گوانتانامو میں قید چینی باشندے رہائی کے مستحق ہیں: واشنگٹن پوسٹ
October 9, 2008
ایک امریکی وفاقی اپیل عدالت نے اُن 17چینی ویغور(Uighur) باشندوں کی قید سے رہائی کے حکم پر عمل درآمد کو رکوا دیا ہے جو کئی برس سے گوانٹانامو کے فوجی کیمپ میں زیرِ حراست ہیں اور جِن کی رہائی کے لیے ایک جج نے احکامات جاری کر دیے تھے۔ اِس پر تبصرہ کرتے ہوئے واشنگٹن پوسٹ کہتا ہے کہ وفاقی اپیل کورٹ کا فیصلہ اپنی جگہ درست ہو سکتا ہے لیکن اِس کا یہ مطلب نہیں کہ چینی باشندے رہا ہونے کے مستحق نہیں ہیں۔ اخبار کہتا ہے کہ اِن لوگوں کو بہت پہلے رہائی مل جانی چاہیئے تھی۔ جیسا کہ حکومت نے اعتراف کیا ہے کہ یہ قیدی دشمن کے لشکری نہیں تھے جو امریکہ یا اُس کے مفادات کو نقصان پہنچانے پر تُلے ہوئے تھے بلکہ اُس کی دشمنی کا ہدف اُن کا اپنا ملک یعنی چین تھا جِس کی تاریخ اِس بات کی گواہ ہے کہ اس نے ویغور باشندوں پر ظلم ڈھایا ہے۔ اگرچہ اِس سے دہشت گردی کے اُس مسئلے کا جواز نہیں بنتا،نیو یارک ٹائمز کہتا ہے کہ ہم تو صرف اتنا جانتے ہیں کہ امریکی فوجوں کے لیے واپسی کی حتمی تاریخ اور صائب منصوبہ بندی کے تعین ہی سے امید کی جا سکتی ہے کہ عراقی وہ سیاسی اصلاحات نافذ کریں گے جو ملک کو مستحکم کرنے کے لیے ضروری ہیں۔ صوبائی انتخابات جنوری تک منعقد کرنے کا جو فیصلہ عراقی پارلیمنٹ نے کیا ہے، اُس کو سراہتے ہوئے اخبار نے عراق اور امریکہ پر زور دیا ہے کہ یہ انتخابات آزادانہ اور منصفانہ ہونے چاہئیں، تاکہ سنی قبائل اور مفلوک الحال شیعہ اِس میں شرکت کر سکیں جو ماضی میں محرومی کا شکار رہے ہیں۔