بھارتی کشمیر کے دارالحکومت میں آزادی کے مطالبے کے حق میں پیر کو ہونے والےعام جلسے کو روکنے کے لیے پورے کشمیر کو عملاً فوجی چھاونی میں تبدیل کر دیا گیا ہے۔
ہزاروں کی تعداد میں پولیس اور نیم فوجی دستے ہفتے اور اتوار کی درمیانی شب سے نافذ کرفیو پر عمل درآمد کرا رہے ہیں۔ جبکہ حسّاس علاقوں میں فوج طلب کر لی گئی ہے۔
سری نگر کی اہم شاہراہوں پررکاوٹیں کھڑی کر کے لوگوں کی آمد و رفت کو روکا گیا ہے۔ متعدد کشمیری کارکنوں اور لیڈروں کو یا تو گرفتار کر لیا گیا ہے یا ان کو ان کے گھروں میں نظر بند کر دیا گیا ہے۔
اس کے باوجود سری نگر کے پرانے شہر میں کچھ لوگ کرفیو کی خلاف ورزی کرتے ہوئے سڑک پر نکل آئے اور حکومت مخلاف مظاہرہ کیا، پولیس نے ہجوم کو منتشر کرنے کے لیے آنسو گیس پھینکی اور لاٹھی چارج کیا، کئی افراد کے زخمی ہونے کی بھی اطلاع ہے۔ اسی طرح ایک اور شہر بارہ مولا میں میں بھارت مخالف مظاہرہ ہوا۔
سری نگر سے شائع ہونے والے اخبارات چھپنے کے باوجود تقسیم نہیں کیے جا سکے۔ صحافتی حلقوں نے حکومت پر الزام لگایا ہے کہ وہ ان کو کرفیو پاس جاری کرنے میں لیت و لعل سے کام لے رہی ہے۔
ادھر نظر بند کشمیری رہنما سید علی شاہ گیلانی کو گذشتہ رات سینے میں شدید درد کی شکایت کے بعد انہیں ہسپتال میں داخل کر دیا گیا ہے، جہاں ان کی حالت بہتر بتائی جاتی ہے۔