افغان عہدے داروں نے کہا ہے کہ انہوں نے دارلحکومت کابل کے قریب طالبان قیدیوں کی جانب سے جیل توڑنے کی ایک بڑی کوشش کوناکام بنا دیا ہے۔
ہفتے کے روز افغان انٹیلی جنس سروس نے کہا کہ عہدےد اروں نے ان تین افسروں کو گرفتار کرلیا ہے جو مبینہ طورپر پل چرخی کے قیدخانے پر حملے کے ایک منصوبے میں ملوث تھے۔
انٹیلی جنس کے عہدے داروں نے کہا ہے کہ جیل کے عہدے داروں نے ان طالبان قیدیوں کو دھماکہ خیز مواد اور موبائل فون کی بیٹریاں اسمگل کی تھیں جنہوں نے کابل جیل میں خود کش دھماکوں کے ایک سلسلے کا منصوبہ بنایاتھا۔ جیل کے عہدے داروں کو مبینہ طورپر رشوت دی گئی تھی۔
ایک ایسا ہی حملہ جون میں جنوبی شہر قندھار کی ایک جیل میں ہوا تھا ۔ طالبان خودکش بمباروں نے جیل کے مرکزی دروازوں کو خودکش دھماکوں سے اڑا کر جیل کے پندرہ محافظوں کو ہلاک کردیا تھا جس کے نتیجے میں تقریباً ایک ہزار قیدی جن میں لگ بھگ نصف طالبان تھے، فرار ہوگئے تھے۔
ایک اور خبر کے مطابق افغان صدر حامد کرزئی نے ہفتے کے روز اپنی کابینہ میں ردوبدل کیا۔ انہوں نے ایک سابق وزیر تعلیم حنیف اتمار کو جو ایک اچھی شہرت کے حامل ہیں، انسداد بدعنوانی کی داخلی وزارت کا سربراہ مقرر کردیا ہے۔
ہفتے کے روز امریکی قیادت کے اتحاد نے کہا کہ اس کے فوجیوں نے جنوبی صوبے قندھار اور صوبے غزنی میں جمعے کی رات دو کارروائیوں کے دوران 9 عسکریت پسندوں کو ہلاک کردیا۔