پارلیمان کو دی جانے والی سیکیورٹی بریفنگ پر اپوزیشن کا عدم اطمینان
ناصر محمود اسلام آباد October 10, 2008
چوہدری نثار علی خان
قومی اسمبلی میں قائد حزبِ اختلاف چودھری نثار علی خان نے بند کمرے میں پارلیمان کے مشترکہ اجلاس کو دی جانے والی بریفنگ کو یہ کہہ کر مسترد کیا ہے کہ اِس سے پارلیمان کے مشترکہ اجلاس بلائے جانے کا، اُن کے بقول، اصل مقصد حاصل نہیں ہوا۔
جمعے کو اسلام آباد میں ایک اخباری کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے مسلم لیگ ن کے مرکزی رہنما چودھری نثار نے کہا کہ اُن کی جماعت کا موقف ہے کہ پارلیمان کے مشترکہ اجلاس میں ملک کی داخلی صورتِ حال اور خارجہ پالیسی خصوصاً دہشت گردی کے خلاف جنگ میں پاک۔امریکہ تعاون کی پالیسی کو ایوان میں زیرِ بحث لایا جائے۔
اُنہوں نے کہا کہ موجودہ حکومت کو چاہیئے کہ وہ بتائے کہ سابقہ حکومت کی طرف سے امریکہ کے ساتھ کیے گئے معاہدے کیے تھے اور اُنہیں ایوان میں پیش کیا جائے اور کیا نئی حکومت بھی اُنہی معاہدوں کا پاس کر رہی ہے یا کرے گی، اور اگر نہیں تو موجودہ حکومت کی حکمتِ عملی کیا ہے۔
چودھری نثار نے حکومت پر تنقید کرتے ہوئے کہا:’پالیمنٹ کے اندرکوئی ’اِشو‘ آئے تو سب سے پہلے حکومتِ وقت اپنی پالیسی قوم کے سامنے لاتی ہے پھر اُس پر بحث ہوتی ہے۔ فوجی آپریشن کے بیان یا بریفنگ پر پالیسی ڈبیٹ نہیں ہوتی، نہ اُس پر سوال و جواب ہوتا ہے۔‘
چودھری نثار نے مطالبہ کیا کہ پیر کو شروع ہونے والے مشترکہ اجلاس کو پوری قوم کے سامنےلایا جائے۔