Urdu ▪ وائس آف امریکہ
غیر جانبدار خبریں  |  دلچسپ معلومات

صرف متن
Search

جان میک کین اور براک اوباما کے درمیان صدارتی انتخاب سے قبل دوسرا مباحثہ

October 8, 2008

ap_obama_mccain_debate2_07oct08

نومبر میں ہونے والے امریکی صدارتی انتخابات سے قبل ری پبلکن پارٹی کے اُمیدوارجان میک کین اور ڈیموکریٹک پارٹی کے اُمیدوار باراک اوباما کے درمیان ہونے والے دوسرے مباحثے میں ویسے توامریکہ کی اقتصادی صورتِ حال حاوی رہی تاہم 90 منٹ کے اس مباحثے میں دونوں اُمیدواروں کے درمیان اہم خارجہ اُمور پر بھی تکرار ہوئی۔ دہشت گردی کے خلاف جنگ کے حوالے سے ایک بار پھردونوں صدارتی اُمیدواروں نے ایک دوسرے کے نقطہٴنظر کو تنقید کا نشانہ بنایا اور پاکستان کے بارے میں اپنی اپنی حکمت عملی کو دہرایا۔

براک اوباما کا کہنا تھا کہ اگر امریکہ کو اس بات کے ٹھوس شواہد ملے کہ القاعدہ کے سربراہ اُسامہ بن لادن اور اُن کے ساتھی پاکستان میں موجود ہیں اور اگر اُن کے خلاف پاکستانی حکام کارروائی کرنے پر آمادہ نہ ہوئے تو امریکہ خود اُن کے خلاف پاکستانی حدود میں کارروائی کرے گا۔

 جان میک کین نے اپنے حریف کے اس بیان کو غیر ذمہ دارانہ قرار دیتے ہوئے کہا کہ کھلے عام اس طرح کا اعلان کر کے اوباما القاعدہ کو پہلے سے ہی ہوشیار کر رہے ہیں۔ دلچسپ امر یہ ہے کہ ڈیموکریٹک پارٹی کے اُمیدوار پر تنقید کی روانی میں مکین سے جب پوچھا گیا کہ کیا وہ بھی بن لادن کا پاکستانی حدود کے اندر پیچھا کر یں گے تواُنہوں نے مختصرا کہا کہ ” یقینا ہمیں ایسا کرنا چاہیے۔“

عراق میں موجود امریکی افواج کے حوالے سے باراک اوبامہ نے کہا کہ وہاں سے امریکی افواج کو ذمہ دارانہ طریقے سے نکالنا ضروری ہے اور افغانستان میں مزیدفوج بڑھانے کی ضرورت ہے جبکہ میک کین کا کہنا تھا کہ اُوباما کا عراق سے فوج واپس بلانے کا فیصلہ وہاں امریکی افواج کی شکست کا سبب بن سکتا ہے۔

ایران کے جوہری پروگرام کے حوالے سے جان میک کین نے کہا کہ جوہری ہتھیاروں کی صلاحیت والا ایران نہ صرف اسرائیل بلکہ پورے مشرق وسطیٰ کے لیے ایک خطرہ ہے، اُنہوں نے کہا کہ امریکہ کو ایران کے خلاف پابندیاں لگانے کے حوالے سے اپنے اتحادیوں کے ساتھ مل کر کام کرنے کے ضرورت ہے جب کہ  اوباما کا کہنا تھا کہ ایران کے خلاف عسکری طاقت کے استعمال کو نظر انداز نہیں کرنا چاہیئے اور جوہری ہتھیار کھنے والا ایران امریکہ کے قریبی اتحادی ملک اسرائیل کے لیے بڑا خطرہ بن سکتا ہے۔

اس مباحثے میں سینٹر اوباما نے معیشت سے متعلق عوام کی فکرمندی کا خوب فائدہ اٹھایا اور کہا کہ ان کے حریف کا ٹیکسوں سے متعلق منصوبہ متوسط طبقے کو نہیں بلکہ محض امیر طبقے کو فائدہ پہنچائے گا ۔انہوں نے مزید کہا کہ مسٹر میک کین صدر بش کی ناکام پالیسیوں پر کاربند رہیں گے۔

ادھر سینٹر میک کین نے اس تنقید کو مسترد کیا اور کہا کہ وہ حکومت کو بنکوں سے ناقابلِ وصول قرضے خریدنے کے لئے  تین کھرب ڈالر کا منصوبہ پیش کریں گے۔ رائے عامہ کے حالیہ جائزوں نے ظاہرکیا تھا کہ اقتصادی بحران کے باعث اوباما کی مقبولیت میں اضافہ ہوا ہے، چنانچہ اس مباحثے نے مسٹر میک کین کو یہ موقعہ فراہم کیا کہ وہ قوم کو اپنے معاشی منصوبوں سے آگاہ کر سکیں۔

