 |
| صدر آصف زرداری کی جنرل کیانی سے ملاقات (فائل فوٹو) |
صدر آصف علی زرداری نے کہا ہے کہ ملک میں امن کے قیام تک دہشت گردی کے خلاف جنگ جاری رہے گی اور کسی کو ایسی کارروائیوں کی اجازت نہیں دی جائے گی جو ملکی خودمختاری کے خلاف ہوں ۔ انہوں نے یہ بات ہفتے کے روز ایوان صدر میں فوج کے سربراہ جنرل اشفاق پرویز کیانی سے ملاقات میں کہی۔ ملاقات میں پاکستانی صدر اور جنرل کیانی نے قبائلی علاقوں میں موجودہ عسکریت پسندی اور اس سے نمٹنے کے طریقوں پر غور کیا ۔ صدر نے اس بات پر اطمینان کا اظہار کیا کہ مسلح افواج مشکل حالات کا مقابلہ کرنے کی صلاحیت رکھتی ہیں۔
بعد میں وزیراعظم یوسف رضا گیلانی اور حکمران اتحاد میں شامل عوامی نیشنل پارٹی کے سربراہ اسفند یار ولی نے بھی صدر زرداری سے ملاقات کی جس میں عسکریت پسندی کے مسئلے سے نمٹنے کے لئے حکمت عملی پر تبادلہ خیال ہوا۔ اس ملاقات میں فوج کے سربراہ بھی موجود تھے۔صدر نے کہا کہ ملک کو انتہا پسندی اور دہشت گردی سے بچانے کے لیے ضروری ہے کہ قوم اپنی صفوں میں اتحاد برقرار رکھے۔
وزیراعظم گیلانی نے کہا کہ حکومت نے قبائلی علاقوں کی ترقی کا عزم کر رکھا ہے تاکہ وہاں کے لوگوں میں منفی رجحانات کو روکنے میں مدد ملے ۔ اسفند یارولی نے گذشتہ جمعرات کو چارسدہ میں اپنی رہائش گاہ پر ہونے والے خودکش حملے کا ذمہ دار غیر ملکی عناصر کو ٹھہرایا تاہم ان کے بقول اس طرح کے بزدلانہ واقعات ان کی پارٹی کوملک میں امن واستحکام کے قیام کی پالیسیوں پر عمل کرنے سے نہیں روک سکتے۔ انہوں نے قبائلی علاقوں میں عسکریت پسندوں کے خلاف قبائلی لشکروں کی تشکیل کو اچھا شگون قرار دیا اور کہا کہ اس کے مثبت نتائج برآمد ہوں گے۔