 |
| امریکی وزیر دفاع رابرٹ گیٹس |
امریکی وزیر دفاع رابرٹ گیٹس نے کہاہے کہ اس میں کوئی شک نہیں کہ افغانستان میں امریکہ اور اس کے اتحادیوں کو مشکل صورت حال کا سامنا ہے لیکن یہ کہنا درست نہیں ہوگا کہ طالبان کے خلاف جنگ نہیں جیتی جا سکتی۔ اُنہوں نے یہ بیان افغانستان میں تعینات برطانوی افواج کے اعلی کمانڈر اور کابل میں برطانیہ کے سفیر کے اُن بیانات کے جواب میں دیا جس میں اُنہوں نے کہا تھا کہ افغانستا ن میں طالبان کے خلاف جنگ نہیں جیتی جا سکتی ۔
افغانستان میں برطانوی کمانڈر بریگیڈئرکارلٹن سمتھ نے اپنے ایک اخباری انٹرویو میں کہا تھا کہ”افغانستان میں طالبان کے خلاف جنگ نہیں جیتی جا سکتی اور اس مسئلے کے فوجی حل ممکن نہیں“۔ اقوام متحدہ کے افغانستان میں ایک خصوصی نمائندے کائی عیدی نے بھی برطانیہ کے اس موقف کی تائید کرتے ہوئے کہا تھا کہ افغان مسئلے کو حل صرف بات چیت ہے اور اسی طریقے سے یہ جنگ جیتی جا سکتی ہے۔
طالبان سے بات چیت اور رابطے کے بارے میں امریکی وزیر دفاع نے کہا کہ امریکہ کو عراق میں جن مشکلات کاسامنا کرنا پڑا وہی مشکلات افغانستان پر بھی لاگو ہوتی ہیں۔ اُنہوں نے مزید کہا کہ افغانستان کے مسئلے کے حل کے لیے اول تو افغان سیکورٹی فورسز کو مضبوط بنا نا ہے اور دوئم وہاں اُن لوگوں سے مفاہمت کرنی ہے جو افغان حکومت کے ساتھ مل کر کام کرنے کے لیے تیار ہیں۔
واضح رہے کہ طالبان بار ہا کہہ چکے ہیں کہ امریکہ اوردوسری غیر ملکی افواج جب افغانستان میں موجود ہیں افغان حکومت سے کسی قسم کی مفاہمت یا بات چیت نہیں کی جائے گی۔ یہی وجہ ہے کہ طالبان نے افغان صدر حامد کرزئی کی طرف سے عید کے موقع طالبان کے مفرور سربراہ ملا محمد عمر کو امن مزاکرات کی پیش کش کو ایک پھر مسترد کر دیا ہے۔
کرزئی نے یہ بھی انکشاف کیا ہے کہ اُنہوں نے طالبان کے ساتھ امن کے لیے سعودی قیادت سے بھی پچھلے دو سال کے دوران رابطے کیے ہیں اور اُن سے درخواست کر رکھی ہے کہ وہ اسلامی دنیا کے ایک لیڈر کی حیثت سے افغانستان میں قیام امن اور مفاہمت کے لیے کی جانے والی کوششوں میں اپناکردار اد ا کریں۔