آٹھ اکتوبر کوسینٹ اور قومی اسمبلی کا بند کمرے میں ہونے والا مشترکہ اجلاس ملک کی پارلیمانی تاریخ کا تیسرا ایسا اجلاس ہو گا۔اس سے قبل 1974میں قادیانیوں کواقلیت قرار دینے کے لیے جبکہ 1988 میں افغانستان سے روسی افواج کے انخلا سے متعلق جنیوا کنونشن کے بارے میں پارلیمان کو اعتماد میں لینے کے لیے بھی دونوں ایوانوں کے بند کمروں میں مشترکہ اجلاس طلب کئے جا چکے ہیں۔
بدھ آٹھ اکتوبر کو صدرآصف زرداری کی جانب سے بلائے جانے والے مشترکہ اجلاس میں اراکین پارلیمان کوملک میں امن وعامہ کی مجموعی صورت حال اور اس سلسلے میں حکومتی اقدامات سے آگاہ کیا جائے گا۔
پارلیمانی اُمور کی وزارت کے مشیر اظہار امروہی نے وائس آف امریکہ سے بات کرتے ہوئے کہا کہ صدر آئین کے آرٹیکل54کے تحت پارلیمان کا مشترکہ اجلاس بلا سکتے ہیں اورساتھ ہی صدر یہ بھی واضح کرتے ہیں کہ اجلاس کس مقصد کے لیے بلایا جا رہا ہے۔ اُنہوں نے کہا کہ آرٹیکل54 کے تحت بلایا جانے والااجلاس بند کمرے میں بھی ہوسکتا ہے اور اس کی کاروائی پرکھلے عام بحث بھی ہو سکتی ہے تاہم انہوں نے کہا کہ آٹھ اکتوبر کا اجلاس بندکمرے میں ہوگا۔جس میں اراکین پارلیمان اور ان کو بریفنگ دینے والے ملک کی سیکورٹی ایجنسیوں کے متعلقہ حکام کے علاوہ کوئی شخص بشمعول میڈیا کے نمائندے شرکت نہیں کرسکیں گے ۔