Urdu ▪ وائس آف امریکہ
غیر جانبدار خبریں  |  دلچسپ معلومات

صرف متن
Search

بہار کے سیلاب زدگان کی عید


October 6, 2008

Flood victims stand in a queue to receive food at a relief camp in Saharsa, in the northern Indian state of Bihar, Tuesday, Sept. 23, 2008
سیلاب زدگان قطار میں کھڑے امدادی سامان ملنے کا انتظار کر رہے ہیں
عید الفطر خوشی کا تہوار ہے اور دنیا میں جہاں جہاں مسلمان بستے ہیں یہ تہوار خوشی و مسرت کے ساتھ منایا جاتا ہے۔ اس بار بھی ساری دنیا میں عید منائی گئی مگر کوسی کے سیلاب زدگان کی عید سب سے الگ، سب سے مختلف اور سب سے جدا تھی۔
 
کوسی ندی میں 18اگست کو طغیانی آئی تھی اورا س نے بہار کے 5 اضلاع سپول، مدھے پورہ، سہرسہ، ارریہ اور پورنیہ کی 35 لاکھ سے زائد آبادی کو متاثر کر دیا تھا۔ اس کے دھارے میں ہزاروں گاؤں بہہ گئے او ر سیکڑوں بستیاں ویران ہوگئیں۔ ان بستیوں کے افراد نے خانماں برباد ہو کر جہاں جگہ ملی وہاں پناہ لے لی۔ ان میں ہندو بھی تھے اور مسلمان بھی۔ کیوں کہ سیلاب کسی کا مذہب نہیں دیکھتا۔ ذات پات اور رنگ و نسل کی بھی تفریق نہیں کرتا۔

حکومت نے سیلاب زدگان کے لیے راحت کیمپ بنوائے جن میں ہزاروں بے گھر افراد اب بھی پناہ گزیں ہیں، کیوں کہ بستیوں سے پانی نکل جانے کے باوجود وہاں زندگی کے آثار نہیں ہیں۔ بستیاں بالکل ویران ہو چکی ہیں۔ لوگوں کی رہائش کے لیے کچھ بچا ہی نہیں ہے۔اس لیے ان کے پاس راحت کیمپوں میں رہنے کے سوا کوئی چارہ نہیں ہے۔

اسی درمیان رمضان المبارک آگیا۔ان برباد شدہ اشخاص کے پاس نہ سامانِ سحری تھا اور نہ سامانِ افطار۔ کسی طرح ان لوگوں نے روزے رکھے اور اس وقت لوگوں کو اندازہ ہوا کہ گھائل کی گت گھائل ہی جانتا ہے۔ اسی لیے تمام ہندو بھائیوں نے مسلمانوں کی روزہ رکھنے میں مدد کی۔

راحت کیمپوں سے جو اشیا ملتی تھیں اسی سے وہ لوگ اپنے مسلم بھائیوں کو افطار و سحر کا سامان فراہم کرتے تھے اور اس طرح سے مسلمانوں نے پورا ماہ صیام گزارا۔ ایک طرح سے مولانا حسرت موہانی کا شعر ان پر بھی صادق آتا تھا:

کٹ گیا قید میں ماہ رمضاں بھی حسرت
نہ تو سامان سحر کا تھا نہ افطاری کا

اور جب ساری دنیا عید الفطر کی خوشیاں منا رہی تھی تو ان بے یارو مدد گار مسلمانوں کے پاس کچھ بھی نہیں تھا۔ سارا بھروسا اللہ تعالی کی ذات پر تھااور حکومت یا رضا کار اداروں کی جانب سے انہیں جو راحت سامان دستیاب ہوئے۔ اسی پر صبر و شکر کرنا پڑا۔

انہی راحت کیمپوں میں سیلاب زدگان نے نماز عید الفطر ادا کی۔ لیکن نماز عید الفطر کی ادائیگی کے بعد انہیں اپنے درمیان بہار کے وزیر اعلی نتیش کمار کو دیکھ کر خوشگو ار حیرت ہوئی۔ ایک طرح سے نتیش کمار نے سانتا کلاز کا کردا ر ادا کیا۔ وہ وہاں پہنچ کر مسلم بھائیوں سے گلے ملے اور ان کے درمیان نئے کپڑے، دودھ، سوئیاں، لچھے اور شیرینی تقسیم کی۔ وہ ان تمام میگا کیمپوں میں گئے جہاں جہاں خانما ں برباد مسلمان رہ رہے تھے۔

 بعد میں انہوں نے ان حرماں نصیب اشخاص کو خطاب کرتے ہوئے کہا ”بلا شبہ سیلاب نے آپ کے گھروں کوبرباد کر دیا ہے۔سب کچھ تباہ و برباد کر دیا ہے لیکن میں آپ لوگوں کو یقین دلاتا ہوں کہ آپ کی بستیوں کو نئے سرے سے آباد کیا جائے گا۔ سبھوں کے گھروں کی تعمیر حکومت اپنے خرچ پر کروائے گی۔ ا س کام کے لیے حکومت کو رضا کار تنطیموں کی جانب سے مدد مل رہی ہے اور ساری دنیا کی ہمدردیاں آپ لوگوں کے ساتھ ہیں۔ “

