 |
| وفاقی وزیر قانون فاروق نائیک |
وفاقی وزیر قانون فاروق نائیک نے پیر کے روز کوٹ لکھپت جیل لاہور میں سزائے موت پانے والے بھارتی قیدی سربجیت سنگھ سے ملاقات کی اور ا س کی سزا پر نظر ثانی کے لیے جیل سے ضروری دستاویز حاصل کیں۔ اس موقع پر صحافیوں سے بات چیت کرتے ہوئے انھوں نے کہا کہ وہ نظر ثانی کے بعد اس کیس کے حوالے سے اپنی سفارشات صدر پاکستان کو پیش کریں گے جو آئین کے تحت حاصل اپنے اختیار کے مطابق بھارتی قیدی کو معاف کرنے یا نہ کرنے کے حوالے سے فیصلہ کریں گے۔
تاہم فاروق نائیک کا مطالبہ تھا کہ سربجیت سنگھ کی معافی کے بدلے بھارت بھی اپنی جیلوں میں قید پاکستانی قیدیوں کو انسانی ہمدردی کے بنیاد پر رہا کرے۔ انھوں نے کہا ان کے پاس بھارتی جیلوں میں قید 100سے زائدپاکستانی قیدیوں کی فہرست موجود ہے جن کی رہائی کے معاملے پر وہ جلد بھارتی حکومت سے بات چیت کریں گے۔
واضح رہے کہ سربجیت سنگھ عرف منجیت سنگھ گذشتہ تقریباََ 18سال سے پاکستان میں قید ہے اور سپریم کورٹ اسے پاکستان میں بم دھماکے کرنے کے الزام میں موت کی سزا دے چکی ہے۔ تاہم اس سال بھارتی قیدی کی سزا پر عمل درآمد تا حکم ثانی روک دیا گیا تھا۔
وفاقی وزیر قانون نے کوٹ لکھپت جیل میں سزائے موت پانے والے پاکستانی قیدیوں سے بھی ملاقات کی اور جیل کے مختلف حصوں کا معائنہ کیا ۔ انھوں نے کہا کہ وزارت قانون آئین اور شریعت کی روح سے سزائے مو ت کو ختم کرنے کے حوالے سے ایک قانون پر غور کر رہی ہے جسے حتمی شکل دیے جانے کے بعد منظوری کے لیے پارلیمان میں پیش کیا جائے گا۔ انھوں نے کہا کہ حکومت ایک اور قانون پر بھی غور کر رہی ہے جس کے تحت پانچ سال تک سزا پانے واے مقدموں کو قابل ضمانت بنا دیا جائے گا اور اس طرح ان کے مطابق 40فیصدجیلیں خالی ہو جائیں گی۔فاروق نائیک نے کہا کہ جیل اصلاحات کے پروگرام کے تحت سپریم کورٹ یا ہائی کورٹ کے ریٹائرڈ ججوں کو جیلوں میں محتسب مقرر کیا جائے گا تاکہ قیدیوں کی شکایات کا ازالہ ہو سکے۔
دریں اثنا فاروق نائیک کے جیل کے دورے کے موقع پر بھارتی جیلوں میں قید پاکستانیوں کے رشتہ داروں نے مظاہرہ کیا جن کا مطالبہ تھا کہ سربجیت سنگھ کے بدلے پاکستانی قیدیوں کو بھی رہا کیا جائے۔