نومبر میں ہونے والے امریکی صدارتی انتخابات سے قبل ری پبلکن پارٹی کے اُمیدوارجان میک کین اور ڈیموکریٹک پارٹی کے اُمیدوار باراک اوباما کے درمیان ہونے والے دوسرے مباحثے میں ویسے توامریکہ کی اقتصادی صورتِ حال حاوی رہی تاہم 90 منٹ کے اس مباحثے میں دونوں اُمیدواروں کے درمیان اہم خارجہ اُمور پر بھی تکرار ہوئی۔ دہشت گردی کے خلاف جنگ کے حوالے سے ایک بار پھردونوں صدارتی اُمیدواروں نے ایک دوسرے کے نقطہٴنظر کو تنقید کا نشانہ بنایا اور پاکستان کے بارے میں اپنی اپنی حکمت عملی کو دہرایا۔ براک اوباما کا کہنا تھا کہ اگر امریکہ کو اس بات کے ٹھوس شواہد ملے کہ القاعدہ کے سربراہ اُسامہ بن لادن اور اُن کے ساتھی پاکستان میں موجود ہیں اور اگر اُن کے خلاف پاکستانی حکام کارروائی کرنے پر آمادہ نہ ہوئے تو امریکہ خود اُن کے خلاف پاکستانی حدود میں کارروائی کرے گا۔
جان میک کین نے اپنے حریف کے اس بیان کو غیر ذمہ دارانہ قرار دیتے ہوئے کہا کہ کھلے عام اس طرح کا اعلان کر کے اوباما القاعدہ کو پہلے سے ہی ہوشیار کر رہے ہیں۔ دلچسپ امر یہ ہے کہ ڈیموکریٹک پارٹی کے اُمیدوار پر تنقید کی روانی میں مکین سے جب پوچھا گیا کہ کیا وہ بھی بن لادن کا پاکستانی حدود کے اندر پیچھا کر یں گے تواُنہوں نے مختصرا کہا کہ ” یقینا ہمیں ایسا کرنا چاہیے۔“
عراق میں موجود امریکی افواج کے حوالے سے باراک اوبامہ نے کہا کہ وہاں سے امریکی افواج کو ذمہ دارانہ طریقے سے نکالنا ضروری ہے اور افغانستان میں مزیدفوج بڑھانے کی ضرورت ہے جبکہ میک کین کا کہنا تھا کہ اُوباما کا عراق سے فوج واپس بلانے کا فیصلہ وہاں امریکی افواج کی شکست کا سبب بن سکتا ہے۔
ایران کے جوہری پروگرام کے حوالے سے جان میک کین نے کہا کہ جوہری ہتھیاروں کی صلاحیت والا ایران نہ صرف اسرائیل بلکہ پورے مشرق وسطیٰ کے لیے ایک خطرہ ہے، اُنہوں نے کہا کہ امریکہ کو ایران کے خلاف پابندیاں لگانے کے حوالے سے اپنے اتحادیوں کے ساتھ مل کر کام کرنے کے ضرورت ہے جب کہ اوباما کا کہنا تھا کہ ایران کے خلاف عسکری طاقت کے استعمال کو نظر انداز نہیں کرنا چاہیئے اور جوہری ہتھیار کھنے والا ایران امریکہ کے قریبی اتحادی ملک اسرائیل کے لیے بڑا خطرہ بن سکتا ہے۔
اس مباحثے میں سینٹر اوباما نے معیشت سے متعلق عوام کی فکرمندی کا خوب فائدہ اٹھایا اور کہا کہ ان کے حریف کا ٹیکسوں سے متعلق منصوبہ متوسط طبقے کو نہیں بلکہ محض امیر طبقے کو فائدہ پہنچائے گا ۔انہوں نے مزید کہا کہ مسٹر میک کین صدر بش کی ناکام پالیسیوں پر کاربند رہیں گے۔
ادھر سینٹر میک کین نے اس تنقید کو مسترد کیا اور کہا کہ وہ حکومت کو بنکوں سے ناقابلِ وصول قرضے خریدنے کے لئے تین کھرب ڈالر کا منصوبہ پیش کریں گے۔ رائے عامہ کے حالیہ جائزوں نے ظاہرکیا تھا کہ اقتصادی بحران کے باعث اوباما کی مقبولیت میں اضافہ ہوا ہے، چنانچہ اس مباحثے نے مسٹر میک کین کو یہ موقعہ فراہم کیا کہ وہ قوم کو اپنے معاشی منصوبوں سے آگاہ کر سکیں۔
چار نومبر کو ہونے والے صدارتی انتخاب کے سلسلے میں دونوں امیدواروں کے درمیان تیسرا اور آخری مباحثہ 15 اکتوبر کو ہوگا۔