Urdu ▪ وائس آف امریکہ
غیر جانبدار خبریں  |  دلچسپ معلومات

صرف متن
Search

کیا بیل آؤٹ پلان معیشت کو بحران سے نکال سکے گا؟


October 6, 2008
اس رپورٹ کی ویڈیو - ڈاؤن لوڈ کیجیئے (Real) video clip
اس رپورٹ کی ویڈیو - Watch (Real) video clip

Federal Reserve Chairman Ben Bernanke, right, and Treasury Secretary Henry Paulson testify on Capitol Hill in Washington, before the Senate Banking Committee, 23 Sep 2008
وزیر خزانہ پالسن (بائیں) اور مرکزی بینک کے چیف برنیکی
دو ہفتوں سے جاری بحث و مباحثے ،دومرتبہ ایوان نمائندگان سے  منظوری کی کوشش کے بعد کانگریس نے بالآخرامریکی  معیشت کو بحران سے نکالنے کے امدادی منصوبے کو منظوری دے ہی دی ۔مگر یہ بیل آؤٹ بل  منظور ہونے کے بعد بھی  کئی سوالوں کے جواب  ابھی حل طلب ہیں ۔
 
معیشت کو بحران سے نکالنے کے لئے منظور کئے گئے 700ارب ڈالر کا منصوبہ کیسے کام کرے گا ،امریکی محکمہ خزانہ ابھی اس کی تفصیلات پر کام کر رہا ہے ۔امدادی منصوبے کا مقصد امریکہ کے مالیاتی نظام پر سرمایہ کاروں اور عوام کا اعتماد بحال کرنا اور معیشت کی صورتحال بہتر بنانا ہے ۔صدر بش امریکی عوام کو بار بار خبردار کر رہے ہیں کہ جس بل کی منظوری کانگریس دے چکی ہے  اور جس پر انہوں نے دستخط بھی کر دیئے ہیں ،اس سے فوری طور پر زیادہ توقعات وابستہ کرنا درست نہیں ۔

اپنے ایک ریڈیو خطاب میں انہو ں نے کہا کہ ان اقدامات سے ہم معیشت کو بحالی کی راہ پر ڈال سکتے ہیں،میری انتظامیہ جس قدر جلد ممکن ہے اقدامات کرے گی مگر اس منصوبے کے فوائد سامنے آنے میں وقت لگے گا ۔فیڈرل گورنمنٹ اس امدادی منصوبے کو نہایت احتیاط سے آگے بڑھائے گی تاکہ آپ کے ٹیکس کی رقم ضائع نہ ہو ۔
 
صدر بش نے اپنے تازہ ریڈیو خطاب میں یہ یقین دہانی بھی کرائی ہے کہ 700ارب ڈالر کے منصوبے کا زیادہ بوجھ ٹیکس دہندگان پر نہیں ڈالا جائے گا ۔حکومت بینکوں سے جو اثاثے خریدے گی وہ بالکل ہی بے قیمت نہیں ہونگے اور وقت کے ساتھ ان کی قیمت اوپر جانے سے حکومت کو فائدہ ہی پہنچے گا ۔

مگر یہ سوال اپنی جگہ موجود ہیں کہ امریکی حکومت کس قیمت پر ڈوبے قرضوں والے اثاثے خریدے گی اور اگر امریکی محکمہ خزانہ ان اثاثوں کی دیکھ بھال نہیں کرے گاتو کون کرے گا ؟معاشی ماہرین کے مطابق ان سوالوں کے درست جواب ہی یہ فیصلہ کریں گے کہ آیا منصوبہ کامیاب ہو گا یا نہیں ۔اور کیا ٹیکس دہندگان کو ایک نہ ایک دن ان کا پیسہ واپس مل سکے گا یا نہیں ۔

نیو یارک سٹاک ایکسچینج کو اس منصوبے کی منظوری سے فوری سہارا تو ملا ہے مگرمعیشت دان ابھی زیادہ خوش فہمی میں مبتلا نظر نہیں آتے۔

 ایک معاشی تجزیہ کار ڈیوڈ وائس کہتے ہیں کہ کیا بحران ٹل گیا ہے مجھے ایسا نہیں لگتا ؟میرے خٰیال میں ابھی ہماری مشکلات حل نہیں ہوئیں ۔مگر یہ ہے کہ اس منصوبے سے ہمیں صدارتی انتخابات تک کی مہلت مزید مل گئی ہے ۔باقی کے معاملات نیا امریکی صدر آکر سنبھالے گا ۔

تو جہاں مکین اور اوباما ، دونوں  اس سوال کا جائزہ لے رہے ہیں کہ  امریکہ کا اقتدار سنبھالتے ہی دیوالیہ ہوتے بینکوں اور قرقی کی شکار ہاوسنگ  مارکیٹ پرسرمایہ کاروں اور عوام کا اعتماد بحال کرنےکے چیلینج سے کیسے نمٹا جائے گا  ۔وہاں امریکی شہریوں کے لئے، جوگزشتہ ہفتے امریکی حکومت کی جاری کردہ رپورٹ کے مطابق صرف ستمبر کے مہینے میں تقریباً ایک لاکھ ساٹھ ہرار ملازمتوں سے محروم ہو چکے ہیں اور  پہلے ہی 6.1فیصد بے روزگاری کا شکار ہیں ،اہم سوال یہ ہے کہ کیا یہ  منصوبہ انہیں  بے روزگاری سے  بچا سکے گا ؟مگر ابھی انہیں اس کی کوئی ضمانت نہیں دی گئی ۔بعض  ماہرین اس معاشی بحران کو گیارہ ستمبر کے بعدمعیشت کا سب سے بڑا بحران قرار دے رہے ہیں۔جس کا ابھی صرف آغاز ہی ہوا  ہے۔

