بھارت امریکہ غیر فوجی جوہری تعاون معاہدے پر صدر بش جلد دستخط کر دیں گے:وزیر خارجہ رائس
سہیل انجم نئی دہلی October 4, 2008
نئی دہلی میں امریکی وزیر خارجہ رائس بھارتی وزہر خارجہ پنب مکھر جی کے ساتھ
امریکی وزیرِ خارجہ کانڈولیزا رائس نے جو کہ اس وقت دہلی کے دورے پر ہیں کہا ہے کہ بھارت امریکہ غیر فوجی جوہری تعاون معاہدہ تاریخی کامیابی ہے، اور اس پر بہت جلد دستخط ہو جائیں گے۔
اُنہوں نے کہا کہ معاہدہ 123جلد ہی ایک حقیقت میں تبدیل ہونے والا ہے۔
امریکی وزیرِ خارجہ نے اپنے بھارتی ہم منصب پرنب مکھرجی سے ملاقات کے بعد ایک مشترکہ پریس کانفرنس میں کہا کہ مریکہ معاہدہ 123اور ہائی ٹیک دونوں میں اپنے عہد کا پابند ہے۔اُن کے الفاظ میں: ’معاہدہ 123ہائی ٹیک کے مطابق ہے اور ہائی ٹیک معاہدہ 123کے۔‘
ایک سوال کے جواب میں اُنہوں نے کہا کہ انتظامی معاملات کی وجہ سے دستخط میں دیر ہو رہی ہے۔
ادھر، بھارتی وزیرِ خارجہ پرنب مکھرجی نے کہا کہ دونوں ممالک تعمیری مذاکرات سے بہت مطمئن ہیں اور نیوکلیئر ڈیل سے متعلق تمام کارروائیاں مکمل ہو چکی ہیں۔
اُنہوں نے کہا کہ جب امریکی صدر معاہدے پر دستخط کردیں گے تو تمام کارروائیاں مکمل ہو جائیں گی اور اُس کے بعد ہم کسی بھی متفقہ تاریخ پر معاہدہ 123پر دستخط کردیں گے۔
اس سے پیشتر دہلی آمد کے فوری بعد، کانڈولیزا رائس نے اپنے بھارتی ہم منصب پرنب کھرجی سے ملاقات کی ۔
پروگرام کے مطابق، دن کے دو بجے معاہدے پر دستخط ہونے تھے۔ لیکن ذرائع کا کہنا ہے کہ بھارت چاہتا تھا کہ پہلے امریکی صدر معاہدے پر دستخط کریں اور ایندھن کی سپلائی کو یقینی بنانے کے معاملے پر وضاحتی بیان دیں، کیونکہ اس معاملے پر دہلی میں کافی شکوک و شبہات ہیں۔
اس موقعے پر کانڈولیزا رائس اور پرنب مکھرجی نے ایک مشترکہ اخباری کانفرنس کی جس کے دوران رائس نے معاہدپر دستخط میں ہونے والی تاخیر پر روشنی ڈالی اور کہا کہ امریکی صدر بش جلد از جلد معاہدے اور قانون پر دستخط کرنا چاہتے ہیں، لیکن بعض انتظامی کارروائیوں کو مکمل کیے جانے کے سبب اس میں تاخیر ہو رہی ہے۔
اُنہوں نے کہا کہ ابھی دو روز قبل ہی امریکی کانگریس نے معاہدے کو منظور کیا ہے۔
دوسری طرف بھارت کی کیمونسٹ جماعتوں نے اس معاہدے پر اپنا احتجاج جاری رکھا ہوا ہے، ان کا کہنا ہے کہ بھارت نے اپنی خودمختاری امریکی سامراج کو حوالے کر دی ہے۔
اپنے دورے میں، امریکی وزیرِ خارجہ بھارتی وزیرِ اعظم من موہن سنگھ، کانگریس کی صدر سونیا گاندھی اور اپوزیشن لیڈر ایل کے ایڈوانی سے بھی ملاقات کر رہی ہیں۔