وزیر خزانہ پالسن (بائیں) اور مرکزی بینک کے چیف برنیکی
دو ہفتوں سے جاری بحث و مباحثے ،دومرتبہ ایوان نمائندگان سے منظوری کی کوشش کے بعد کانگریس نے بالآخرامریکی معیشت کو بحران سے نکالنے کے امدادی منصوبے کو منظوری دے ہی دی ۔مگر یہ بیل آؤٹ بل منظور ہونے کے بعد بھی کئی سوالوں کے جواب ابھی حل طلب ہیں ۔
معیشت کو بحران سے نکالنے کے لئے منظور کئے گئے 700ارب ڈالر کا منصوبہ کیسے کام کرے گا ،امریکی محکمہ خزانہ ابھی اس کی تفصیلات پر کام کر رہا ہے ۔امدادی منصوبے کا مقصد امریکہ کے مالیاتی نظام پر سرمایہ کاروں اور عوام کا اعتماد بحال کرنا اور معیشت کی صورتحال بہتر بنانا ہے ۔صدر بش امریکی عوام کو بار بار خبردار کر رہے ہیں کہ جس بل کی منظوری کانگریس دے چکی ہے اور جس پر انہوں نے دستخط بھی کر دیئے ہیں ،اس سے فوری طور پر زیادہ توقعات وابستہ کرنا درست نہیں ۔
اپنے ایک ریڈیو خطاب میں انہو ں نے کہا کہ ان اقدامات سے ہم معیشت کو بحالی کی راہ پر ڈال سکتے ہیں،میری انتظامیہ جس قدر جلد ممکن ہے اقدامات کرے گی مگر اس منصوبے کے فوائد سامنے آنے میں وقت لگے گا ۔فیڈرل گورنمنٹ اس امدادی منصوبے کو نہایت احتیاط سے آگے بڑھائے گی تاکہ آپ کے ٹیکس کی رقم ضائع نہ ہو ۔
صدر بش نے اپنے تازہ ریڈیو خطاب میں یہ یقین دہانی بھی کرائی ہے کہ 700ارب ڈالر کے منصوبے کا زیادہ بوجھ ٹیکس دہندگان پر نہیں ڈالا جائے گا ۔حکومت بینکوں سے جو اثاثے خریدے گی وہ بالکل ہی بے قیمت نہیں ہونگے اور وقت کے ساتھ ان کی قیمت اوپر جانے سے حکومت کو فائدہ ہی پہنچے گا ۔
مگر یہ سوال اپنی جگہ موجود ہیں کہ امریکی حکومت کس قیمت پر ڈوبے قرضوں والے اثاثے خریدے گی اور اگر امریکی محکمہ خزانہ ان اثاثوں کی دیکھ بھال نہیں کرے گاتو کون کرے گا ؟معاشی ماہرین کے مطابق ان سوالوں کے درست جواب ہی یہ فیصلہ کریں گے کہ آیا منصوبہ کامیاب ہو گا یا نہیں ۔اور کیا ٹیکس دہندگان کو ایک نہ ایک دن ان کا پیسہ واپس مل سکے گا یا نہیں ۔
نیو یارک سٹاک ایکسچینج کو اس منصوبے کی منظوری سے فوری سہارا تو ملا ہے مگرمعیشت دان ابھی زیادہ خوش فہمی میں مبتلا نظر نہیں آتے۔
ایک معاشی تجزیہ کار ڈیوڈ وائس کہتے ہیں کہ کیا بحران ٹل گیا ہے مجھے ایسا نہیں لگتا ؟میرے خٰیال میں ابھی ہماری مشکلات حل نہیں ہوئیں ۔مگر یہ ہے کہ اس منصوبے سے ہمیں صدارتی انتخابات تک کی مہلت مزید مل گئی ہے ۔باقی کے معاملات نیا امریکی صدر آکر سنبھالے گا ۔
تو جہاں مکین اور اوباما ، دونوں اس سوال کا جائزہ لے رہے ہیں کہ امریکہ کا اقتدار سنبھالتے ہی دیوالیہ ہوتے بینکوں اور قرقی کی شکار ہاوسنگ مارکیٹ پرسرمایہ کاروں اور عوام کا اعتماد بحال کرنےکے چیلینج سے کیسے نمٹا جائے گا ۔وہاں امریکی شہریوں کے لئے، جوگزشتہ ہفتے امریکی حکومت کی جاری کردہ رپورٹ کے مطابق صرف ستمبر کے مہینے میں تقریباً ایک لاکھ ساٹھ ہرار ملازمتوں سے محروم ہو چکے ہیں اور پہلے ہی 6.1فیصد بے روزگاری کا شکار ہیں ،اہم سوال یہ ہے کہ کیا یہ منصوبہ انہیں بے روزگاری سے بچا سکے گا ؟مگر ابھی انہیں اس کی کوئی ضمانت نہیں دی گئی ۔بعض ماہرین اس معاشی بحران کو گیارہ ستمبر کے بعدمعیشت کا سب سے بڑا بحران قرار دے رہے ہیں۔جس کا ابھی صرف آغاز ہی ہوا ہے۔
عالمی معیشت کی تشویش بھی ابھی دور نہیں ہوئی ۔ فرانس کے صدر نکولس سرکوزی اس بحران کو فری مارکیٹ اکانومی کا وقت آخر قرار دے چکے ہیں اور ان کا کہنا ہے کہ دنیا بھر کے مالیاتی اور مونیٹری نظام کو نئے سرے سے تشکیل دینے کی ضرورت ہے جیسے دوسری جنگ عظیم کے بعد کیا گیا تھا ۔