Urdu ▪ وائس آف امریکہ
غیر جانبدار خبریں  |  دلچسپ معلومات

صرف متن
Search

باجوڑایجنسی سے افغان مہاجرین کا انخلا


October 7, 2008

[insert caption here]

 باجوڑایجنسی کی انتظامیہ کی طرف سے ایجنسی میں مقیم افغان مہاجرین کو علاقہ چھوڑ نے کے لیے دی گئی ڈیڈ لائن ختم ہونے کے دو روز بعد بڑی تعداد میں افغان خاندان سرحد عبور کر کے یا تو افغانستان واپس جارہے ہیں یا پھر دیر کے راستے صوبے سرحد کے شہری علاقوں کا رخ کر رہے ہیں۔ منگل کو حکام نے سرکاری احکامات کے خلاف ورزی کرنے والے افغانوں کے خلاف کاروائی کرتے ہوئے 20مہاجرین کو گرفتار کرنے کے علاوہ ان کی متعدد دکانوں اور گھروں پر تالے بھی لگا دیے۔

حکام نے دو اکتوبر کو افغان مہاجرین کو باجوڑ سے تین دن کے اندر نکلنے کا حکم دیا تھا اور علاقے میں مقیم لگ بھگستر ہزار افغانوں کو اس حکم نامے سے آگاہ کرنے کے لیے اردو زبان میں تحریر کیے گئے اشتہارات تقسیم کرنے کے ساتھ ساتھ ایجنسی بھر کی مساجد اور سرکاری گاڑیوں پر نصب لاؤڈ سپیکروں کے ذریعے بھی یہ اعلانات کیے جاتے رہے ۔

[insert caption here]

انتظامیہ نے افغان مہاجرین کے ساتھ ساتھ مقامی لوگوں کو بھی متنبہ کیا تھا کہ جن لوگوں کے پاس یہ مہاجرین رہا ئش پذیر ہیں یا جن مقامی لوگوں نے انھیں اپنے مکانات اوردکانیں کرایہ پر دے رکھی ہیں وہ فوری طور پر انھیں خالی کرا کے افغان شہریوں کو علاقہ بدر کرنے میں انتظامیہ سے تعاون کریں۔ حکام نے مقامی لوگوں اور افغان مہاجرین کو سختی سے متنبہ کیا کہ اگر مقررہ معیاد کے اندر اندر افغان مہاجرین ایجنسی سے نہیں نکلے یا مقامی لوگوں کے پاس پائے گئے تو انتظامیہ افغان مہاجرین اور ان کو پناہ دینے والے مقامی لوگوں کے خلاف سخت کاروائی عمل میں لائی گی۔

afghan refugees

محتاط اندازوں کے مطابق لگ بھگ چودہ ہزار افغان مہاجرین اب تک ایجنسی سے نکل گئے ہیں جنھوں نے انخلا کے لیے دو مختلف راستے اختیار کیے ایک راستہ صدرمقام خار سے 30 کلومیٹر شمال مغرب کے جانب واقعہ غاخی پاس نامی پاک افغان سرحد اور دوسرا راستہ باجوڑایجنسی اورضلع دیر کے سرحدی علاقہ طور غنڈئی تھا ۔ اطلاعات کے مطابق مالی طور پر کمزور افغان خاندانوں نے وطن واپسی کے لیے غاخی پاس کا راستہ اختیار کیا کیونکہ یہ راستہ ایک تو نزدیک بھی ہے اور سفر کے لحاظ سے سستا بھی لیکن وعینی شاہدین کے مطابق باجوڑایجنسی میں مقیم مخیر افغانیوں نے وطن واپس جانے کی بجائے صوبہ سرحد کے مختلف بندوبستی علاقوں جن میں پشاور، مردان، نوشہرہ ، دیر اورملاکنڈ شامل ہیں کا رخ کیا جس کے لیے انھوں نے طور غنڈئی کا راستہ اختیار کیا ۔

 واضح رہے کہ باجوڑایجنسی میں افغان مہاجرین گزشتہ 30 سالوں سے رہائش پذیر ہیں اور دو سال قبل حکومت پاکستان نے UNHCR کے مالی تعاون سے ایجنسی کے مختلف علاقوں میں قائم دس پناہ گزین کیمپوں اور مختلف رہائشی علاقوں میں مقیم قریباً اسی ہزار مہاجرین کو افغانستان واپس جانے میں مدد کی تھی۔ تاہم افغانستان میں سیکورٹی کی خراب صورت حال کو وجہ بنا کر ان افغانوں کی اکثریت واپس باجوڑ آ کر غیر قانونی طور پر دوبارہ آباد ہو گئی ہے۔

 پاکستانی حکام کا موقف ہے کہ ان افغان باشندوں میں سے بیشتر لوگ باجوڑ ایجنسی میں امن وامان کی صورتحال خراب کرنے میں ملوث ہیں اور ان کے غیر ملکی عسکریت پسندوں کے ساتھ قریبی رابطے ہیں۔

 بیشتر افغان مہاجرین نے انتظامیہ کے طرف سے دی گئی میعاد کو انتہائی کم قرار دیا ہے جبکہ زیادہ تر نے حکومت پاکستان اور اقوام متحدہ سے مطالبہ کیاہے کہ انہیں وطن واپس جانے کے لیے ٹرانسپورٹ فراہم کی جائے اور انہیں مناسب خرچہ بھی دیا جائے ۔

