وادیٴ کشمیر میں پہلی ریل سروس کا افتتاح: سری نگر میں ہڑتال اور کرفیو
یوسف جمیل سری نگر October 11, 2008
بھارتی وزیرِ اعظم من موہن سنگھ نے ہفتے کے روزبھارتی زیرِ انتظام وادیٴ کشمیر میں پہلی ریل سروس کا افتتاح کیا، جب کہ سیاسی قیادت کی جانب سے احتجاج جاری ہے اور ہفتے کو وادی میں اسکول، بازار اور کاروباری مراکز بند رہے۔
کشمیر میں شروع ہونے والی یہ ریل لائن ابتدائی طور پر وادی کے شمالی قصبے راجوانشہر علاقے اور اننت ناگ کے درمیان بچھائی گئی ہے۔اِس 72کلومیٹر طویل پٹری کو آئندہ سال 117کلومیٹر تک بڑھادیا جائے گا۔
بھارتی وزیرِ اعظم نے ہفتے کے دِن بھارتی زیرِ انتظام کشمیر کا دو روزہ مکمل کرلیا۔
کل جمعے کی دوپہر، شورش زدہ علاقے میں آمد کے ساتھ ہی وادیٴ کشمیر میں استصوابِ رائے کا مطالبہ کرنے والی جماعتوں کی رابطہ کمیٹی کی اپیل پر 36گھنٹے کی عام ہڑتال شروع ہوئی تھی۔
ہڑتال کے آغاز پر بھارت مخالف مظاہرین پر حفاظتی دستوں کی فائرنگ میں سری نگر میں دو نوجوان ہلاک اور سات زخمی ہوئے تھے جب کہ مشتعل ہجوموں اور پولیس کے درمیان تصادم کے مختلف واقعات میں 75عام شہری اور 35کے قریب پولیس والے زخمی ہوئے۔
سنیچر کو تازہ بھارت مخالف مظاہروں کو روکنے کے لیے حکام نے سری نگر کے تین پولیس تھانوں کے تحت آنے والے علاقوں میں کرفیو لگا دیا، جب کہ باقی ماندہ وادیٴ کشمیر اور جموں کے بعد مسلم اکثریتی علاقوں میں ہڑتال کی گئی۔اِس دوران، مختلف آزادی پسند رہنماؤں اور جماعتوں نے بھارتی وزیرِ اعظم کی طرف سے کی گئی بات چیت کی پیش کش کو ٹھکرادیا ہے۔
وزیرِ اعظم من موہن سنگھ تے ایک پریس کانفرنس میں کہا تھا کہ اُنہیں کشمیر میں ہونے والی ہلاکتوں پر افسوس ہے اور وہ یہ سمجھتے ہیں کہ تمام متنازع امور پر حریت کانفرنس سمیت کشمیری سیاسی جماعتوں کے ساتھ بات چیت کی جا سکتی ہے اور اِس سلسلے میں حکومتِ ہند کے دروازے ہمیشہ کھلے رہیں گے۔ لیکن استصوابِ رائے کا مطالبہ کرنے والی مختلف کشمیری جماعتوں نے کہا ہے کہ اُنہیں دو طرفہ بات چیت میں کوئی دلچسپی نہیں ہے۔
البتہ اگر بھارت کمشیر میں اُن کے بقول قتل و غارت کے سلسلے کو بند کرتا ہے اور کشمیر کی متنازع حیثیت کو تسلیم کرتا ہے تو پاکستان، بھارت اور کشمیری نمائندوں کے ساتھ سہ۔فریقی بات چیت شروع کرنے پرغور کیا جا سکتا ہے، تاہم بعض آزادی پسند لیڈروں کا استدلال ہے کہ کشمیر کے مسئلے کا حل اقوامِ متحدہ کی متعلقہ قراردادوں پر عمل درآمد کے ذریعے ہی ڈھونڈا جا سکتا ہے۔
دریں اثنا، نئی دہلی کے لیے واپسی سے پہلے، بھارتی وزیرِ اعظم نے کشمیر میں ریل سروس کا افتتاح کیااور جمعے کے دِن دریائے چناب پر تعمیر کیے گئے بگلیہار ڈیم کا افتتاح کیا۔ اُنہوں نے سری نگر میں بھارت نواز جماعتوں کے قائدین اور نمائندوں کے درمیان کے ساتھ صوبے کی مجموعی صورتِ حال اور بالخصوص صوبائی اسمبلی کے لیے انتخابات کی تاریخوں کے تعین پر تبادلہٴ خیالات کیا تھا۔