 |
| پاکستان اور بھارت کے درمیان جامع مذاکرات |
پاکستان اور بھارت کے درمیان جامع مذاکرات میں اب تک ہونی والی پیش رفت کا جائزہ لینے اور مختلف تنازعات اور معاملات پر غور کے لیے خارجہ سیکریٹریوں کی سطح پر بات چیت دارالحکومت میں جاری ہے۔ بات چیت میں پاکستانی وفد کی قیادت خارجہ سیکریٹری سلمان بشیر اور بھارتی وفد کی قیادت خارجہ سیکریٹری شیو شنکر مینن کر رہے ہیں۔
بھارت کے وزیر خارجہ پرناب مکھر جی بھی بدھ کے روز اپنے ہم منصب شاہ محمود قریشی سے باضابطہ بات چیت کریں گے جس میں امن وسلامتی ،اعتماد سازی کے اقدامات ،مسئلے کشمیر، سیاچن ، سرکریک، وولر بیراج ،دہشت گردی اورمنشیات کی سمگلنگ روکنے ، تجارتی تعاون بڑھانے اور دوستانہ تبادلوں میں اضافے پر غور کیا جائے گا۔اس کے علاوہ جامع مذاکرات کا پانچواں دور شروع کرنے کے حوالے سے بھی بات چیت ہو گی۔ مبصرین کا خیال ہے کہ دونوں ملکوں کے درمیان یہ بات چیت اس لحاظ سے اہم ہے کہ اس سے جامع مذاکرات کے مقاصد کو آگے بڑھانے میں مدد ملی گی لیکن اس میں کسی بڑی پیش رفت کی توقع نہیں کی جا نی چاہیے کیونکہ اس کا ایجنڈہ صرف چوتھے دور کے مذاکرات کا جائزہ لینے تک محدود ہو گا۔
سابق سیکرٹری خارجہ شمشاد احمد کے مطابق ان مذاکرات میں بھارتی وفد زیادہ تر پاکستان کی نئی منتخب حکومت کے مزاج اور ملکی سیاست کے منظر نامے کو جانچنے کی کوشش کرے گا جب کہ دفتر خارجہ کے مطابق ان جائزہ مذاکرات میں مسئلہ کشمیر سمیت مختلف تنازعات اور معاملات کے حوالے سے پیش رفت متوقع ہے۔ ترجمان محمد صادق کے بقول اس بات چیت میں پاکستان بعض نئی تجاویز بھی پیش کرے گا۔ توقع ہے کہ بھارتی وزیر خارجہ پاکستانی قیادت کے علاوہ مختلف سیاسی رہنماؤں سے بھی ملاقاتیں کریں گے۔ تقریباََ چار سال پہلے شروع ہونے والے مذاکرات کی نتیجے میں پاکستان اور بھارت کے درمیان کشیدگی میں کمی واقع ہوئی ہے اور عوامی رابطوں میں بھی اضافہ دیکھنے میں آیا ہے تاہم کشیدگی کی اصل وجہ مسئلے کشمیر کے حل میں کوئی خاطر خواہ پیش رفت سامنے نہیں آئی ہے۔
دریں اثنا کل جماعتی حریت کانفرنس کے چیئر مین میر واعظ عمر فاروق نے جامع مذاکرات کا خیر مقدم کرتے ہوئے کہا ہے کہ کشمیری اس بات چیت کے جاری رہنے کے حق میں ہیں تاکہ انھیں ان کا حق خود ارادیت مل سکے۔ادھر پاکستان نے بھارت کے ساتھ جامع مذاکرات کے موقع پر غیر سگالی کے طور پر 96 بھارتی ماہی گیر اور تین سویلین قیدی 24 مئی کو رہا کرنے کا اعلان کیا ہے۔ان قیدیوں کی شہریت کا تعین ہو چکا ہے۔