وزیر اعلی نے نہایت جذباتی انداز میں کہا کہ آج عید کا دن ہے اور اس خیال نے میرے ذہن کو اس طرح سے جھنجھوڑا کہ میں راجدھانی پٹنہ میں نہ رہ سکا بلکہ آپ لوگوں سے ملنے کے لئے یہاں چلا آیا۔ میں آپ سب لوگوں کو یہ احساس دلانا چاہتا ہوں کہ نہ صرف میری اور ہماری حکومت کی ہمدردیاں آپ کے ساتھ ہیں بلکہ پوری دنیا کے انسان دوست آپ لوگوں کے جذبات و احساسات میں شریک ہیں۔

سیلاب زدگان کے ساتھ عید منا کر وزیر اعلیٰ کے جو بھی احساسات رہے ہوں مگر بہر حال مصیبت زدہ مسلمانوں نے ضرور اس سے سکون کا سانس لیا اور انہوں نے محسوس کیا کہ بے حس کوسی ندی نے انہیں ضرور تباہ و برباد کر دیا لیکن دنیا کے حساس انسان مصیبت کے وقت ان کے ساتھ ہیں۔

emailme.gif اس صفحے کو ای میل کیجیے
printerfriendly.gif قابل چھپائی صفحہ

  اہم ترین خبر
اورکزئی ایجنسی میں خود کش حملے میں چھ افراد ہلاک

  مزید خبریں
ترکی میں سہ فریقی سربراہ اجلاس
کشیدگی میں اضافے سے بھارتی فلم ڈسٹری بیوٹرز پریشان
دہشت گرد دنیا کے کسی ملک کو بڑے پیمانے پر تباہی پھیلانے والے ہتھیاروں کانشانہ بنا سکتے ہیں: رپورٹ  Video clip available
آئی ایم ایف کا قرضہ پرانے قرضے چکانے کے لیے استعمال ہوگا  Video clip available
صوفیانہ شاعر ی میں نسوانی آوازیں  Video clip available
ممکنہ فضائی حملوں کی دھمکی کے بعد بھارتی ہوائی اڈوں پر ہائی الرٹ
ممبئی حملوں سے لشکرِ طیبہ کا کوئی تعلق نہیں: حافظ سعید کے ترجمان کا بیان
مہاراشٹر کے وزیرِ اعلیٰ نے ممبئی حملوں کی اخلاقی ذمے داری قبول کرتے ہوئے استعفیٰ دے دیا
پی سی بی میں بڑے پیمانے پر اصلاحات کا اعلان
بابری مسجد کی شہادت کی یاد میں
بانی ... نئی غزل کی منفرد آواز
امریکی فوجیں مزید تین سال تک عراق میں رہی گی
بنگلہ دیشی مصوروں کی نمائش، پریشانی میں سکون
یورپی بینکوں نے شرحِ سُود کم کردی
امریکہ کے ساتھ مثبت تعلقات کی اُمید ہے: پُوتن
زمبابوے میں ہیضے کی وبا اور حفظانِ صحت کے نظام کا خاتمہ
امریکا اپنی معیشت کو مستحکم بنائے: چین
بھارتی لوگوں کے رویے میں تبدیلی نہیں آئی: ممبئی سے واپس آنے والے پاکستانی فنکار    
سعودی عرب میں حج کے لیے زبردست حفاظتی انتظامات
بھارت کو دہشت گردی کے خلاف روسی مدد کی پیش کش
بھارت نوجوان نسل کو تعلیم اور تربیت فراہم کرے: رپورٹ
امریکی کار ساز کمپنیاں حکومت سے امداد کی منتظر ہیں
رفعت سروش کے انتقال کے ساتھ ترقی پسند ادب کے ایک عہد کا خاتمہ
افغانستان کے مستقبل کے بارے میں اقوامِٕ متحدہ کے مشن کی محتاط رائے  
”پاکستانی قیادت کے ذمہ دارانہ اور تسلی بخش دلائل“  Video clip available
”ممبئی حملوں اور پاکستانی تنظیموں کے مابین تعلق کی تحقیقات کی جائیں“
”زرداری نے یقین دلایا ہے کہ شواہد ملے تو کارروائی کریں گے“
کیا امریکہ 1930 کی کساد بازاری کی طرف بڑھ رہاہے؟  Video clip available
اوباما نے نیو میکسیکو کے  گورنر بل رچرڈ سن کو اپنی اقتصادی ٹیم میں شامل کرلیا  Video clip available
ممبئی حملے: حکومت کے خلاف عوامی برہمی میں اضافہ
اقتصادی بحران کےجلد خاتمے کے لیے  کوشش کریں گے : اوباما
ملکہ برطانیہ کا پارلیمنٹ سے خطاب: معیشت  کی بحالی سرفہرست
بان کی مون کا صدر زرداری کو فون
آدھی رات کا سورج ۔۔۔ بارھویں قسط: خوابوں خیالوں کا شہر
’پانچ سال کے اندر دنیا میں دہشت گردوں کی طرف سے بڑے حملے کا خدشہ‘
اسرائیل نے غرب ِ اردن میں پولیس بھیج دی
برما : سیاسی قیدی دور دراز جیلوں میں منتقل
افغانستان: 13 عسکریت پسند ہلاک
بنکاک: مظاہروں کے بعد پہلی پرواز  کی آمد
زمبابوے: پولیس نے دو مظاہرے منشتر کردیے
جاپان: شہنشاہ آکی ہیتو علیل، سرکاری مصروفیات منسوخ
بھارت کا گیارہ ستمبر؟
چین: نرسنگ ہوم میں آتش زدگی، 7 افراد ہلاک
فلپائن: باغیوں کے حملے میں پانچ فوجی ہلاک