عالمی ریٹنگ ایجنسی اسٹینڈرڈ اینڈ پورز نے پاکستان کی انتظامی درجہ بندی کم کردی ہے۔
ایجنسی کے اعلامیہ کے مطابق پاکستان کی درجہ بندی ’بی‘ سے کم کرکے ’سی سی سی پلس‘ کردی گئی جب کہ مقامی قرضوں کا درجہ منفی ’بی‘ سے ’منفی بی بی‘ کردیا گیا ہے۔
تجزیہ نگاروں کا کہنا ہے کہ اِس فیصلے سے پاکستان کی مشکلات میں اضافہ ہوگا۔
تجزیہ نگار یوسف نذر نے کہا کہ یہ فیصلہ سیاسی نظر آتا ہے۔ ’لگتایہ ہے کہ پاکستان کو اُس طرف لے جایا جا رہا ہے جہاں پاکستان کی حکومت معاشی طور پر اپنے گھٹنے ٹیک دے۔ میں تو سمجھتا ہوں کہ اِس کے پیچھے بہت سے سیاسی عزائم کارفرما ہیں۔‘
کے اے ایس بی کے تجزیہ نگار، مزمل اسلم کا کہنا ہے کہ درجہ بندی میں کمی پاکستان کے ڈی فالٹ ہونے کے خدشے کا اظہار ہے۔ ’پاکستان کے مالی ذخائر جس طرح سے تیزی سے گر رہے ہیں، ان کے پیش نظر پاکستان اس قابل رہے گا بھی کہ نہیں کہ قرضہ واپس کرے۔ تو اِس خطرے کو سامنے رکھتے ہوئے ریٹنگ میں ڈاؤن گریڈ ہو رہا ہے۔ شاید پاکستان ڈی فالٹ کر جائےَ۔‘
ایجنسی کے بیان میں کہا گیا ہے کہ پاکستان کے قرضوں کوایکساتھ ادا کرنے کے لیے فوری بیرونی امداد کی ضرورت کو پورا کرنے کے لیے فوری بیرونی امداددرکار ہے، اور یہ اندازہ نہیں ہے کہ امداد بر وقت مل سکے گی یا نہیں۔ پاکستان اقتصادی بحران سے نمٹنے کے لیے ڈونرز اور دوست ملکوں سے مدد کے حصول کی کوششیں کر رہا ہے۔