نیٹو افغانستان میں انسدادِ منشیات کی کارروائیوں میں حصہ لے گی
October 10, 2008
نیٹو افغانستان میں منشیات کے کاروبار پر براہ راست حملوں کی اجازت دینے کی امریکی دراخوست پر منتفق ہوگیا ہے۔
اتحاد کے ایک ترجمان جیمز اپاتھوریا نے اس معاہدے کا اعلان جمعے کےروز کیا۔ انہوں نے کہا کہ اس معاہدے کے تحت بین الاقوامی فورسز منشیات کی تنصیبات کے خلاف کارروائی کے لیے افغان فورسز کے ساتھ مل کر کام کریں گی۔ منشیات کے ذریعے حاصل ہونے والے فنڈز طالبان کو اپنی شورش جاری رکھنے میں مدد فراہم کرتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ کسی بھی کارروائی کے لیے اس میں شامل تمام ممالک کی منظوری درکارہوگی۔
امریکی وزیر خارجہ رابرٹ گیٹس نے بودا پیسٹ میں نیٹو کے وزرائے خارجہ کے اجلاس میں طالبان کو سرمایے کی فراہمی روکنے کے لیے منشیات کے کاروبار اور لیبارٹریوں کو نشانہ بنانے کے لیے فنڈز میں اضافہ کرنے کی اپیل کی تھی۔
انہوں نے بڑے پیمانے پر پوست کی فصل کی تلفی کو خارج از امکان قرار دے دیا۔ کیونکہ اس سے مقامی کاشت کار ،ان کے خلاف ہوسکتے ہیں، جن کی گذر اوقات پوست کی فصل پر ہے۔
نیٹو کے بعض اتحادیوں نے، جن میں جرمنی شامل ہے، انسداد منشیات کی مہم پر اپنے تحفظات کا یہ کہتے ہوئے اظہار کیا ہے کہ اس طرح کی مہم افغان حکومت کو خود چلانی چاہیئے۔