چار نومبر کو ہونے والے صدارتی انتخاب کے سلسلے میں دونوں امیدواروں کے درمیان تیسرا اور آخری مباحثہ 15 اکتوبر کو ہوگا۔

emailme.gif اس صفحے کو ای میل کیجیے
printerfriendly.gif قابل چھپائی صفحہ

  اہم ترین خبر
اورکزئی ایجنسی میں خود کش حملے میں چھ افراد ہلاک

  مزید خبریں
ترکی میں سہ فریقی سربراہ اجلاس
کشیدگی میں اضافے سے بھارتی فلم ڈسٹری بیوٹرز پریشان
دہشت گرد دنیا کے کسی ملک کو بڑے پیمانے پر تباہی پھیلانے والے ہتھیاروں کانشانہ بنا سکتے ہیں: رپورٹ  Video clip available
آئی ایم ایف کا قرضہ پرانے قرضے چکانے کے لیے استعمال ہوگا  Video clip available
صوفیانہ شاعر ی میں نسوانی آوازیں  Video clip available
ممکنہ فضائی حملوں کی دھمکی کے بعد بھارتی ہوائی اڈوں پر ہائی الرٹ
ممبئی حملوں سے لشکرِ طیبہ کا کوئی تعلق نہیں: حافظ سعید کے ترجمان کا بیان
مہاراشٹر کے وزیرِ اعلیٰ نے ممبئی حملوں کی اخلاقی ذمے داری قبول کرتے ہوئے استعفیٰ دے دیا
پی سی بی میں بڑے پیمانے پر اصلاحات کا اعلان
بابری مسجد کی شہادت کی یاد میں
بانی ... نئی غزل کی منفرد آواز
امریکی فوجیں مزید تین سال تک عراق میں رہی گی
بنگلہ دیشی مصوروں کی نمائش، پریشانی میں سکون
یورپی بینکوں نے شرحِ سُود کم کردی
امریکہ کے ساتھ مثبت تعلقات کی اُمید ہے: پُوتن
زمبابوے میں ہیضے کی وبا اور حفظانِ صحت کے نظام کا خاتمہ
امریکا اپنی معیشت کو مستحکم بنائے: چین
بھارتی لوگوں کے رویے میں تبدیلی نہیں آئی: ممبئی سے واپس آنے والے پاکستانی فنکار    
سعودی عرب میں حج کے لیے زبردست حفاظتی انتظامات
بھارت کو دہشت گردی کے خلاف روسی مدد کی پیش کش
بھارت نوجوان نسل کو تعلیم اور تربیت فراہم کرے: رپورٹ
امریکی کار ساز کمپنیاں حکومت سے امداد کی منتظر ہیں
رفعت سروش کے انتقال کے ساتھ ترقی پسند ادب کے ایک عہد کا خاتمہ
افغانستان کے مستقبل کے بارے میں اقوامِٕ متحدہ کے مشن کی محتاط رائے  
”پاکستانی قیادت کے ذمہ دارانہ اور تسلی بخش دلائل“  Video clip available
”ممبئی حملوں اور پاکستانی تنظیموں کے مابین تعلق کی تحقیقات کی جائیں“
”زرداری نے یقین دلایا ہے کہ شواہد ملے تو کارروائی کریں گے“
کیا امریکہ 1930 کی کساد بازاری کی طرف بڑھ رہاہے؟  Video clip available
اوباما نے نیو میکسیکو کے  گورنر بل رچرڈ سن کو اپنی اقتصادی ٹیم میں شامل کرلیا  Video clip available
ممبئی حملے: حکومت کے خلاف عوامی برہمی میں اضافہ
اقتصادی بحران کےجلد خاتمے کے لیے  کوشش کریں گے : اوباما
ملکہ برطانیہ کا پارلیمنٹ سے خطاب: معیشت  کی بحالی سرفہرست
بان کی مون کا صدر زرداری کو فون
آدھی رات کا سورج ۔۔۔ بارھویں قسط: خوابوں خیالوں کا شہر
’پانچ سال کے اندر دنیا میں دہشت گردوں کی طرف سے بڑے حملے کا خدشہ‘
اسرائیل نے غرب ِ اردن میں پولیس بھیج دی
برما : سیاسی قیدی دور دراز جیلوں میں منتقل
افغانستان: 13 عسکریت پسند ہلاک
بنکاک: مظاہروں کے بعد پہلی پرواز  کی آمد
زمبابوے: پولیس نے دو مظاہرے منشتر کردیے
جاپان: شہنشاہ آکی ہیتو علیل، سرکاری مصروفیات منسوخ
بھارت کا گیارہ ستمبر؟
چین: نرسنگ ہوم میں آتش زدگی، 7 افراد ہلاک
فلپائن: باغیوں کے حملے میں پانچ فوجی ہلاک