رواں مالی سال کی پہلی سہ ماہی میں ملک کا تجارتی خسارہ 52.65فی صد اضافےکےساتھ پانچ ارب 55کروڑ ڈالر ہوگیا۔گذشتہ برس یہ خسارہ تین ارب 63کروڑ ڈالر تھا
وفاقی ادارہٴ شماریات کے مطابق سہ ماہی کے دوران درآمدات کاحجم دس ارب 82کروڑ ڈالررہا جب کہ برآمدات کی مالیت پانچ ارب 27کروڑ ڈالر تھی۔
اقتصادی ماہرین کا کہنا ہے کہ منفی توازنِ تجارت اور ادائگیوں کا منفی توازن شرحِ مبادلہ کے ذخائر اور روپے کی قدر پر بری طرح اثر انداز ہو رہے ہیں۔
سابق وزیرِٕ خزانہ سرتاج عزیز کا کہنا ہے کہ درآمدات کم کرنے، برآمدات بڑھانے پر فوری توجہ دینے کی ضرورت ہے۔ ’ہماری یہ ترجیح ہوگی کہ درآمدات میں کتنی کمی ہو، اخراجات میں کیسی کمی ہو اور میرا خیال ہے کہ ایکس چیج ریٹز میں بھی کوئی جدت والے روپے سے فکسڈ ایکس چینج کا نظام لانا ہوگا۔‘
ملکی اقتصادی مشکلات کے بارے میں سوال کے جواب میں اُنہوں نے کہا کہ کوئی فوری اور آسان حل سامنے نہیں۔ ’کوئی بھی ایسی آپشن نہیں ہے جس سے یہ بحران حل ہوگا۔ ایک مجموعی حکمتِ عملی کی ضرورت ہے چاہے مشکل فیصلے کرنا ہوں۔ چاہے قوم کو قربانی کے لیے تیار کرنا ہو۔‘
ادھر پاکستانی اسٹاک مارکیٹ کا بحران شدت اختیار کرتا نظر آہار ہے اور بروکر نے بازار بند کرنے یا سودے نمٹانے کے لیے ’رول اور‘ کو منجمد کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔ کی قیمتیں پہلے میں 27اگست کی سطح پر منجمد ہیں۔