 |
| اعتزاز احسن |
سپریم کورٹ بار ایسوسی ایشن کے صدر اعتزاز احسن نے کہا ہے کہ تین نومبر کو معزول کی گئی عدلیہ کے جن جج صاحبان نے دوبارہ حلف اُٹھایا ہے اس کے وجہ سے وکلاء تحریک نے حکومت پر جو دباؤ ڈال رکھا تھا اُس میں کمی آگئی ہے ۔
اعتراز احسن نے یہ بات کراچی پہنچنے کے بعد ائیرپورٹ پر میڈیا سے بات کر تے ہوئے کہی اُن کے بقول” معزول عدلیہ کی بحالی کے لیے جاری تحریک اعصاب کی جدوجہد اور مقابلہ تھا اور بعض معزول ججوں نے دوبارہ حلف لینے کے بعد حکومت کے لیے خاصی سہولت پید ا کر دی ہے“۔ اعتراز احسن نے کہا کہ معزول ججوں نے دوبارہ حلف اٹھا کریہ بھی تسلیم کر لیا ہے کہ سابق صدر پرویز مشرف نے تین نومبر 2007 کو ایمرجنسی کے نفاذ کے بعد عبوری آئین کے تحت عدلیہ کی برطرفی ایک درست اقدام تھا۔ اُنہوں نے ایک بار پھرایمرجنسی کے نفاذ کو ماورائے آئین اور غیر قانونی اقدام قرار دیتے ہوئے کہا کہ وکلاء تحریک چیف جسٹس افتخار محمد چوہدری والی عدلیہ ہی کو آئینی عدلیہ سمجھتے ہیں اور اُس کے بحالی کے لیے تحریک میں نئی جان ڈالنے کی کوششیں کی جا رہی ہیں۔
پیر کو کراچی میں سپریم کورٹ کے معزول چیف جسٹس افتخار محمد چوہدری سمیت دیگر ججوں کی بحالی کے لئے جاری وکلاء تحریک کے مستقبل کا لائحہ عمل طے کرنے کے لیے ہونے والے اجلاس کی صدارت کریں گے۔
واضح رہے کہ پیپلزپارٹی کی جانب سے معزول ججوں کو دوبارہ حلف اُٹھانے کے بعد بحالی کی پیش کش کو قبول کرتے ہوئے معزول ججوں کی اکثریت بحال ہو گئی ہے۔