’تیری یاد آ گئی، سو چراغ جل گئے‘ ۔۔۔ مسعود رانا کی یاد میں
October 5, 2008
مسعود رانا
چار اکتوبر کو ہر دل عزیز گلوکار مسعود رانا کی 13ویں برسی منائی گئی۔ ان کا انتقال 1995ء میں ہوا تھا۔ مسعود رانا کا تعلق سندھ سے تھا۔ انھوں نے ریڈیو حیدرآباد سے گلوکاری کا آغاز کیا تھا۔ کراچی میں ان کی دوستی گلوکار اخلاق احمد اور اداکار ندیم سے ہو گئی۔ تاہم یہ بابا جی اے چشتی کی نگہ گہرشناس تھی، جس نے مسعود رانا کی آواز میں چھپے جوہر کو پرکھ لیا۔ بابا نے انھیں فلمی دنیا سے متعارف کروایا۔ 1962ء میں مسعود رانا کو فلم میں گانے کا موقع ملا۔ ان کا پہلا گانا تھا ’مشرق کی تاریک فضا میں نیا سویرا پھوٹا ہے۔‘ تاہم انھیں صحیح معنوں میں ملک گیر شہرت فلم بنجارن سے ملی، جس کے بعد وہ دیکھتے ہی دیکھتے وہ ’پاکستانی رفیع‘ کی حیثیت سے مشہور ہو گئے۔
رفیع کی طرح مسعود رانا بھی ہر قسم کے گانے گانے میں مہارت رکھتے تھے۔ ہلکے پھلکے رومانٹک گانے ہوں، المیہ دھنیں ہوں، شوخ گانے یا پھر لمبی تانیں، مسعود رانا ہر مرحلے سے خوبی سے گزرتے تھے۔ موسیقار خاص طور ایسے مشکل گانے ان سے گواتے تھے جن میں بہت اونچے سروں میں گانا پڑتا تھا۔ مسعود رانا کے چند یادگار گانے مندرجہ ذیل ہیں:
تیری یاد آ گئی، غم خوشی میں ڈھل گئے
جھوم اے دل وہ میرا جانِ بہار آئے گا
تیرے بنا یوں گھڑیاں بیتیں جیسے صدیاں بیت گئیں
ٹانگے والا خیر منگدا
مجھے چھوڑ کر اکیلا
سجناں نے بوہے اگے چق تان لئی
مسعود رانا اپنے لاکھوں چاہنے والوں سے 1995ء میں ہمیشہ کے لیے بچھڑ گئے لیکن ان کی یادوں کے چراغ موسیقی کے شائقین کے دلوں میں ہمیشہ روشن رہیں گے۔