افغانستان میں صورتِ حال ابتر ہو رہی ہے: امریکی فوجی سربراہ
عائشہ تنظیم نیویارک October 10, 2008
امریکہ کے اعلٰی ترین فوجی اہل کار کے مطابق افغانستان کی صورتِ حال اگلے سال مزید خراب ہونے کا خدشہ ہے۔
چیئرمین آف جوائنٹ چیفس آف سٹاف ایڈمرل مائکل ملن کے مطابق ’چیزیں صحیح سمت نہیں جا رہیں۔”
انہوں نے یہ بھی کہا کہ امریکہ، نیٹو اور دیگر ممالک کے درمیان ابھی تک اس قسم کی یک جہتی دیکھنے میں نہیں آئی جس سے تشدد پر قابو پانے میں مدد ملے۔
افغانستان کے مسائل کا ذکر کرتے ہوئے مسٹر ملن نے کہا کہ وہاں پوست کی کاشت بڑا مسئلہ ہے جس سے شدت پسندوں کی مالی ضروریات پوری ہوتی ہیں اور انہیں اسلحہ خریدنے اور امریکی اور نیٹو افواج کے خلاف کارروائیاں کرنے میں مدد ملتی ہے۔ بعض اندازوں کے مطابق افغانستان میں پیدا ہونے والی ہیروئن سے طالبان ہر سال دس کروڑ ڈالر کما لیتے ہیں۔
اس کے علاوہ افغانستان کی کمزور وفاقی حکومت کی وجہ سے ملک میں امن و امان کے مسائل پر قابو پانا مشکل ہے، جس کی وجہ سے تعمیرِ نو کا کام بھی رکا ہوا ہے۔ مسٹر ملن کے مطابق مقامی قبائلی رہنماؤں کو مضبوط کرنے کی ضرورت ہے۔
ایڈمرل ملن نے ایک دفعہ پھر امریکی حکومت کی پرانی شکایت دہرائی کہ سرحد پار پاکستان کے قبائلی علاقوں میں شدت پسندوں کو محفوظ پناہ گاہیں میسر ہیں جہاں بیٹھ کر وہ حملوں کے منصوبے بناتے ہیں، اور ان کے حملے دن بدن زیادہ مربوط ہوتے جا رہے ہیں۔
امریکی فوجی کمانڈر کا یہ بیان ایک ایسے وقت سامنے آیا ہے جب بش انتظامیہ اپنی افغان پالیسی پر نظر ثانی کر رہی ہے۔ اس سلسلے میں پہلے ہی اگلے سال کے اوائل میں مزید آٹھ ہزار فوجی امریکہ بھیجنے کا فیصلہ کیا جا چکا ہے لیکن افغانستان میں امریکی فوجوں کے کمانڈر جنرل ڈیوڈ میک کیئرنن کے مطابق یہ تعداد کافی نہیں ہے اور اس کے علاوہ مزید 15 ہزار فوجیوں کی ضرورت ہے۔
امریکہ کی طرف سے اس کے حامیوں پر بھی زور دیا جا رہا ہے کہ وہ مزید فوجیں افغانستان بھیجیں لیکن ابھی تک اس کے کوئی نتائج دیکھنے کو نہیں ملے۔
ایڈمرل ملن کے مطابق ضروری ہے کہ افغانستان میں موجود 42 ممالک مل کر مشترکہ پالیسی بنائیں کہ افغانستان کے مسائل سے کیسے نمٹا جائے۔