بھارتی کشمیر میں حکام کی طر ف سے دو روزہ کرفیواُٹھانے کے بعدمنگل کو وادی کے دارلحکومت سری نگر میں زندگی معمول پر آ گئی ہے۔ سکول ، کاروباری مراکز اور دفاتر دوبارہ کھل گئے جبکہ کرفیو کے خاتمے کے اعلان کے فورا بعد پولیس نے سڑکوں پر کھڑی کی گئیں روکاٹیں ہٹادیں ۔ اور ہزاروں لوگوں نے خوراک کی خریداری کے لیے بازاروں کا رخ کیا ۔
بھارتی کشمیر میں علیحدگی پسند تنظیموں نے سری نگر میں چھ اکتوبر کو احتجاجی ریلی نکالنے کا اعلان کر رکھا تھا جسے روکنے کے لیے حکا م نے اتوارکو کشمیر کے تمام اضلاع میں کرفیوکے نفاذ کے بعد کئی سرکردہ کشمیری رہنماؤں کو حراست میں بھی لے لیا تھا۔
ان اقدامات کی وجہ سے سری نگر کے لال چوک سے شروع ہونے والی ریلی کا انعقاد نہیں کیا جا سکا اور علیحدگی پسند کشمیری رہنماؤں کا کہنا ہے کہ اس احتجاجی ریلی کو ایک ماہ تک کے لیے موخر کر دیا گیا ہے۔
خیال رہے کہ اگست کے مہینے میں بھار ت کے زیرانتظام کشمیر میں حکام نے ایک ایسی ہی ریلی کو روکنے کے لیے وادی میں نو دن تک کرفیولگا دیا تھا۔گزشتہ چند ماہ کے دوران کشمیر میں بھارت مخالف اور آزادی کے حق میں علیحدگی پسند کشمیریوں نے بڑی بڑی احتجاجی ریلیاں نکالی ہیں جن میں بعض جلوسوں پر سیکورٹی فورسز کی فائرنگ کے نتیجے میں کم از کم چالیس افراد ہلاک اور سینکڑوں زخمی بھی ہوئے۔ مسلمان کشمیر یوں نے ان احتجاجی ریلیوں کا سلسلہ اُس وقت شروع کیاجب وادی کشمیر میں مقدس مقامات پر حاضر ی کے لیے آنے والے ہندو یاتریوں کے لیے حکام نے زمین کا ایک بڑا ٹکڑ ا مختص کرنے کا فیصلہ کیا۔