باجوڑایجنسی کی انتظامیہ کی طرف سے ایجنسی میں مقیم افغان مہاجرین کو علاقہ چھوڑ نے کے لیے دی گئی ڈیڈ لائن ختم ہونے کے دو روز بعد بڑی تعداد میں افغان خاندان سرحد عبور کر کے یا تو افغانستان واپس جارہے ہیں یا پھر دیر کے راستے صوبے سرحد کے شہری علاقوں کا رخ کر رہے ہیں۔ منگل کو حکام نے سرکاری احکامات کے خلاف ورزی کرنے والے افغانوں کے خلاف کاروائی کرتے ہوئے 20مہاجرین کو گرفتار کرنے کے علاوہ ان کی متعدد دکانوں اور گھروں پر تالے بھی لگا دیے۔
حکام نے دو اکتوبر کو افغان مہاجرین کو باجوڑ سے تین دن کے اندر نکلنے کا حکم دیا تھا اور علاقے میں مقیم لگ بھگستر ہزار افغانوں کو اس حکم نامے سے آگاہ کرنے کے لیے اردو زبان میں تحریر کیے گئے اشتہارات تقسیم کرنے کے ساتھ ساتھ ایجنسی بھر کی مساجد اور سرکاری گاڑیوں پر نصب لاؤڈ سپیکروں کے ذریعے بھی یہ اعلانات کیے جاتے رہے ۔
انتظامیہ نے افغان مہاجرین کے ساتھ ساتھ مقامی لوگوں کو بھی متنبہ کیا تھا کہ جن لوگوں کے پاس یہ مہاجرین رہا ئش پذیر ہیں یا جن مقامی لوگوں نے انھیں اپنے مکانات اوردکانیں کرایہ پر دے رکھی ہیں وہ فوری طور پر انھیں خالی کرا کے افغان شہریوں کو علاقہ بدر کرنے میں انتظامیہ سے تعاون کریں۔ حکام نے مقامی لوگوں اور افغان مہاجرین کو سختی سے متنبہ کیا کہ اگر مقررہ معیاد کے اندر اندر افغان مہاجرین ایجنسی سے نہیں نکلے یا مقامی لوگوں کے پاس پائے گئے تو انتظامیہ افغان مہاجرین اور ان کو پناہ دینے والے مقامی لوگوں کے خلاف سخت کاروائی عمل میں لائی گی۔
 |
|
محتاط اندازوں کے مطابق لگ بھگ چودہ ہزار افغان مہاجرین اب تک ایجنسی سے نکل گئے ہیں جنھوں نے انخلا کے لیے دو مختلف راستے اختیار کیے ایک راستہ صدرمقام خار سے 30 کلومیٹر شمال مغرب کے جانب واقعہ غاخی پاس نامی پاک افغان سرحد اور دوسرا راستہ باجوڑایجنسی اورضلع دیر کے سرحدی علاقہ طور غنڈئی تھا ۔ اطلاعات کے مطابق مالی طور پر کمزور افغان خاندانوں نے وطن واپسی کے لیے غاخی پاس کا راستہ اختیار کیا کیونکہ یہ راستہ ایک تو نزدیک بھی ہے اور سفر کے لحاظ سے سستا بھی لیکن وعینی شاہدین کے مطابق باجوڑایجنسی میں مقیم مخیر افغانیوں نے وطن واپس جانے کی بجائے صوبہ سرحد کے مختلف بندوبستی علاقوں جن میں پشاور، مردان، نوشہرہ ، دیر اورملاکنڈ شامل ہیں کا رخ کیا جس کے لیے انھوں نے طور غنڈئی کا راستہ اختیار کیا ۔
واضح رہے کہ باجوڑایجنسی میں افغان مہاجرین گزشتہ 30 سالوں سے رہائش پذیر ہیں اور دو سال قبل حکومت پاکستان نے UNHCR کے مالی تعاون سے ایجنسی کے مختلف علاقوں میں قائم دس پناہ گزین کیمپوں اور مختلف رہائشی علاقوں میں مقیم قریباً اسی ہزار مہاجرین کو افغانستان واپس جانے میں مدد کی تھی۔ تاہم افغانستان میں سیکورٹی کی خراب صورت حال کو وجہ بنا کر ان افغانوں کی اکثریت واپس باجوڑ آ کر غیر قانونی طور پر دوبارہ آباد ہو گئی ہے۔
پاکستانی حکام کا موقف ہے کہ ان افغان باشندوں میں سے بیشتر لوگ باجوڑ ایجنسی میں امن وامان کی صورتحال خراب کرنے میں ملوث ہیں اور ان کے غیر ملکی عسکریت پسندوں کے ساتھ قریبی رابطے ہیں۔
بیشتر افغان مہاجرین نے انتظامیہ کے طرف سے دی گئی میعاد کو انتہائی کم قرار دیا ہے جبکہ زیادہ تر نے حکومت پاکستان اور اقوام متحدہ سے مطالبہ کیاہے کہ انہیں وطن واپس جانے کے لیے ٹرانسپورٹ فراہم کی جائے اور انہیں مناسب خرچہ بھی دیا جائے ۔
واضح رہے کہ پاکستانی فوج باجوڑ میں اگست کے اوائل سے ایک بڑے آپریشن میں مصروف ہے جس کا مقصد علاقے سے مقامی اور غیر ملکی جنگجوؤں کا خاتمہ ہے۔ اس آپریشن کی وجہ سے ہزاروں کی تعداد میں لوگ علاقے سے ہجرت کرکے صوبہ سرحد کے شہروں اور عارضی کیمپوں میں پناہ لینے پر بھی مجبور ہوئے ۔