عالمی معیشت کی تشویش بھی ابھی دور نہیں ہوئی ۔ فرانس کے صدر نکولس سرکوزی اس بحران کو  فری مارکیٹ اکانومی کا وقت آخر قرار دے چکے ہیں اور ان کا کہنا ہے کہ دنیا بھر کے مالیاتی اور مونیٹری نظام کو نئے سرے سے  تشکیل دینے کی  ضرورت ہے جیسے دوسری جنگ عظیم کے بعد کیا گیا تھا  ۔

emailme.gif اس صفحے کو ای میل کیجیے
printerfriendly.gif قابل چھپائی صفحہ

  اہم ترین خبر
ترکی میں سہ فریقی سربراہ اجلاس

  مزید خبریں
کشیدگی میں اضافے سے بھارتی فلم ڈسٹری بیوٹرز پریشان
دہشت گرد دنیا کے کسی ملک کو بڑے پیمانے پر تباہی پھیلانے والے ہتھیاروں کانشانہ بنا سکتے ہیں: رپورٹ  Video clip available
آئی ایم ایف کا قرضہ پرانے قرضے چکانے کے لیے استعمال ہوگا  Video clip available
صوفیانہ شاعر ی میں نسوانی آوازیں  Video clip available
ممکنہ فضائی حملوں کی دھمکی کے بعد بھارتی ہوائی اڈوں پر ہائی الرٹ
ممبئی حملوں سے لشکرِ طیبہ کا کوئی تعلق نہیں: حافظ سعید کے ترجمان کا بیان
مہاراشٹر کے وزیرِ اعلیٰ نے ممبئی حملوں کی اخلاقی ذمے داری قبول کرتے ہوئے استعفیٰ دے دیا
پی سی بی میں بڑے پیمانے پر اصلاحات کا اعلان
بابری مسجد کی شہادت کی یاد میں
بانی ... نئی غزل کی منفرد آواز
امریکی فوجیں مزید تین سال تک عراق میں رہی گی
بنگلہ دیشی مصوروں کی نمائش، پریشانی میں سکون
یورپی بینکوں نے شرحِ سُود کم کردی
امریکہ کے ساتھ مثبت تعلقات کی اُمید ہے: پُوتن
زمبابوے میں ہیضے کی وبا اور حفظانِ صحت کے نظام کا خاتمہ
امریکا اپنی معیشت کو مستحکم بنائے: چین
بھارتی لوگوں کے رویے میں تبدیلی نہیں آئی: ممبئی سے واپس آنے والے پاکستانی فنکار    
سعودی عرب میں حج کے لیے زبردست حفاظتی انتظامات
بھارت کو دہشت گردی کے خلاف روسی مدد کی پیش کش
بھارت نوجوان نسل کو تعلیم اور تربیت فراہم کرے: رپورٹ
امریکی کار ساز کمپنیاں حکومت سے امداد کی منتظر ہیں
رفعت سروش کے انتقال کے ساتھ ترقی پسند ادب کے ایک عہد کا خاتمہ
افغانستان کے مستقبل کے بارے میں اقوامِٕ متحدہ کے مشن کی محتاط رائے  
”پاکستانی قیادت کے ذمہ دارانہ اور تسلی بخش دلائل“  Video clip available
”ممبئی حملوں اور پاکستانی تنظیموں کے مابین تعلق کی تحقیقات کی جائیں“
”زرداری نے یقین دلایا ہے کہ شواہد ملے تو کارروائی کریں گے“
کیا امریکہ 1930 کی کساد بازاری کی طرف بڑھ رہاہے؟  Video clip available
اوباما نے نیو میکسیکو کے  گورنر بل رچرڈ سن کو اپنی اقتصادی ٹیم میں شامل کرلیا  Video clip available
ممبئی حملے: حکومت کے خلاف عوامی برہمی میں اضافہ
اقتصادی بحران کےجلد خاتمے کے لیے  کوشش کریں گے : اوباما
ملکہ برطانیہ کا پارلیمنٹ سے خطاب: معیشت  کی بحالی سرفہرست
بان کی مون کا صدر زرداری کو فون
آدھی رات کا سورج ۔۔۔ بارھویں قسط: خوابوں خیالوں کا شہر
’پانچ سال کے اندر دنیا میں دہشت گردوں کی طرف سے بڑے حملے کا خدشہ‘
اسرائیل نے غرب ِ اردن میں پولیس بھیج دی
برما : سیاسی قیدی دور دراز جیلوں میں منتقل
افغانستان: 13 عسکریت پسند ہلاک
بنکاک: مظاہروں کے بعد پہلی پرواز  کی آمد
زمبابوے: پولیس نے دو مظاہرے منشتر کردیے
جاپان: شہنشاہ آکی ہیتو علیل، سرکاری مصروفیات منسوخ
بھارت کا گیارہ ستمبر؟
چین: نرسنگ ہوم میں آتش زدگی، 7 افراد ہلاک
فلپائن: باغیوں کے حملے میں پانچ فوجی ہلاک