ترقی یافتہ اور ترقی پذیر ممالک کے درمیان خواندگی کی شرح کے باعث سیاسی بلاگنگ میں ایک نمایاں فرق دیکھنے میں آتا ہے ۔ امریکی بلاگز میں عام طورپر ٹھوس شواہد اور دستاویزی ثبوت پیش کیے جاتے ہیں جبکہ ترقی پذیر ملکوں میں ایسا کم کم دیکھنے میں آتاہے اور بلاگرز انٹرنیٹ پر خبریں اور معلومات کی فراہم کرتے وقت ایسا کوئی انتظام نہیں کرتے۔
پاکستان میں حالیہ برسوں میں الیکٹرانک میڈیا نے حیرت انگیز ترقی کی ہے ۔ اس کےساتھ ساتھ ٹیلی مواصلات کا شعبہ بھی خطے میں نمایاں طورپر ابھر کر سامنے آیا ہے۔ پاکستان میں ٹیکسٹ میسجنگ کا بہت رواج ہے اور آناً فاناً خبر یا کوئی بھی اطلاع اس نظام کے ذریعے ملک کے ایک کونے سے دوسرے کونے تک لاکھوں افرادتک پہنچ جاتی ہے۔
ٹیکسٹ میسجنگ نے ملک کے سیاسی شعبے کو بھی متاثر کیا ہے اور اکثر میسجز کا تعلق کسی نہ کسی حوالے سے سیاست سے ہوتا ہے۔ بہت سے پاکستانی نوجوانوں نے انٹرنیٹ پر اپنے بلاگز بنالیے ہیں اور وہ ان بلاگز کے توسط سے ملکی سیاست کے بارے میں خبریں، معلومات اور اطلاعات دوسروں تک پہنچا رہے ہیں۔ کلثوم لاکھانی کا تعلق پاکستان سے ہے اور وہ امریکہ میں مقیم ہیں۔ پاکستان کے بارے میں انٹر نیٹ پر ان کا ایک بلاگ موجود ہے۔
کلثوم لاکھانی کہتی ہیں کہ بلاگز اور انٹرنیٹ کے ذریعے پاکستانی نوجوان سیاست کے بارے میں بڑے مؤثرانداز میں اپنا اظہار کر رہے ہیں۔ان کا کہنا ہے کہ انہیں یقین ہے کہ ان کی آواز نہ صرف متعلقہ حلقوں تک پہنچ رہی ہے بلکہ توجہ سے سنی بھی جارہی ہے۔
کلثوم لاکھانی کہتی ہیں کہ بے نظیربھٹو کے قتل نے ،جو کہ ایک اعتدال پسند طبقے کی نمائندگی کرتی تھیں، انہیں پاکستان اور اس کے مسائل کے بارے میں سوچنے اور لکھنے کی تحریک دی۔ وہ کسی نہ کسی انداز میں پاکستانیوں کی مدد کرنا چاہتی ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ وہ اپنا فرض ادا کررہی ہیں۔
کلثوم کہتی ہیں کہ اکثر پاکستانی نوجوان ان مسائل اور معاملات سے پہلو تہی کرتے ہیں جن کا تعلق قومی سیاست اور سماجی مسائل سے ہے۔ شاید اس کی وجہ یہ ہے کہ وہ یہ سمجھتے ہیں کہ ان کی آواز کون سنے گا۔ان کا کہنا ہے کہ انہوں نے اسی لیے اپنی نسل کے نوجوانوں کو ایک پلیٹ فارم مہیا کیا ہے ۔ کلثوم کے نزدیک اپنے وطن کی خدمت کا یہ بھی ایک طریقہ ہے۔
اپنے بلاگ کے ذریعے وہ مغرب میں پاکستان کے بارے میں پائی جانے والی غلط فہمیوں کو دور کرنے اور پاکستان کی ایک حقیقی تصویر پیش کرنے کی کوشش کررہی ہیں۔ لاکھانی کا کہنا ہے کہ مغربی میڈیا پاکستان کی تصویر کشی ایک انتہاپسند اور شدت پسند ریاست کے طور پر کرکے اسے بدنام کررہا ہے۔وہ اپنے بلاگ کے ذریعے پاکستان کا روشن رخ سامنے لانے کی کوشش کررہی ہیں۔