الزامات در الزامات پر مبنی اشتہاری مہم اور اپنے سیاسی حریف کی کردار کشی میں ایک دوسرے پر سبقت لے جانے کی ایک ہفتے سے تیز ہوتی کوششوں کے باوجود گزشتہ رات امریکہ کے دونوں صدارتی امیدواروں نے سیاسی مبصرین کے خدشات کے برعکس توازن کا دامن ہاتھ سے جانے نہیں دیا۔ آئیے دیکھتے ہیں کہ امریکہ کے دوسرے صدارتی مباحثے میں جان مکین اور براک اوباما کی کارکردگی کے حوالے سے سیاسی مبصرین اور عام امریکی کیا کہہ رہے ہیں۔
سیاسی مبصرین کاکہنا ہے کہ مباحثہ توقع کےعین مطابق رہا ،،نہ کوئی حیرت انگیز بات سامنے آئی نہ ہی کسی نے کوئی بڑی غلطی کی۔ جان مکین نے اوباما کو امریکی عوام کے لئے اجنبی قرار دیا تو اوباما نے مکین کو بش انتظامیہ کا تسلسل۔ اور تو اور گزشتہ ایک ہفتے سے اوباما اور مکین کیمپ کی جانب سے ایک دوسرے کے خلاف زاتی حملوں میں جو شدت نظر آرہی تھی ،اس کا کوئی بڑا مظاہرہ بھی اس مباحثے کے دوران دیکھے میں نہیں آیا۔ تاہم مکین نے اس رات ڈیبیٹ ہال میں موجود 80 غیر جانب دار ووٹرز اور لاکھوں ناظرین کو ایک دلچسپ لمحہ 2005کے توانائی کے منصوبے پر بات کے دوران فراہم کیا۔
عراق جنگ کے حوالے سے مکین اوراوباما دونوں نے اپنا وہی موقف کو دوہرایا جوڈیڑھ سال سے جاری انتخابی مہم کے دوران بار ہا امریکی ووٹر سن چکے ہیں یعنی مکین کے مطابق گزشتہ سال عراق میں مزید فوج بھیجنے کاان کا موقف درست تھا جبکہ اوباماکے خیال میں عراق پر حملہ کا فیصلہ ہی غلط تھا۔ جان مکین القاعدہ اور پاکستان کے حوالے سے اوباما کے بیانات کو ناتجربہ کاری کا نتیجہ اور امور خارجہ اور قومی سلامتی کے معاملات پر اپنے تجربہ کار ہونے کا ذکر کرتے رہےاور اوباما نے اسی شعبہ میں مکین کے تجربے پر سوالات اٹھائے۔
ڈیبیٹ ہال میں موجود دونوں سیاسی جماعتوں کے کیمپین مینیجرز اپنے اپنے امیدوار کی کارکردگی سے خوش اور دوسرے کی کارکردگی سے ناخوش نظر آئے۔
اوباما نے مسٹر بل آئیرز کے ساتھ اپنے تعلقات کے درست نوعیت نہیں بتائی۔ انہوں نے صرف یہ کہا کہ وہ میرے پڑوس میں رہتا تھا۔ ہم جانتے ہیں کہ یہ سچ نہیں ہے۔
سیاسی امور پر لکھنے والی ایک لیزا سیڈوٹی کا کہناتھا کہ میرے خیال میں یہ اوباما کے لئے اچھی رات تھی۔ وہ مہذب ، پر اعتماد ،تحمل مزاج نظر آرہے تھے اور کہیں بھی مکین انہیں دبانے میں کامیاب نہیں ہوئے۔ اوباما ٹاون ہال انداز کے مباحثوں کے عادی نہیں مگر ان کی کارکردگی خاصی اچھی رہی۔
امریکہ کے معاشی بحران کے حوالے امیدواروں کا نکتہ نظر کتنا واضح تھا۔ اور ان کی باڈی لینگویج کس سوال کے جواب میں کیا تھی یہ بھی ڈیبیٹ ہال میں موجود افراد کی رائے پر اثر انداز ہوا
نینا ایرلر کا کہنا تھا کہ مجھے اوباما کی کارکردگی نے کچھ مایوس کیا ہے۔ ویسے تو ان کی کارکردگی اچھی تھی مگر میرا خیال تھا کہ وہ اپنی پالیسیوں کے بارے میں کچھ زیادہ کھل کر بات کریں گے۔ Vo چائے خانوں ،چھوٹے ہوٹلوں اور امریکہ کے بازاروں میں امریکہ کے صدارتی امیدواروں کو الجھتے دیکھنے والے عام آدمی ڈونلڈ فرینک کا خیال ہے کہ
ڈونلڈ فرینک نے اپنی رائے کا اظہار کچھ اس طرح کیا کہ مکین نے پہلے مباحثے میں اچھی کارکردگی کا مطاہرہ کیاتھا مگر اس بار وہ ہار گئے۔
ایک ریسٹورانٹ کی مالکہ کرسٹین شورٹز نے کہا کہ میرے خیال میں کوئی امیدوار مجھے یہ یقین نہیں دلا رہا کہ میرا چھوٹا سا بزنس اگلے ایک سال میں بھی اسی طرح قائم رہے گا۔ ۔ میرا کوئی نقصان نہیں ہوگا۔
لیکن امریکی چینلز پر جاری بحثوں میں الجھےتجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ اس مباحثے میں مکین سے جس کردار کی توقع تھی ،وہ اس میں کامیاب نہیں ہوئے اس لئے زیادہ تر امریکیوں کے لئے اوباما ایک محفوظ انتخاب ثابت ہونگے۔
جان مکین اور باراک اوباما کے درمیان تیسرا اور آخری مباحثہ 15اکتوبر کو نیویارک میں ہوگا۔