سیلاب زدگان قطار میں کھڑے امدادی سامان ملنے کا انتظار کر رہے ہیں
عید الفطر خوشی کا تہوار ہے اور دنیا میں جہاں جہاں مسلمان بستے ہیں یہ تہوار خوشی و مسرت کے ساتھ منایا جاتا ہے۔ اس بار بھی ساری دنیا میں عید منائی گئی مگر کوسی کے سیلاب زدگان کی عید سب سے الگ، سب سے مختلف اور سب سے جدا تھی۔
کوسی ندی میں 18اگست کو طغیانی آئی تھی اورا س نے بہار کے 5 اضلاع سپول، مدھے پورہ، سہرسہ، ارریہ اور پورنیہ کی 35 لاکھ سے زائد آبادی کو متاثر کر دیا تھا۔ اس کے دھارے میں ہزاروں گاؤں بہہ گئے او ر سیکڑوں بستیاں ویران ہوگئیں۔ ان بستیوں کے افراد نے خانماں برباد ہو کر جہاں جگہ ملی وہاں پناہ لے لی۔ ان میں ہندو بھی تھے اور مسلمان بھی۔ کیوں کہ سیلاب کسی کا مذہب نہیں دیکھتا۔ ذات پات اور رنگ و نسل کی بھی تفریق نہیں کرتا۔
حکومت نے سیلاب زدگان کے لیے راحت کیمپ بنوائے جن میں ہزاروں بے گھر افراد اب بھی پناہ گزیں ہیں، کیوں کہ بستیوں سے پانی نکل جانے کے باوجود وہاں زندگی کے آثار نہیں ہیں۔ بستیاں بالکل ویران ہو چکی ہیں۔ لوگوں کی رہائش کے لیے کچھ بچا ہی نہیں ہے۔اس لیے ان کے پاس راحت کیمپوں میں رہنے کے سوا کوئی چارہ نہیں ہے۔
اسی درمیان رمضان المبارک آگیا۔ان برباد شدہ اشخاص کے پاس نہ سامانِ سحری تھا اور نہ سامانِ افطار۔ کسی طرح ان لوگوں نے روزے رکھے اور اس وقت لوگوں کو اندازہ ہوا کہ گھائل کی گت گھائل ہی جانتا ہے۔ اسی لیے تمام ہندو بھائیوں نے مسلمانوں کی روزہ رکھنے میں مدد کی۔
راحت کیمپوں سے جو اشیا ملتی تھیں اسی سے وہ لوگ اپنے مسلم بھائیوں کو افطار و سحر کا سامان فراہم کرتے تھے اور اس طرح سے مسلمانوں نے پورا ماہ صیام گزارا۔ ایک طرح سے مولانا حسرت موہانی کا شعر ان پر بھی صادق آتا تھا:
کٹ گیا قید میں ماہ رمضاں بھی حسرت نہ تو سامان سحر کا تھا نہ افطاری کا
اور جب ساری دنیا عید الفطر کی خوشیاں منا رہی تھی تو ان بے یارو مدد گار مسلمانوں کے پاس کچھ بھی نہیں تھا۔ سارا بھروسا اللہ تعالی کی ذات پر تھااور حکومت یا رضا کار اداروں کی جانب سے انہیں جو راحت سامان دستیاب ہوئے۔ اسی پر صبر و شکر کرنا پڑا۔
انہی راحت کیمپوں میں سیلاب زدگان نے نماز عید الفطر ادا کی۔ لیکن نماز عید الفطر کی ادائیگی کے بعد انہیں اپنے درمیان بہار کے وزیر اعلی نتیش کمار کو دیکھ کر خوشگو ار حیرت ہوئی۔ ایک طرح سے نتیش کمار نے سانتا کلاز کا کردا ر ادا کیا۔ وہ وہاں پہنچ کر مسلم بھائیوں سے گلے ملے اور ان کے درمیان نئے کپڑے، دودھ، سوئیاں، لچھے اور شیرینی تقسیم کی۔ وہ ان تمام میگا کیمپوں میں گئے جہاں جہاں خانما ں برباد مسلمان رہ رہے تھے۔
بعد میں انہوں نے ان حرماں نصیب اشخاص کو خطاب کرتے ہوئے کہا ”بلا شبہ سیلاب نے آپ کے گھروں کوبرباد کر دیا ہے۔سب کچھ تباہ و برباد کر دیا ہے لیکن میں آپ لوگوں کو یقین دلاتا ہوں کہ آپ کی بستیوں کو نئے سرے سے آباد کیا جائے گا۔ سبھوں کے گھروں کی تعمیر حکومت اپنے خرچ پر کروائے گی۔ ا س کام کے لیے حکومت کو رضا کار تنطیموں کی جانب سے مدد مل رہی ہے اور ساری دنیا کی ہمدردیاں آپ لوگوں کے ساتھ ہیں۔ “
وزیر اعلی نے نہایت جذباتی انداز میں کہا کہ آج عید کا دن ہے اور اس خیال نے میرے ذہن کو اس طرح سے جھنجھوڑا کہ میں راجدھانی پٹنہ میں نہ رہ سکا بلکہ آپ لوگوں سے ملنے کے لئے یہاں چلا آیا۔ میں آپ سب لوگوں کو یہ احساس دلانا چاہتا ہوں کہ نہ صرف میری اور ہماری حکومت کی ہمدردیاں آپ کے ساتھ ہیں بلکہ پوری دنیا کے انسان دوست آپ لوگوں کے جذبات و احساسات میں شریک ہیں۔
سیلاب زدگان کے ساتھ عید منا کر وزیر اعلیٰ کے جو بھی احساسات رہے ہوں مگر بہر حال مصیبت زدہ مسلمانوں نے ضرور اس سے سکون کا سانس لیا اور انہوں نے محسوس کیا کہ بے حس کوسی ندی نے انہیں ضرور تباہ و برباد کر دیا لیکن دنیا کے حساس انسان مصیبت کے وقت ان کے ساتھ ہیں۔