امریکی وزیر خارجہ کانڈلیزا رائس اتوار کے روز سیکیورٹی اور توانائی میں تعاون پر مذاکرات کے لیے قزاقستان پہنچ گئی ہیں۔
وہ صدر نور سلطان نذر بایوف اور دوسرے سرکاری عہدے داروں سے ملاقات کررہی ہیں اور توقع ہے کہ وہ سابق سوویت جمہوریہ میں سیکیورٹی، سیاسی اور اقتصادی اصلاحات پر بھی گفتگو کریں گی۔
کونڈولیزارائس نے اتوار کے روز کہا کہ قزاقستان کے ساتھ قریب تر تعلقات قائم کرنے کی امریکی کوششوں کا مقصد وسطی ایشیا میں روس کے عمل دخل کو متاثر کرنا نہیں ہے۔
صدر نذر بایوف نے ماسکو کے ساتھ قریبی تعلقات برقرار رکھے ہوئے ہیں جب کہ اس نے امریکہ کو قزاقستان کی تیل اور گیس کی صنعت میں متعدد انداز سے تعاون کی اجازت بھی دے رکھی ہے۔
کانڈولیزارائس بھارت کے دورے کے بعد قزاقستان پہنچی ہیں۔ بھارت میں انہیں تاریخی جوہری تجارتی معاہدے پر دستخط کرنا تھے۔ تاہم معاہدے پر دستخطوں میں تاخیر ہوگئی ہے۔ رائس نے نامہ نگاروں کو بتایا کہ بھارت پر سے شہری مقاصد کے لیے جوہری تجارت کی 34 پابندی کے خاتمے کے معاہدے پر دستخط ہونے سے پہلے کچھ انتظامی تفصیلات کو طے کرنا ہوگا۔