 |
|
نواز شریف |
ججوں کی بحالی کے مسئلے پر جمعہ کو لندن میں ہونے والے مذاکرات میں پیش رفت نہ ہونے کے بعد مسلم لیگ (ن) کے قائد نواز شریف اور پیپلز پارٹی کے شریک چیئرمین آصف علی زرداری کے مابین بات چیت کا ایک اور دورہفتہ کو متوقع ہے لیکن اختلافات کے شدت کے پیش نظر ناقدین کا کہنا ہے کہ 12مئی تک ججوں کی بحالی اب بظاہر ناممکن دکھائی دیتی ہے۔
مسلم لیگ (ن) کے ترجمان صدیق الفاروق کا کہنا ہے کہ مذاکرات کو نتیجہ خیز بنانے کے لیے ان کی جماعت ہر ممکن کوششیں کر رہی ہے اور وہ مایوس نہیں ہیں لیکن وائس آف امریکہ سے خصوصی گفتگو کرتے ہوئے انھوں نے ایک بار پھر واضح کیا کہ”بے اختیار عدلیہ“ ان کی جماعت کو ہرگز قابل قبول نہیں ہو گی ۔ترجمان کا کہنا ہے کہ اگر پیپلز پارٹی نے آئینی اور قانونی تقاضوں کو پیش نظر رکھتے ہوئے مسلم لیگ (ن) کو ججوں کی بحالی کے معاملے پر اپنے نقطئہ نظر کے بارے میں قائل کر لیا تو بعض معاملات پر سمجھوتہ ہو سکتاہے لیکن اگر 12مئی تک اس مسئلے پر اتفاق رائے نہ ہو سکا تو پھر مستقبل کا لائحہ عمل طے کرنے کے لیے نواز شریف نے مرکزی مجلس عاملہ اور پارلیمانی پارٹی کا اجلاس پہلے ہی طلب کر لیا ہے۔ صدیق الفاروق نے کہاکہ کابینہ میں مسلم لیگی اراکین کی شمولیت روز اول سے معزول ججوں کی بحالی سے مشروط تھی لہذا 12 مئی کے بعد جو بھی فیصلہ کیا جائے گا وہ اس تناظر میں ہو گا۔
 |
|
وزیر اعظم یوسف رضا گیلانی |
ادھر ہفتہ کو لاہور میں میڈیا سے باتیں کرتے ہوئے وزیر اعظم یوسف رضا گیلانی نے کہا ہے کہ ججوں کی بحالی کے معاملے کو اس انداز میں حل کرنے کی ضرورت ہے کہ نہ صرف آئینی تقاضے پورے ہوں بلکہ تصادم کے امکانات بھی ختم ہو جائیں۔ انھوں نے اس تاثر کو رد کیا کہ نواز شریف حکمران اتحاد سے علیحد ہ ہو رہے ہیں۔
خیال رہے کہ جمعہ کو لندن میں پیپلز پارٹی کی قیادت سے بات چیت کے بعد نواز شریف نے صحافیوں کو بتا یا کہ اختلافات کی بڑی وجہ تین نومبر کے بعد حلف لینے والوں ججوں کا مستقبل تھا۔ انھوں نے بتایا کہ انھوں نے مذاکرات میں ان ججوں کے بارے میں فیصلہ بحال ہونے والے ججوں پر چھوڑ دینے کی پیشکش کی لیکن آصف علی زرداری اس پر تیار نہیں تھے۔ مسلم لیگ (ن) کی مرکزی مجلس عاملہ اور پارلیمانی پارٹی کا اجلاس پیر کو اسلام آباد میں ہو گا جس میں نواز شریف پیپلز پارٹی کی قیادت سے لندن میں ہونے والی بات چیت کے بارے میں اپنی جماعت کو آگاہ اور مستقبل کی حکمت عملی کا اعلان کریں گے۔
مسلم لیگ (ن) کے رہنماؤں کا اصرار ہے کہ تین نومبر کو لگائی گئی ایمرجنسی کو صدر مشرف خود ایک غیر آئینی اقدام قرار دے چکے ہیں لہذا موجودہ عدلیہ بھی غیر آئینی اور غیر قانونی ہے۔