ملائیشیا کے مقبول بلاگر کو الزام تراشی کے مقدمے کا سامنا
October 6, 2008
ملائیشیا کے نائب وزیر اعظم نجیب رزاق
ملائیشیا کے ایک مقبول بلاگر پر نائب وزیر اعظم کو مبینہ طورپر منگولیا کی ایک عورت کے قتل میں ملوث ظاہر کرنے کی بنا پر فتنہ پروری کےالزامات کی بنا پر مقدمہ چل رہا ہے ۔
راجا پترا کمارالدین نے کسی بھی غلط کام کے کرنے سے انکار کیا ہے۔ وہ پیر کے روز کولالمپور میں اپنے مقدمے پہلے دن عدالت میں پیش ہوئے۔
فتنہ پروری کے یہ الزامات راجا پترا کے اس مضمون کی وجہ سے پیدا ہوئے جو اپریل میں ان کی حکومت مخالف نیوز ویب سائٹ ملائیشیا ٹوڈے میں شائع ہوا تھا۔
اس مضمون میں مبینہ طور پر نائب وزیر اعظم نجیب رزاق اور ان کی اہلیہ رسما منظور کو 2006ء میں منگولیا کی ایک 26 سالہ عورت التن طویہ شاری بو کی ہلاکت سے منسلک کیا گیا تھا۔
نجیب اس جرم میں ملوث ہونے سے انکار کرتے ہیں ۔ ان کے قریبی ساتھی پر قتل میں مدد کرنے کا الزام ہے اور دوپولیس اہل کاروں پر عورت کے قتل کا الزام ہے۔
راجا پترا اندونی سلامتی کے ایکٹ کے تحت جو انسداد دہشت گردی کا وہ قانون ہے جو بغیر کوئی مقدمہ چلائے حراست کی اجازت دیتا ہے، ایک الگ مقدمے میں پہلے ہی جیل میں ہیں۔