صدر آصف علی زرداری نے آٹھ اکتوبر کو پارلیمان کا مشترکہ اجلاس طلب کیا ہے جس میں اراکین کو بند کمرے میں ملک میں امن و عامہ کی صورت حال اور اس سلسلے میں حکومتی اقدامات سے آگاہ کیا جائے گا۔
ملک میں سیکورٹی کی تیزی سے خراب ہوتی ہوئی صورت حال ، خود کش حملوں میں اضافے اور قبائلی علاقوں میں فوجی آپریشن پر حزب اختلاف کی جماعتیں مسلسل حکومت سے مطالبہ کرتی چلی آرہی تھیں کہ وہ صورت حال کے تدراک کے لیے پارلیمنٹ کا مشترکہ اجلاس طلب کر کے ایک قومی پالیسی وضع کرے۔
 |
| مسلم لیگ (ن) کے رہنما احسن اقبال |
حزب مخالف کی سب سے بڑی جماعت مسلم لیگ (ن) کے مرکزی رہنما احسن اقبال نے مشترکہ اجلاس بلانے کا خیر مقدم کرتے ہوئے کہا کہ اس امید کا اظہار کیا ہے کہ اس میں محض اراکین پارلیمنٹ کو امن و عامہ کی صورت حال سے ہی آگاہ نہیں کیا جائے گا بلکہ دہشت گردی کے خلاف اتفاق رائے سے ایک قومی حکمت عملی بھی وضع کی جائے گی۔ان کے بقول اراکین پارلیمان کو دی جانے والی بریفنگ سے پاکستان میں امریکی فوجی کاروائیوں کے محرکات جاننے کا موقع بھی ملے گا۔ گذشتہ ماہ میریٹ ہوٹل پر ہونے والے تباہ کن خود کش حملے اور عید کے روز ولی باغ میں عوامی نیشنل پارٹی کے سربراہ اسفند یار ولی کو خود کش حملے کا نشانہ بنانے کی کوشش کے بعد پاکستان میں سلامتی کی صورت حال تشویشناک حد تک خراب ہو گئی ہے۔
 |
| اقوام متحدہ |
اقوام متحدہ نے ان حالات کے پیش نظر اپنے غیر ملکی ملازمین کے اہل خانہ کو عارضی طور پر پاکستان سے واپس جانے کا حکم دے دیا ہے جب کہ برطانوی سفارتخانے نے بھی اپنے سٹاف کو ایسی ہی ہدایات جاری کی ہیں۔ اس کے علاوہ بین الااقوامی کمیٹی یعنی ICRC نے خود کش حملوں کے واقعات اور عسکریت پسندوں کے ساتھ سرکاری فوج کی خصوصاََ ملک کے شما ل مغربی حصوں میں بھرپور جھڑپوں کو اس بات کا واضح ثبوت قرار دیا ہے کہ پا کستان دنیا کا ایک نیا میدان جنگ بن گیا ہے ۔