امریکی رائے عامہ کے جائزے ظاہر کرتے ہیں کہ آج منگل کے روز ہونے والے مباحثے سے قبل ہی ڈیموکریٹک امیدوار براک اوباما کو اپنے حریف ری پبلکن جان میک کین پر مزید سبقت حاصل ہو گئی ہے۔
اخبار واشنگٹن پوسٹ اور اے بی سی نیوز کے ایک مشترکہ جائزے سے جو منگل کے روز سامنے آیا معلوم ہوتا ہے کہ اوباما کو میک کین کے مقابلے میں اوہائیو میں ۴۵ کے مقابلے میں ۵۱ فی صد برتری حاصل ہے۔ اوہائیو انتخاب جیتنے کے لیے بہت اہم ریاست کا درجہ رکھتی ہے۔ جائزے کے مطابق رائے دہندگان نے اوباما کو اس وجہ سے زیادہ نمبر دیے ہیں کہ وہ اقتصادی مسائل سے بہتر طور پر نمٹیں گے اور ان کے آنے سے ملک میں تبدیلیاں آئیں گی۔
سی این این کے ایک جائزے سے ثابت ہوا کہ اوباما کو میک کین پر 45 کے مقابلے میں 53 فی صد برتری حاصل ہے جو ستمبر کے ایک سروے کی نسبت دگنی برتری ہے۔جب کہ آج منگل کے روز ہونے والے رائیٹر، سی سپَین اور زوگبی کے جائزے سے پتہ چلتا ہے کہ اوباما کو محض تین فیصد برتری حاصل ہے۔
ریاست ایریزونا کے سینیٹر میک کین اور الی نوئے کے سینیٹر اوباما کے درمیان آج منگل کی شام ناشوِل، ٹینسی میں مباحثہ ہوگا۔ان دنوں دونوں کی انتخابی مہمیں ایک دوسرے پر حملے کرنے میں مصروف ہیں اور رفتہ رفتہ ذاتیات پر اتر آئی ہیں۔
پیر کے روز میک کین نے اوباما پر ناکام مارگیج کمپنیوں فیَنی مے اور فریَڈی میک سے انتخابی مہم کے لئے چندہ وصول کرنے اور ان کے مصائب کو نظر انداز کرنے کا الزام عاید کیا۔
ادھر اوباما کی انتخابی مہم نے میک کین کے بارے میں ایک اشتہار جاری کیا ہے جس میں ۱۹۸۰ ءکے مالیاتی سکینڈل میں ان کے کردار کا ذکر ہے۔
آج کے مباحثے میں حاضرین کو بھی سوالات کرنے کا موقع ملے گا۔