Urdu ▪ وائس آف امریکہ
غیر جانبدار خبریں  |  دلچسپ معلومات

صرف متن
Search

خوشبو کا سفر، قنوج میں عطر کی صنعت


October 10, 2008

 ہندوستان میں عطر کی تاریخ کافی پرانی ہے۔ جب شیر شاہ نے ہمایوں کو شکست دی تھی اور اس دربدری کے عالم میں قنوج کے دوران قیام اکبر کی پیدائش ہوئی تھی تو ہمایوں کے پاس عطر کے سوا اور کچھ نہیں تھا کہ وہ اپنے جاں نثاروں میں کچھ تقسیم کر سکے۔ اس نے اسی عطر کو تقسیم کیا تھا اور ایک بزرگ نے کہا تھا کہ اس اولاد کی خوشبو ساری دنیا میں مشک کی طرح پھیل جائے گی اور پھر حالات نے ثابت کیا کہ ایسا ہی ہوا۔

 پھر یہی قنوج خوشبو کی راج دھانی بنا۔ جو اب تک ہے۔ گذشتہ 500برسوں سے یہاں عطر کا کاروبار ہو رہا ہے اور یہ اس کی پیدا وار کا سب سے بڑا مرکز ہے۔ لیکن اس مرکز کی دریافت جہانگیر کے زمانے میں ہوئی۔ کیوں کہ ملکہ نور جہاں کے حمام میں ان کے نہانے کے پانی میں گھنٹوں قبل گلاب کی پنکھڑیاں ڈال دی جاتی تھی، جس سے پانی خوشبو دار ہو جاتا تھا۔ یہ پنکھڑیاں قنوج کے باغ سے لائی جاتی تھیں۔ ایک دن نور جہاں نے دیکھا کہ پانی پر تیل جیسی کوئی چیز تیر رہی ہے اور اسی سے” روح گلاب“  یا عرقِ گلاب کی دریافت ہوئی۔

اس کے بعد سے ہی عطر بنانے کا تصور لوگوں کے ذہن میں آیا اور قنوج میں بڑے پیمانے پر گلاب کی کاشت ہو نے لگی، جس کا سلسلہ آج تک جاری ہے۔ ایک طرح سے قنوج خوشبو کا ہم معنی بن گیا ہے کہ اس شہر کا نام لیتے ہوئے خوشبو کا تصور ذہن میں بس جاتا ہے۔
نامور مورخ پروفیسر امتیاز احمد کا کہنا ہے کہ کشید کرنے کا طریقہ 13ویں صدی عیسوی میں ترکی سے ہندوستان آیا تھا۔ یہاں جو ترک تاجر اور سیاح آئے۔ انہوں نے ہی ہندوستان کے لوگوں کو عطر کشید کرنے کا طریقہ بتایا۔
 
گذشتہ صدی میں ایک اور نام عطر کے ہم معنی کے طور پر استعمال ہو تا رہا ہے۔ یہ نام تھا لکھنئو کے اصغر علی، محمد علی تاجر عطر کا۔ قدیم لکھنئو کے چوک علاقہ میں ایک شاہراہ ہمہ وقت معطر رہتی تھی۔ اس کا سبب تھا اس شاہراہ پر واقع ” حنا منزل “میں اصغر علی، محمد علی کا کارخانہ ہوا کرتا تھا۔ یہاں سے نکل کر عطر کی خوشبو پورے ماحول کو معطر کر دیتی تھی اور یہاں سے نکل کر عطر کے مرتبان بر صغیر کے مختلف شہروں میں ہی نہیں بلکہ دنیا کے مختلف ممالک میں جایا کرتے تھے۔ سعودی عرب میں توا س کی بہت مانگ تھی لیکن تقسیم ملک کے بعد اس خاندان کے افراد پاکستان ہجرت کر گئے اور یہ کارخانہ بند ہو گیا۔ مگر پرانے اشخاص کے اذہان میں ان عطریات کی خوشبو آج بھی بسی ہوئی ہے۔ جو ایک سرد آہ کے ساتھ اسے یاد کرتے ہیں۔
 
اس کارخانے کے بند ہو نے کے بعد متعدد تاجر عطر سامنے آئے۔ مگر کسی کو وہ شہرت اور مقبولیت حاصل نہیں ہو سکی۔ البتہ قنوج میں عطریات کی تجارت کو 500سال ہو چکے ہیں اور آج بھی وہاں قدیم روایتی طریقے سے ہی عطر نکالا جاتا ہے اور اس کی بڑی مقدار سعودی عرب کو برآمد کی جاتی ہے۔ یہاں روایتی انداز سے پرانے قرنبیق میں بھاپ کے مرغولے اٹھا کر انہیں جمع کیاجاتا ہے اور پھر ان خوشبوؤں کو بوتلوں میں بند کر دیا جاتا ہے۔
مشرقی اتر پردیش میں واقع دور افتادہ قنوج کی آبادی تقریباً 80ہزار نفوس پر مشتمل ہے، جس میں سے نصف سے زائد آبادی اسی کاروبار سے وابستہ ہے۔ یہاں عطر بنانے کے تقریباً 250کارخانے ہیں جس میں 30بڑے اور بقیہ درمیانہ درجہ یا چھوٹے درجے کے ہیں۔ ان میں سے ایک درجن کی پوزیشن کافی مستحکم ہے۔ کیوں کہ ان کے عطریات غیر ممالک میں برآمد ہوتے ہیں اور اس سے ملک کو خاصا زر مبادلہ حاصل ہو تا ہے۔

