آج جبکہ امریکہ کے صدارتی انتخابات میں 28 دن باقی رہ گئے ہیں ،امریکہ کے دونوں صدارتی امیدوارایک بار پھر نیش ول میں دوسری صدارتی ڈیبیٹ کے لئے ایک دوسرے کے مد مقابل ہونگے ۔ماہرین کا کہناہے کہ یہ صدارتی بحث 26ستمبر کو ہونے والے صدارتی مباحثےسے مختلف ہوگا۔
2008کے صدارتی انتخاب کے لئے جان مکین اور براک اوباما کے درمیان دوسرا مباحثہ ایک ایسے وقت میں ہو نے جا رہا ہے،جب صدارتی دوڑ اپنے اختتامی مراحل میں داخل ہوچکی ہے ۔امریکی رائے عامہ کے غیر جانبدار انہ جائزوں کے مطابق براک اوباما کئی سوئنگ سٹیٹیس میں بھی مقبولیت میں جان مکین سے آگے نکلتے دکھائی دے رہے ہیں اور شائد یہی وجہ ہے کہ امیدواروں کا لہجہ ،اندازگفتگو اور سیاسی حکمت عملی میں بھی تبدیلیاں نظر آرہی ہیں جنہیں سیاسی تجزیہ کار ووٹروں کادل جیتنے کی کوشش قرار دے رہے ہیں ۔ پیلین نے حال ہی میں اوباما پر الزام لگایا ہے کہ ان کا تعلق دہشت گردوں سے ہے۔ ان کا اشارہ شکاگو کا ایک سابق پروفیسر بل ایرزکی جانب تھا ۔جو1960کی دہائی میں ایک شرپسند تنظیم ویدر انڈر گراؤنڈ سے وابستہ تھے۔ اوباما اسسے اپنے تعلق کو ناخوشگوار قرا ردے چکےہیں ۔
مخالف کیمپ کے ان الزامات پر اباما کا کہنا ہے کہ وہ ہماری انتخابی مہم کو تباہ کرنے کے لئےکچھ بھی کر سکتے ہیں ۔ جب آپ کاعوام سے تعلق نہ ہو ،نئے آئیڈیاز نہ ہوں اور وقت آپ کے ہاتھ سے نکل رہا ہو ،تو آپ کو اور سوجھ بھی کیا سکتا ہے ۔
ری پبلیکن پارٹی سے تعلق رکھنے والے بون جین کا کہنا ہے کہ صاف بات ہے کہ ہم آخری جنگ لڑ رہے ہیں ۔یہ وہ فیصلہ کن مرحلہ ہے جب سینیٹر مکین کو ہی کچھ کرنا ہوگا اور جتنی جلد ہوسکے ۔
اور مکین کی انتخابی مہم نے اپنی ساری توپوں کا رخ براک اوباما کی جانب کردیا ہے ۔امیدواروں کی انتخابی مہم پر نظر رکھنے والے مبصرین کے مطابق مکین کی انتخابی مہم کے 100فیصد اشتہارات منفی ہیں ۔ اوباما کیمپ بھی جوابی الزامات لگانے میں پیچھے نہیں ۔
اوباما کی انتخابی مہم نے ایک نئی ویب ڈاکیومینٹری جاری کی ہے جس میں امریکی ووٹروں کو یاد دلایا گیا ہے کہ 80کی دہائی میں مکین ،کیٹنگ،5نامی اراکین کانگریس کے ایسے گروپ میں شامل تھے جن پر بد عنوانی کا الزام عائد کیا گیا تھا ۔
ایسے میں نیش ول میں ہونے والا صدارتی مباحثہ ماہرین کے مطابق 26ستمبر کو ہونے والے پہلے صدارتی مباحثے سے مختلف ہوگا ۔گزشتہ مباحثے کے بر عکس یہاں ایسے حاظرین موجود ہونگے جو اب تک فیصلہ نہیں کر سکے کہ کس امیدوار کو ووٹ کریں گے ۔ماہرین اسے ٹاون ہال سٹائل ڈیبیٹ قرار دے رہے ہیں ،جس میں جان مکین خاصی مہارت رکھتے ہیں مگر اس مباحثے کے حاظرین جان مکین کے حامی نہیں ۔بلکہ وہ ایسے ووٹر ہونگے جنہیں دونوں میں سے کسی امیدوار پر پورا بھروسہ نہیں ۔26ستمبر کے صدارتی مباحثے میں معیشت اور قومی سلامتی کے امور،جبکہ نائب صدارتی امیدواروں کے مباحثے میں ہر موضوع زیر بحث لایا گیا تھا ۔ دونوں مباحثوں میں موڈریٹرز کے رول پر تنقید کی گئی تھی مگر مبصرین کا کہنا ہے کہ اگر دوسری صدارتی ڈیبیٹ میں امیدواروں نے ایک دوسرے پر ذاتی الزامات لگانے کی کوشش کی توشایدڈیبیٹ ہال میں موجودان ووٹرز کوبالکل اچھا نہ لگے جو صدارتی امیدواروں سے معیشت کو بحران سے نکالنے کے لئے ٹھوس حکمت عملی پر مبنی سنجیدہ موقف اپنانے کی توقع کرتے ہیں ۔