Urdu ▪ وائس آف امریکہ
غیر جانبدار خبریں  |  دلچسپ معلومات

صرف متن
Search

دوسرے مباحثے میں دونوں صدارتی امیدوار وں کا محتاط انداز


October 9, 2008
اس رپورٹ کی ویڈیو - ڈاؤن لوڈ کیجیئے (Real) video clip
اس رپورٹ کی ویڈیو - Watch (Real) video clip

Sen. Barack Obama, D-Ill., (R) Sen. John McCain, R-Ariz., shake hands before the start of their presidential debate at Belmont University in Nashville, Tenn., 08 Oct 2008

الزامات در الزامات پر مبنی اشتہاری مہم اور اپنے سیاسی حریف کی کردار کشی میں ایک دوسرے پر سبقت  لے جانے کی ایک ہفتے سے تیز ہوتی کوششوں کے باوجود گزشتہ رات امریکہ کے دونوں صدارتی امیدواروں نے سیاسی مبصرین کے خدشات کے برعکس توازن کا دامن ہاتھ سے جانے نہیں دیا۔  آئیے دیکھتے ہیں کہ امریکہ کے دوسرے صدارتی مباحثے میں جان مکین اور براک اوباما کی کارکردگی کے حوالے سے  سیاسی مبصرین اور عام امریکی کیا کہہ رہے ہیں۔ 

سیاسی مبصرین کاکہنا ہے کہ مباحثہ توقع کےعین  مطابق رہا ،،نہ کوئی حیرت انگیز بات سامنے آئی نہ ہی کسی نے کوئی بڑی غلطی کی۔ جان مکین نے اوباما کو امریکی عوام کے لئے اجنبی قرار دیا تو  اوباما نے مکین کو بش انتظامیہ کا تسلسل۔ اور تو اور گزشتہ ایک ہفتے سے اوباما اور مکین کیمپ کی جانب سے ایک دوسرے کے خلاف زاتی حملوں میں جو شدت نظر آرہی تھی ،اس کا کوئی بڑا مظاہرہ بھی اس مباحثے کے دوران دیکھے میں نہیں آیا۔ تاہم مکین نے اس رات ڈیبیٹ ہال میں موجود 80 غیر جانب دار ووٹرز اور لاکھوں ناظرین کو ایک دلچسپ لمحہ 2005کے توانائی کے منصوبے پر بات کے دوران فراہم کیا۔

عراق جنگ کے حوالے سے مکین اوراوباما دونوں نے اپنا وہی  موقف کو دوہرایا جوڈیڑھ سال سے جاری انتخابی مہم کے دوران بار ہا امریکی ووٹر سن چکے ہیں یعنی مکین کے مطابق گزشتہ سال عراق میں مزید فوج بھیجنے کاان  کا موقف درست تھا جبکہ اوباماکے خیال میں عراق پر حملہ کا فیصلہ ہی غلط تھا۔  جان مکین القاعدہ اور پاکستان کے حوالے سے اوباما کے بیانات کو ناتجربہ کاری کا نتیجہ اور امور خارجہ اور قومی سلامتی کے معاملات پر  اپنے تجربہ کار ہونے کا  ذکر کرتے رہےاور اوباما نے اسی شعبہ میں مکین کے تجربے پر سوالات اٹھائے۔

ڈیبیٹ ہال میں موجود دونوں سیاسی جماعتوں   کے کیمپین مینیجرز اپنے اپنے امیدوار کی کارکردگی سے خوش  اور دوسرے کی کارکردگی سے ناخوش نظر آئے۔

اوباما نے مسٹر بل آئیرز کے ساتھ اپنے تعلقات کے درست نوعیت نہیں بتائی۔ انہوں نے صرف یہ کہا کہ وہ میرے پڑوس میں رہتا تھا۔ ہم جانتے ہیں کہ یہ سچ نہیں ہے۔

سیاسی امور پر لکھنے والی ایک  لیزا سیڈوٹی کا کہناتھا کہ میرے خیال میں یہ اوباما کے لئے اچھی رات تھی۔ وہ مہذب ، پر اعتماد ،تحمل مزاج نظر آرہے تھے اور کہیں بھی مکین انہیں دبانے میں کامیاب نہیں ہوئے۔  اوباما ٹاون ہال انداز کے مباحثوں کے عادی نہیں مگر ان کی کارکردگی خاصی اچھی رہی۔

امریکہ کے معاشی بحران کے حوالے امیدواروں کا نکتہ نظر کتنا واضح تھا۔ اور ان کی باڈی لینگویج کس سوال کے جواب میں کیا تھی یہ  بھی ڈیبیٹ ہال میں موجود افراد کی رائے پر اثر انداز ہوا

نینا ایرلر کا کہنا تھا کہ مجھے اوباما کی کارکردگی نے کچھ مایوس کیا ہے۔ ویسے تو ان کی کارکردگی اچھی تھی مگر میرا خیال تھا کہ وہ اپنی پالیسیوں کے بارے میں کچھ زیادہ کھل کر بات کریں گے۔
Vo
چائے خانوں ،چھوٹے ہوٹلوں اور امریکہ کے بازاروں میں امریکہ کے صدارتی امیدواروں کو الجھتے دیکھنے والے عام آدمی ڈونلڈ فرینک کا خیال ہے کہ
 
 ڈونلڈ فرینک نے اپنی رائے کا اظہار کچھ اس طرح کیا  کہ مکین نے پہلے مباحثے میں اچھی کارکردگی کا مطاہرہ کیاتھا  مگر اس بار وہ ہار گئے۔
 