اگرچہ ابھی تمام کارخانوں میں عطر روایتی طریقے سے ہی تیار کیاجاتا ہے لیکن کچھ تاجر اسے جدید مشینوں کے ذریعہ بنانے پر غور کر رہے ہیں مگر اب تک اس سمت میں کوئی بڑا قدم نہیں اٹھایا گیا۔شاید نیا قدم اٹھانے سے سبھی ڈرتے ہیں کہ اس کے مثبت نتائج برآمد ہوں گے یا نہیں۔

سعودی عرب کے عوام جنون کی حد تک عطر سے محبت کرتے ہیں۔  وہاں عطر کی زیادہ ضروریات قنوج سے ہی پوری کی جاتی ہے، مگر خود سعودی عرب کے طائف میں بھی گلاب کے دلکش باغات ہیں۔ طائف کے معنی ہی گلاب ہیں۔ وہاں بھی عطر بنانے کے کارخانے ہیں جہاں قرنبیق میں بھاپ کے خوشبو دار حباب پیدا کر کے عطر جمع کیا جاتا ہے۔ ایک طرح سے طائف کو بھی قنوج کی حیثیت حاصل ہو گئی ہے۔

emailme.gif اس صفحے کو ای میل کیجیے
printerfriendly.gif قابل چھپائی صفحہ

  اہم ترین خبر
ترکی میں سہ فریقی سربراہ اجلاس

  مزید خبریں
کشیدگی میں اضافے سے بھارتی فلم ڈسٹری بیوٹرز پریشان
دہشت گرد دنیا کے کسی ملک کو بڑے پیمانے پر تباہی پھیلانے والے ہتھیاروں کانشانہ بنا سکتے ہیں: رپورٹ  Video clip available
آئی ایم ایف کا قرضہ پرانے قرضے چکانے کے لیے استعمال ہوگا  Video clip available
صوفیانہ شاعر ی میں نسوانی آوازیں  Video clip available
ممکنہ فضائی حملوں کی دھمکی کے بعد بھارتی ہوائی اڈوں پر ہائی الرٹ
ممبئی حملوں سے لشکرِ طیبہ کا کوئی تعلق نہیں: حافظ سعید کے ترجمان کا بیان
مہاراشٹر کے وزیرِ اعلیٰ نے ممبئی حملوں کی اخلاقی ذمے داری قبول کرتے ہوئے استعفیٰ دے دیا
پی سی بی میں بڑے پیمانے پر اصلاحات کا اعلان
بابری مسجد کی شہادت کی یاد میں
بانی ... نئی غزل کی منفرد آواز
امریکی فوجیں مزید تین سال تک عراق میں رہی گی
بنگلہ دیشی مصوروں کی نمائش، پریشانی میں سکون
یورپی بینکوں نے شرحِ سُود کم کردی
امریکہ کے ساتھ مثبت تعلقات کی اُمید ہے: پُوتن
زمبابوے میں ہیضے کی وبا اور حفظانِ صحت کے نظام کا خاتمہ
امریکا اپنی معیشت کو مستحکم بنائے: چین
بھارتی لوگوں کے رویے میں تبدیلی نہیں آئی: ممبئی سے واپس آنے والے پاکستانی فنکار    
سعودی عرب میں حج کے لیے زبردست حفاظتی انتظامات
بھارت کو دہشت گردی کے خلاف روسی مدد کی پیش کش
بھارت نوجوان نسل کو تعلیم اور تربیت فراہم کرے: رپورٹ
امریکی کار ساز کمپنیاں حکومت سے امداد کی منتظر ہیں
رفعت سروش کے انتقال کے ساتھ ترقی پسند ادب کے ایک عہد کا خاتمہ
افغانستان کے مستقبل کے بارے میں اقوامِٕ متحدہ کے مشن کی محتاط رائے  
”پاکستانی قیادت کے ذمہ دارانہ اور تسلی بخش دلائل“  Video clip available
”ممبئی حملوں اور پاکستانی تنظیموں کے مابین تعلق کی تحقیقات کی جائیں“
”زرداری نے یقین دلایا ہے کہ شواہد ملے تو کارروائی کریں گے“
کیا امریکہ 1930 کی کساد بازاری کی طرف بڑھ رہاہے؟  Video clip available
اوباما نے نیو میکسیکو کے  گورنر بل رچرڈ سن کو اپنی اقتصادی ٹیم میں شامل کرلیا  Video clip available
ممبئی حملے: حکومت کے خلاف عوامی برہمی میں اضافہ
اقتصادی بحران کےجلد خاتمے کے لیے  کوشش کریں گے : اوباما
ملکہ برطانیہ کا پارلیمنٹ سے خطاب: معیشت  کی بحالی سرفہرست
بان کی مون کا صدر زرداری کو فون
آدھی رات کا سورج ۔۔۔ بارھویں قسط: خوابوں خیالوں کا شہر
’پانچ سال کے اندر دنیا میں دہشت گردوں کی طرف سے بڑے حملے کا خدشہ‘
اسرائیل نے غرب ِ اردن میں پولیس بھیج دی
برما : سیاسی قیدی دور دراز جیلوں میں منتقل
افغانستان: 13 عسکریت پسند ہلاک
بنکاک: مظاہروں کے بعد پہلی پرواز  کی آمد
زمبابوے: پولیس نے دو مظاہرے منشتر کردیے
جاپان: شہنشاہ آکی ہیتو علیل، سرکاری مصروفیات منسوخ
بھارت کا گیارہ ستمبر؟
چین: نرسنگ ہوم میں آتش زدگی، 7 افراد ہلاک
فلپائن: باغیوں کے حملے میں پانچ فوجی ہلاک