1988ء میں بھی بند کمرے میں پارلیمنٹ کا اجلاس ہوا تھا ۔۔۔ پھر پارلیمنٹ رہی نہ وزیراعظم
اسد حسن واشنگٹن October 9, 2008
جنرل حمید گل
بند کمرے میں پارلیمنٹ کا اجلاس اس سے پہلے 1988ء میں بھی ہوا تھا۔ اراکین پارلیمنٹ کو اس سے پہلے بھی بریفنگ دی گئی تھی مگر اس کے بعدکیا ہوا؟ پارلیمنٹ رہی نہ وزیراعظم۔ حتی کہ جونیجو صاحب کے بعد صدرضیا بھی چلے گئے۔ ان خیالات کا اظہار آئی ایس آئی کے سابق سربراہ لیفٹینینٹ جنرل حمید گل نے وائس آف امریکہ کے پروگرام ’آج شام‘ میں کیا۔
سنہ 88 میں پارلیمنٹ کو بریفنگ دینے والے اس وقت کے آئی ایس آئی چیف کا کہنا ہے کہ بند کمرے میں پارلیمنٹ کی بریفنگ سے زیادہ توقعات نہیں رکھی جانی چاہیئیں۔ جنرل حمید گل کا کہنا ہے کہ اس اجلاس میں ممکنہ طور پر اراکین پارلیمنٹ کو یہ بتایا جائے گا کہ امریکہ کی حکم عدولی ممکن ہے نہ مغربی ملکوں سے اختلاف۔ اگر ایسا کیا گیا تو ملک شدید اقتصادی مشکلات میں گھر جائے گا، اس لیے بہتر یہی ہے کہ امریکہ کے ساتھ جاری پالیسی کو نہ چھیڑا جائے۔
پاکستانی خفیہ ایجنسی کے سابق سربراہ نے کہا کہ صدرزرداری کمٹمنٹ پہلے دے چکے ہیں، اجلاس بعد میں بلایا جا رہا ہے۔ جینیوا مذاکرات کے حوالے سے ایسی ہی صورتِ حال 1988ء میں بھی تھی۔ فوج اور صدرضیا چاہتے تھے کہ روس افغانستان سے نکلنے سے قبل عبوری حکومت تشکیل دے وگرنہ خانہ جنگی ہو سکتی ہے۔ امریکہ کا جونیجو صاحب پر دباؤ تھا کہ روس فی الفور نکلے باقی بعد میں دیکھا جائے گا۔ جونیجو صاحب امریکہ کو زبان دے چکے تھے جبکہ پارلیمنٹ میں ایک طرح سے بغاوت ہو گئی۔
امریکہ کے دورے پر موجود سینیٹر مشاہد حسین نے سکیورٹی بریفنگ کا خیر مقدم
کرتے ہوئے کہا کہ دہشت گردی کے خلاف جنگ جیسے قومی معاملات پر قومی موقف
اختیار کرنے کی تجویز انہوں نے ہی پیش کی تھی۔ انہوں نے امید ظاہر کی کہ
صدر زرادری پارلیمنٹ سے ماورا فیصلے نہیں کریں گے اور وقت آگیا ہے کہ
پارلیمنٹ کے اندر پالیسی تشکیل دی جائے۔
پاکستان مسلم لیگ نواز کے راہنما سینیٹر اقبال ظفرجھگڑا نے وائس آف امریکہ
سے گفتگو میں کہا کہ ملک میں سکیورٹی کے حالات اگرچہ انتہائی خراب ہیں لیکن
اب بھی اچھے کی امید رکھی جا سکتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ معاملہ بالآخر
پارلیمنٹ میں آ گیا ہے جو کہ خوش آئند ہے۔ انہوں نے کہا کہ اگر امریکہ کے
ساتھ شخصی سطح پر معاملات موجود بھی ہیں تو ان کا ازسرنو جائزہ لینے کی
ضرورت ہے۔ انہوں نے کہا کہ اب کسی ایک شخص کو قوم پر اپنے فیصلے مسلط کرنے
کی بجائے قوم کے فیصلے کی پیروی کرنی چاہیے۔
سینیئرسیاست دان اور سابق ڈپٹی سپیکر قومی اسمبلی وزیراحمد جوگیزئی پیپلز پارٹی سے وابستہ ہونے کے باوجود مانتے ہیں کہ اس طرح کے اجلاس سے بہتر تھا کہ پوری قوم کو اعتماد میں لیا جاتا۔ ملک کو درپیش صورتِ حال سے اب ہر کوئی واقف ہے اور ہرایک کو اس بارے میں تشویش ہے۔
سینیئرصحافی اور تجزیہ کار صالح ظافر کا کہنا ہے کہ آج کے پارلیمنٹیرینز کی اکثریت میں یہ سکت نہیں کہ وہ پارٹی لائن سے ہٹ کر سوچیں بھی۔ ان سے یہ توقع رکھنا عبث ہے کہ وہ بریفنگ دینے والوں سے کوئی تنقیدی سوال بھی کر سکیں۔ صالح ظافر نے بتایا کہ بدھ کو ہونے والے بند کمرے کے اجلاس سے متعلق جو’خبریں‘ باہر آئی ہیں اس کے مطابق پارلیمنٹرییننز کی اکثریت نے تابعداروں کی طرح اجلاس میں شرکت کی اور خاموشی پر ہی اکتفا کیا۔
صالح ظافر کہتے ہیں کہ پارلیمنٹیرینز کی اکثریت مستند جمہوری معیارکے مطابق اس سیاسی بلوغت کی حامل نہیں ہے جس کے حامل نمائندہ جمہوری ملکوں کے اراکین پارلیمنٹ ہوا کرتے ہیں۔