند ہیں کہ اگر حالات سیرا پیلن کو وائٹ ہاؤس میں لے گئے تو کیا ہوگا۔
کچھ تجزیہ کار کہتے ہیں کہ آئندہ کا نائب صدر چاہے وہ جوبائیڈن ہوں یا پھر سیرا پیلین،موجودہ نائب صدر ڈگ چینی کی طرح طاقت ور بھی ہوسکتا ہے یا پھر ایک ایسا نائب صدر بھی بن سکتا ہے جن کا کام محض دفترآنا اور افتتاحی فیتے کاٹنا ہو۔