ہندوستان میں عطر کی تاریخ کافی پرانی ہے۔ جب شیر شاہ نے ہمایوں کو شکست دی تھی اور اس دربدری کے عالم میں قنوج کے دوران قیام اکبر کی پیدائش ہوئی تھی تو ہمایوں کے پاس عطر کے سوا اور کچھ نہیں تھا کہ وہ اپنے جاں نثاروں میں کچھ تقسیم کر سکے۔ اس نے اسی عطر کو تقسیم کیا تھا اور ایک بزرگ نے کہا تھا کہ اس اولاد کی خوشبو ساری دنیا میں مشک کی طرح پھیل جائے گی اور پھر حالات نے ثابت کیا کہ ایسا ہی ہوا۔
پھر یہی قنوج خوشبو کی راج دھانی بنا۔ جو اب تک ہے۔ گذشتہ 500برسوں سے یہاں عطر کا کاروبار ہو رہا ہے اور یہ اس کی پیدا وار کا سب سے بڑا مرکز ہے۔ لیکن اس مرکز کی دریافت جہانگیر کے زمانے میں ہوئی۔ کیوں کہ ملکہ نور جہاں کے حمام میں ان کے نہانے کے پانی میں گھنٹوں قبل گلاب کی پنکھڑیاں ڈال دی جاتی تھی، جس سے پانی خوشبو دار ہو جاتا تھا۔ یہ پنکھڑیاں قنوج کے باغ سے لائی جاتی تھیں۔ ایک دن نور جہاں نے دیکھا کہ پانی پر تیل جیسی کوئی چیز تیر رہی ہے اور اسی سے” روح گلاب“ یا عرقِ گلاب کی دریافت ہوئی۔
اس کے بعد سے ہی عطر بنانے کا تصور لوگوں کے ذہن میں آیا اور قنوج میں بڑے پیمانے پر گلاب کی کاشت ہو نے لگی، جس کا سلسلہ آج تک جاری ہے۔ ایک طرح سے قنوج خوشبو کا ہم معنی بن گیا ہے کہ اس شہر کا نام لیتے ہوئے خوشبو کا تصور ذہن میں بس جاتا ہے۔ نامور مورخ پروفیسر امتیاز احمد کا کہنا ہے کہ کشید کرنے کا طریقہ 13ویں صدی عیسوی میں ترکی سے ہندوستان آیا تھا۔ یہاں جو ترک تاجر اور سیاح آئے۔ انہوں نے ہی ہندوستان کے لوگوں کو عطر کشید کرنے کا طریقہ بتایا۔
گذشتہ صدی میں ایک اور نام عطر کے ہم معنی کے طور پر استعمال ہو تا رہا ہے۔ یہ نام تھا لکھنئو کے اصغر علی، محمد علی تاجر عطر کا۔ قدیم لکھنئو کے چوک علاقہ میں ایک شاہراہ ہمہ وقت معطر رہتی تھی۔ اس کا سبب تھا اس شاہراہ پر واقع ” حنا منزل “میں اصغر علی، محمد علی کا کارخانہ ہوا کرتا تھا۔ یہاں سے نکل کر عطر کی خوشبو پورے ماحول کو معطر کر دیتی تھی اور یہاں سے نکل کر عطر کے مرتبان بر صغیر کے مختلف شہروں میں ہی نہیں بلکہ دنیا کے مختلف ممالک میں جایا کرتے تھے۔ سعودی عرب میں توا س کی بہت مانگ تھی لیکن تقسیم ملک کے بعد اس خاندان کے افراد پاکستان ہجرت کر گئے اور یہ کارخانہ بند ہو گیا۔ مگر پرانے اشخاص کے اذہان میں ان عطریات کی خوشبو آج بھی بسی ہوئی ہے۔ جو ایک سرد آہ کے ساتھ اسے یاد کرتے ہیں۔
اس کارخانے کے بند ہو نے کے بعد متعدد تاجر عطر سامنے آئے۔ مگر کسی کو وہ شہرت اور مقبولیت حاصل نہیں ہو سکی۔ البتہ قنوج میں عطریات کی تجارت کو 500سال ہو چکے ہیں اور آج بھی وہاں قدیم روایتی طریقے سے ہی عطر نکالا جاتا ہے اور اس کی بڑی مقدار سعودی عرب کو برآمد کی جاتی ہے۔ یہاں روایتی انداز سے پرانے قرنبیق میں بھاپ کے مرغولے اٹھا کر انہیں جمع کیاجاتا ہے اور پھر ان خوشبوؤں کو بوتلوں میں بند کر دیا جاتا ہے۔ مشرقی اتر پردیش میں واقع دور افتادہ قنوج کی آبادی تقریباً 80ہزار نفوس پر مشتمل ہے، جس میں سے نصف سے زائد آبادی اسی کاروبار سے وابستہ ہے۔ یہاں عطر بنانے کے تقریباً 250کارخانے ہیں جس میں 30بڑے اور بقیہ درمیانہ درجہ یا چھوٹے درجے کے ہیں۔ ان میں سے ایک درجن کی پوزیشن کافی مستحکم ہے۔ کیوں کہ ان کے عطریات غیر ممالک میں برآمد ہوتے ہیں اور اس سے ملک کو خاصا زر مبادلہ حاصل ہو تا ہے۔
اگرچہ ابھی تمام کارخانوں میں عطر روایتی طریقے سے ہی تیار کیاجاتا ہے لیکن کچھ تاجر اسے جدید مشینوں کے ذریعہ بنانے پر غور کر رہے ہیں مگر اب تک اس سمت میں کوئی بڑا قدم نہیں اٹھایا گیا۔شاید نیا قدم اٹھانے سے سبھی ڈرتے ہیں کہ اس کے مثبت نتائج برآمد ہوں گے یا نہیں۔
سعودی عرب کے عوام جنون کی حد تک عطر سے محبت کرتے ہیں۔ وہاں عطر کی زیادہ ضروریات قنوج سے ہی پوری کی جاتی ہے، مگر خود سعودی عرب کے طائف میں بھی گلاب کے دلکش باغات ہیں۔ طائف کے معنی ہی گلاب ہیں۔ وہاں بھی عطر بنانے کے کارخانے ہیں جہاں قرنبیق میں بھاپ کے خوشبو دار حباب پیدا کر کے عطر جمع کیا جاتا ہے۔ ایک طرح سے طائف کو بھی قنوج کی حیثیت حاصل ہو گئی ہے۔