واضح رہے کہ پاکستانی فوج باجوڑ میں اگست کے اوائل سے ایک بڑے آپریشن میں مصروف ہے جس کا مقصد علاقے سے مقامی اور غیر ملکی جنگجوؤں کا خاتمہ ہے۔ اس آپریشن کی وجہ سے ہزاروں کی تعداد میں لوگ علاقے سے ہجرت کرکے صوبہ سرحد کے شہروں اور عارضی کیمپوں میں پناہ لینے پر بھی مجبور ہوئے ۔

emailme.gif اس صفحے کو ای میل کیجیے
printerfriendly.gif قابل چھپائی صفحہ

  اہم ترین خبر
ترکی میں سہ فریقی سربراہ اجلاس

  مزید خبریں
کشیدگی میں اضافے سے بھارتی فلم ڈسٹری بیوٹرز پریشان
دہشت گرد دنیا کے کسی ملک کو بڑے پیمانے پر تباہی پھیلانے والے ہتھیاروں کانشانہ بنا سکتے ہیں: رپورٹ  Video clip available
آئی ایم ایف کا قرضہ پرانے قرضے چکانے کے لیے استعمال ہوگا  Video clip available
صوفیانہ شاعر ی میں نسوانی آوازیں  Video clip available
ممکنہ فضائی حملوں کی دھمکی کے بعد بھارتی ہوائی اڈوں پر ہائی الرٹ
ممبئی حملوں سے لشکرِ طیبہ کا کوئی تعلق نہیں: حافظ سعید کے ترجمان کا بیان
مہاراشٹر کے وزیرِ اعلیٰ نے ممبئی حملوں کی اخلاقی ذمے داری قبول کرتے ہوئے استعفیٰ دے دیا
پی سی بی میں بڑے پیمانے پر اصلاحات کا اعلان
بابری مسجد کی شہادت کی یاد میں
بانی ... نئی غزل کی منفرد آواز
امریکی فوجیں مزید تین سال تک عراق میں رہی گی
بنگلہ دیشی مصوروں کی نمائش، پریشانی میں سکون
یورپی بینکوں نے شرحِ سُود کم کردی
امریکہ کے ساتھ مثبت تعلقات کی اُمید ہے: پُوتن
زمبابوے میں ہیضے کی وبا اور حفظانِ صحت کے نظام کا خاتمہ
امریکا اپنی معیشت کو مستحکم بنائے: چین
بھارتی لوگوں کے رویے میں تبدیلی نہیں آئی: ممبئی سے واپس آنے والے پاکستانی فنکار    
سعودی عرب میں حج کے لیے زبردست حفاظتی انتظامات
بھارت کو دہشت گردی کے خلاف روسی مدد کی پیش کش
بھارت نوجوان نسل کو تعلیم اور تربیت فراہم کرے: رپورٹ
امریکی کار ساز کمپنیاں حکومت سے امداد کی منتظر ہیں
رفعت سروش کے انتقال کے ساتھ ترقی پسند ادب کے ایک عہد کا خاتمہ
افغانستان کے مستقبل کے بارے میں اقوامِٕ متحدہ کے مشن کی محتاط رائے  
”پاکستانی قیادت کے ذمہ دارانہ اور تسلی بخش دلائل“  Video clip available
”ممبئی حملوں اور پاکستانی تنظیموں کے مابین تعلق کی تحقیقات کی جائیں“
”زرداری نے یقین دلایا ہے کہ شواہد ملے تو کارروائی کریں گے“
کیا امریکہ 1930 کی کساد بازاری کی طرف بڑھ رہاہے؟  Video clip available
اوباما نے نیو میکسیکو کے  گورنر بل رچرڈ سن کو اپنی اقتصادی ٹیم میں شامل کرلیا  Video clip available
ممبئی حملے: حکومت کے خلاف عوامی برہمی میں اضافہ
اقتصادی بحران کےجلد خاتمے کے لیے  کوشش کریں گے : اوباما
ملکہ برطانیہ کا پارلیمنٹ سے خطاب: معیشت  کی بحالی سرفہرست
بان کی مون کا صدر زرداری کو فون
آدھی رات کا سورج ۔۔۔ بارھویں قسط: خوابوں خیالوں کا شہر
’پانچ سال کے اندر دنیا میں دہشت گردوں کی طرف سے بڑے حملے کا خدشہ‘
اسرائیل نے غرب ِ اردن میں پولیس بھیج دی
برما : سیاسی قیدی دور دراز جیلوں میں منتقل
افغانستان: 13 عسکریت پسند ہلاک
بنکاک: مظاہروں کے بعد پہلی پرواز  کی آمد
زمبابوے: پولیس نے دو مظاہرے منشتر کردیے
جاپان: شہنشاہ آکی ہیتو علیل، سرکاری مصروفیات منسوخ
بھارت کا گیارہ ستمبر؟
چین: نرسنگ ہوم میں آتش زدگی، 7 افراد ہلاک
فلپائن: باغیوں کے حملے میں پانچ فوجی ہلاک