 |
|
ہیلری کلنٹن اور براک اوباما |
امریکہ کے صدارتی انتخاب کے لئے ڈیمو کریٹک پارٹی کی نامزدگی جیتنے کا مرحلہ بالآخر کسی حتمی انجام کی طرف بڑھتا نظر آرہا ہے۔امریکی میڈیا کی جانب سے قیاس آرائیوں کے بعد اب یہ دعوے سامنے آرہے ہیں کہ ہیلری اب صدارتی نامزدگی کی ریس سے باہرہو جائیں گی۔انڈیانا میں ہیلری کی اوباما پر فتح کو امریکی میڈیا نے ایک تیکھی کامیابی قرار دیا تھا۔ماہرین کا یہ بھی کہنا ہے کہ اس بار امریکہ کے صدارتی پرائمری انتخاب کے لئے ووٹر ٹرن آوٹ نے ایک نیا ریکارڈ قائم کیا ہے کیونکہ لاکھوں نئے امریکی شہری ووٹ کے لئے رجسٹر کئے گئے ہیں۔
ان دنوں ایسے عوامی اشتہارات اکثر دیکھنے میں آرہے ہیں جن میں نوجوانوں پر زور دیا جارہا ہے کہ اپنے ووٹ کا حق ضرور استعمال کریں۔ ایک ایسا ہی اشتہار ایک غیر جانبدار نوجوان ووٹر گروپ راک دی ووٹ کی جانب سے تیار کیا گیا ہے۔
یہ تنظیم امریکی تاریخ کی سب سے بڑی ووٹڑ رجسٹریشن مہم چلا رہی ہے اورتنظیم کا کہنا ہے کہ ان کی مہم کی وجہ سے اس سال کے صدارتی پرائمری انتخابات میں ریکارڈ تعداد میں نوجوان ووٹ ڈالنے آئے ہیں۔ہیدر سمتھ اس تنظیم کے ایگزیکٹو ڈائریکٹر ہیں ۔
ان کا کہنا ہے کہ یہ سال 2008بڑا ہی ناقابل یقین رہا ہے۔چار سال پہلے کے صدارتی پرائمریز کے مقابلے میں اس بار ہر پرائمری اور ہر کاکس میں لوگوں کی دوگنی ،تگنی تعداد ووٹ ڈالنے آئی ہے۔
ایگزٹ پولز کے مطابق ڈیمو کریٹک پارٹی کے سینٹر براک اوباما نے سب سے زیادہ ان نوجوانوں کی حمایت حاصل کی ہے جنہوں نے اس سے قبل سیاسی عمل میں کبھی حصہ نہیں لیا۔لیکن اس بار زیادہ تعداد میں ووٹ ڈالنے والے صرف نوجوان ہی نہیں ہیں۔ایسوسی ایٹڈ پریس کے مئی کے شروع میں کئے گئے ایک سروے کے مطابق اس بار کی صدارتی پرائمریز میں تین اعشاریہ پانچ ملین نئے ووٹر رجسٹر کئے گئے ہیں۔ نئی رجسٹریشن کرانے والوں میں خواتین افریقی نژاد امریکی اور دیہی اور شہری علاقوں میں آباد ہونے والے نئے شہری شامل ہیں۔
اسکاٹ کیٹر کا ، جو پیو ریسرچ سینٹر واشنگٹن میں سروے ریسرچ کی سربراہ ہیں ، کہنا ہے کہ ایسا پہلے کبھی دیکھنے میں نہیں آیا۔ ووٹ ڈالانے والوں کی تعداد خصوصا ڈیمو کریٹس کی طرف اس قدر بڑھ گئی ہے کہ امریکی سیاست میں اس کی مثال ہی نہیں ملتی۔
ابتدائی پرائمریز کے مرحلے پر ریپبلکن ووٹروں نے بھی بڑھ چڑھ کر ووٹ ڈالنےکا ایک ریکارڈ قائم کیا تھا۔ مگر یہ صورتحال تب تھی جب تک سینیٹر جان مکین نے دیگر ریپبلکن امیدواروں کو شکست نہیں دی تھی۔اسکاٹ کیٹر کے مطابق نئے رجسٹر ہونے والے زیادہ تر ووٹر ڈیمو کریٹک پارٹی کی حمایت میں ہیں ۔کیونکہ ڈیمو کریٹک ووٹروں کو اوباما اور ہیلری دونوں کے انتخابی مقابلے میں زبردست دلچسپی ہے ، اوباما جو امریکہ کے پہلے سیاہ فام صدر اور ہیلری جو ملک کی پہلی خاتون صدر بن سکتی ہیں
یہ حقیقت کہ ڈیمو کریٹک پرائمری کی اس انتخابی مہم میں مقابلہ نہ صرف جاری ہے بلکہ زبردست طریقے سے چل رہا ہے ، بڑی وجہ ہے کہ ہم اتنا زیادہ ووٹر ٹرن آوٹ دیکھ رہے ہیں۔
لیکن انتخابی ماہرین کا خیال ہے کہ پرائمری انتخابات کے مرحلے پر ووٹروں کی زیادہ تعداد اس بات کی ضمانت نہیں کہ عام انتخابات میں بھی اتنی بڑی تعداد میں ووٹر نکلیں گے۔ کرٹس گینز واشنگٹن کی امیرکن یونیورسٹی کے سینٹر فار امیرکن الیکٹوریٹ کے ڈائریکٹر ہیں ۔ان کا کہنا ہے کہ آُپ ٹرن آوٹ کے بارے میں پیشگوئی نہیں کر سکتے۔ اس وقت تو میں یہ کہہ سکتا ہوں کہ عام انتخابات میں ٹرن آوٹ زیادہ رہے گا مگر ضروری نہیں کہ 2004کے مقابلے میں بھی ووٹروں کی تعداد زیادہ رہے۔
گینزکا کہنا ہے کہ اگر اوباما ڈیمو کریٹک پارٹی کی نامزدگی جیت لیتے ہیں جیسے کہ زیادہ تر تجزیہ کاروں کا خیال ہے توشائد ہیلری کلنٹن کے حامی ڈیمو کریٹس ووٹ نہ ڈالیں۔ تاہم تجزیہ کاروں کے مطابق اوبامااگر نومبر کے انتخابات میں جان مکین کو شکست دینا چاہتے ہیں تو انہیں امریکہ کے سفید فام متوسط طبقے کی حمایت بھی حاصل کرنی ہوگی۔