ایک ریسٹورانٹ کی مالکہ  کرسٹین شورٹز نے کہا کہ میرے خیال میں کوئی امیدوار مجھے یہ یقین نہیں دلا رہا کہ میرا چھوٹا سا بزنس اگلے ایک  سال میں بھی اسی طرح قائم رہے گا۔ ۔ میرا کوئی نقصان نہیں ہوگا۔

لیکن امریکی چینلز پر جاری بحثوں میں الجھےتجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ اس مباحثے میں  مکین سے جس  کردار کی توقع تھی ،وہ اس میں کامیاب نہیں ہوئے اس لئے زیادہ تر امریکیوں کے لئے اوباما ایک محفوظ انتخاب ثابت ہونگے۔

جان مکین اور باراک اوباما کے درمیان تیسرا اور آخری مباحثہ 15اکتوبر کو نیویارک میں ہوگا۔

emailme.gif اس صفحے کو ای میل کیجیے
printerfriendly.gif قابل چھپائی صفحہ

  اہم ترین خبر
ترکی میں سہ فریقی سربراہ اجلاس

  مزید خبریں
کشیدگی میں اضافے سے بھارتی فلم ڈسٹری بیوٹرز پریشان
دہشت گرد دنیا کے کسی ملک کو بڑے پیمانے پر تباہی پھیلانے والے ہتھیاروں کانشانہ بنا سکتے ہیں: رپورٹ  Video clip available
آئی ایم ایف کا قرضہ پرانے قرضے چکانے کے لیے استعمال ہوگا  Video clip available
صوفیانہ شاعر ی میں نسوانی آوازیں  Video clip available
ممکنہ فضائی حملوں کی دھمکی کے بعد بھارتی ہوائی اڈوں پر ہائی الرٹ
ممبئی حملوں سے لشکرِ طیبہ کا کوئی تعلق نہیں: حافظ سعید کے ترجمان کا بیان
مہاراشٹر کے وزیرِ اعلیٰ نے ممبئی حملوں کی اخلاقی ذمے داری قبول کرتے ہوئے استعفیٰ دے دیا
پی سی بی میں بڑے پیمانے پر اصلاحات کا اعلان
بابری مسجد کی شہادت کی یاد میں
بانی ... نئی غزل کی منفرد آواز
امریکی فوجیں مزید تین سال تک عراق میں رہی گی
بنگلہ دیشی مصوروں کی نمائش، پریشانی میں سکون
یورپی بینکوں نے شرحِ سُود کم کردی
امریکہ کے ساتھ مثبت تعلقات کی اُمید ہے: پُوتن
زمبابوے میں ہیضے کی وبا اور حفظانِ صحت کے نظام کا خاتمہ
امریکا اپنی معیشت کو مستحکم بنائے: چین
بھارتی لوگوں کے رویے میں تبدیلی نہیں آئی: ممبئی سے واپس آنے والے پاکستانی فنکار    
سعودی عرب میں حج کے لیے زبردست حفاظتی انتظامات
بھارت کو دہشت گردی کے خلاف روسی مدد کی پیش کش
بھارت نوجوان نسل کو تعلیم اور تربیت فراہم کرے: رپورٹ
امریکی کار ساز کمپنیاں حکومت سے امداد کی منتظر ہیں
رفعت سروش کے انتقال کے ساتھ ترقی پسند ادب کے ایک عہد کا خاتمہ
افغانستان کے مستقبل کے بارے میں اقوامِٕ متحدہ کے مشن کی محتاط رائے  
”پاکستانی قیادت کے ذمہ دارانہ اور تسلی بخش دلائل“  Video clip available
”ممبئی حملوں اور پاکستانی تنظیموں کے مابین تعلق کی تحقیقات کی جائیں“
”زرداری نے یقین دلایا ہے کہ شواہد ملے تو کارروائی کریں گے“
کیا امریکہ 1930 کی کساد بازاری کی طرف بڑھ رہاہے؟  Video clip available
اوباما نے نیو میکسیکو کے  گورنر بل رچرڈ سن کو اپنی اقتصادی ٹیم میں شامل کرلیا  Video clip available
ممبئی حملے: حکومت کے خلاف عوامی برہمی میں اضافہ
اقتصادی بحران کےجلد خاتمے کے لیے  کوشش کریں گے : اوباما
ملکہ برطانیہ کا پارلیمنٹ سے خطاب: معیشت  کی بحالی سرفہرست
بان کی مون کا صدر زرداری کو فون
آدھی رات کا سورج ۔۔۔ بارھویں قسط: خوابوں خیالوں کا شہر
’پانچ سال کے اندر دنیا میں دہشت گردوں کی طرف سے بڑے حملے کا خدشہ‘
اسرائیل نے غرب ِ اردن میں پولیس بھیج دی
برما : سیاسی قیدی دور دراز جیلوں میں منتقل
افغانستان: 13 عسکریت پسند ہلاک
بنکاک: مظاہروں کے بعد پہلی پرواز  کی آمد
زمبابوے: پولیس نے دو مظاہرے منشتر کردیے
جاپان: شہنشاہ آکی ہیتو علیل، سرکاری مصروفیات منسوخ
بھارت کا گیارہ ستمبر؟
چین: نرسنگ ہوم میں آتش زدگی، 7 افراد ہلاک
فلپائن: باغیوں کے حملے میں پانچ فوجی ہلاک