نیو یارک کے بزنس لیڈرز کا کہنا ہے کہ امریکہ کا ویزا سسٹم اتنا سخت ہے کہ ان کے شہر کو دنیا کے دیگر بڑے شہروں کے مقابلے میں ٹیلنٹڈ لوگ ملنے مشکل ہو گئے ہیں۔ دی بزنس گروپ پارٹنرشپ فار نیو یارک سٹی کے مطابق سیکورٹی کے خدشات اور امیگریشن پر جاری سیاسی بحث کی وجہ سے سکلڈ لیبر کو بھی ویزے ملنے مشکل ہو گئے ہیں۔
نیو یارک کے باسیوں کو اپنا شہر دنیا کا مرکز لگتا ہے۔ لیکن یہاں کے بزنس لیڈرز کا کہنا ہے کہ با صلاحیت لوگوں کو جمع کرنے کے معاملے میں دنیا کے دوسرے بڑے شہر بگ ایپل سے آگے نکل گئے ہیں۔
اس کا الزام یہ بزنس لیڈر امریکہ کی سخت امیگریشن پالیسیز پر لگاتے ہیں۔ امریکہ میں باہر سے نوکری کے لیے آنے والوں کو ایچ ون بی ویزا کی ضرورت پڑتی ہے جو بہت محدود مقدار میں جاری کیے جاتے ہیں۔
اس سال حکومت 85 ہزار ایچ ون بی ویزے جاری کرے گی۔ لیکن ڈیمانڈ اتنی زیادہ ہے کہ یہ کوٹا تو اسی دن پورا ہو گیا تھا جس دن فارم جمع کرنے کی پہلی تاریخ تھی، یعنی یکم اپریل۔
2007 میں ڈیڑھ لاکھ سے زیادہ ایچ ون بی ویزے دیے گئِے تھے۔
کیتھرین وائلڈ جن کا تعلق پارٹنرشپ فار نیو یارک سٹی سے ہے کہتی ہیں کہ ویزا کے مسئلے پر ہم اس غلط فہمی کا مقابلہ کر رہے ہیں کہ اگر ہم نے باہر سے لوگ نہ بلوائے تو ہمارے پاس امریکہ میں ایسے لوگ ہیں جو ان نوکریوں کو بھر سکتے ہیں۔ حالانکہ ایسا نہیں ہے۔
پارٹنرشپ فار نیو یارک سٹی نامی تنظیم کا کہنا ہے کہ دنیا بھر سے ماہرین جمع کرنے سے نیو یارک کی کمپنیوں کے لیے دنیا بھر میں نئی منڈیاں کھلتی ہیں جبکہ شہر کو اس لیے فائدہ ہوتا ہے کہ زیادہ پیسے کمانے والا طبقہ شہر میں آ کر بستا اور یہاں پیسے خرچ کرتا ہے جس سے مقامی بزنسز کو فائدہ ہوتا ہے۔
امریکہ میں سب سے زیادہ ایچ ون بی ویزے نیو یارک ہی میں استعمال ہوتے ہیں اور یہاں کے بزنس لیڈرز کا خیال ہے کہ حکومت کو ان ویزوں کی تعداد بڑھانی چاہیے۔
اس رائے کو کئی بڑی کمپنیوں کی حمایت حاصل ہے،مثلًا ایلومینیم بنانے والی کمپنی ایلکووا۔ لیکن امیگریشن بڑھانے کی امریکہ میں سخت مخالفت بھی کی جاتی ہے۔ خاص طور پر ایسے وقت جب امریکہ میں معیشت سست ہو رہی ہے اور بیروزگاری میں اضافہ ہو رہا ہے۔ پھر اس سال صدارتی انتخابات بھی ہیں۔
سنٹر فار امیگریشن سٹڈیز کے مارک کرکورئئن کے مطابق امیگریشن دراصل سستی لیبر کو ملک میں لانے کا بہانہ ہے۔
نیو یارک کے بزنس لیڈرز اس رائے سے اتفاق نہیں کرتے۔ ان کا کہنا ہے کہ ایچ ون بی پر امریکہ آنے والے ہر غیر ملکی کی وجہ سے مقامی طور پر امریکیوں کے لیے پانچ نوکریاں وجود میں آتی ہیں۔ ان کا یہ بھی کہنا ہےکہ یورپ اور ایشیا کے بڑے شہر پوری دنیا سے با صلاحیت افراد کی تلاش میں سر گرم ہیں اور نیو یارک کو اس دوڑ میں پیچھے نہیں رہنا چاہیے۔