جب کہ امریکی انتخابات میں صرف ایک ماہ باقی رہ گیا ہے،امریکی صدارتی انتخاب کے دونوں امیدواروں نےاپنی مہم کے انداز میں تبدیلی کردی ہے۔
دونوں ڈیموکریٹک پارٹی کے امیدوار براک اوباما اور ری پبلیکن امیدوار جان مک کین نے مالی بحران پر ترجیحی توجہ مرکوز کر لی ہے۔ مشکل میں گھری ہوئی مالی صنعت کوسہارا دینے کے لیے سات کھرب ڈالر کے معاشی بحالی کے پیکیج کو قانونی حیثیت ملنے کے بعد اوباما نے صحتِ عامہ کی طرف دھیان مبذول کرنا شروع کر دیا ہے۔
اوبامانے آج ہفتے کے روز ورجینا میں ایک ریلی سے خطاب کرتے ہوئےاپنے حریف کے صحتِ عامہ سے متعلق ایجنڈے کو دقیانوسی قرار دیا۔
اوباما کی انتخابی مہم چلانے والوں کو کہنا ہے کہ صحت سے متعلق مک کین کے منصوبےسے لاکھوں امریکیوں کو نقصان پہنچے گااور لاکھوں شہری اپنے ہیلتھ انشورنس سے ہاتھ دھو بیٹھیں گے۔
ری پبلیکن پارٹی کے عہدے دار، اِن الزامات کو غلط قرار دے رہے ہیں۔ اُن کا کہنا ہے کہ مک کین اپنے حریف کے کردار کو ہدف بنائیں گے۔
جمعے کے روز سے ٹیلی ویژن پرآنےوالے ایک اشتہار میں اِس بات کا الزام لگایا گیا ہے کہ اوباما نے اپنے ٹیکس دائر کرتے وقت سچ سے کام نہیں لیا۔
مک کین اس وقت اریزونا ریاست میں ہیں اور ہفتے کو میڈیا کو انٹرویو دیں گے۔منگل کے روز دونوں امیدوار ریاست ٹینی سی کے شہر نیش ویل میں دوسرے مباحثے میں شرکت کریں گے۔
دریں اثنا ری پبلکن پارٹی کی نائب صدارت کی امیدوار سارہ پیلن نے اوباما پر الزام لگایا ہے کہ ان کے ایک دہشت گرد سے مراسم رہے ہیں۔ بقول ان کے سینیٹراوباما کے ایلی نوائے کے ایک پروفیسر ولیم ایئرزکے ساتھ مراسم رہے ہیں ، جو 40 سال ویت نام جنگ کی مخالفت کرتے ہوئے ملکی دہشت گرد گروپ کے رکن تھے۔
اوباما کی انتخابی مہم کے منتظمین کا کہنا ہے کہ یہ الزام تراشی امریکی ووٹروں کی ملک کی بگڑتی ہوئی معاشی حالت سے توجہ ہٹانے کا ایک حربہ ہے۔