حالیہ مہینوں میں دنیا کے مختلف علاقوں میں خوراک کی قلت اور قیمتوں میں اضافے کے خلاف مظاہرے اور لوٹ مار کے واقعات دیکھنے میں آرہے ہیں۔ اس مسئلے سے نمٹنے کے لیے عالمی راہنما اور عالمی ادارے کوششیں کررہے ہیں۔ امریکہ کے شہر ابرڈین آئڈیو میں قائم بیجوں کا ایک تحقیقی ادارہ غذائی اجناس کی فی ایکڑ پیداوار میں اضافے اور فصلوں کو لگنے والی بیماریوں پرقابو پانے پر زور دے رہا ہے۔
مائک بانڈ مین ایک زرعی ماہر ہیں اور وہ گندم کی فصل کو لگنے والی ان بیماریوں پر تحقیق کررہے ہیں جس سے افریقہ میں گندم کی فصل کوبڑے پیمانے پر نقصان پہنچا تھا۔ان کا کہنا تھا کہ یہاں غذائی فصلوں پر تحقیق کی جاتی ہے اور ایسے بیجوں کی منظوری دی جاتی ہے جو زیادہ پیداوار دے سکیں اور جن میں وائرس اور جراثیموں کے خلاف زیادہ قوت مدافعت موجود ہوتی ہے۔
امریکہ میں قائم بیجوں کا یہ منفرد ادارہ دنیا بھر میں ایک اہم مقام رکھتا ہے۔یہاں پر دنیا کے مختلف حصوں سے بیج لاکر محفوظ کیے گئے ہیں۔ یہاں پر بہت سی پرانی اقسام کے بیج موجود ہیں جنہیں سینکڑوں ہزاروں سال پہلے کاشت کیا جاتا تھا۔
اکثر ماہرین کا کہنا ہے کہ خوراک کے بحران کا ایک طویل مدتی حل دنیا بھر میں فصلوں میں بیماریوں کے خلاف مدافعت میں اضافے اور پیداور بڑھانے سے ممکن ہے۔ مائک بانڈمین کہتےہیں کہ اس پر ایک جامع تحقیق کی ضرورت ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ بہت سے ملکوں میں نئی آبادیاں بننے سے اچھی پیداوار دینے والی زمینیں کم ہورہی ہیں۔ اس لیے آپ کوایسی فصلوں کی ضرورت ہے جو زیادہ پیداوار دے سکیں۔
ابرڈین آئڈیو میں قائم اس مرکز میں دنیا بھر سے گندم، چاول، جو اور جوار کی ایک لاکھ تیس ہزار قسموں کے بیج موجود ہیں۔ یہاں پر صرف گندم کی 55 ہزار اقسام رکھی گئی ہیں۔ ہر قسم کو ان کی خصوصیات کی تفصیل سمیت کمپیوٹر کے ڈیٹا بیس میں محفوظ کیا گیا ہے۔ جس میں یہ تفصیل بھی موجود ہے کہ وہ کہاں سے لی گئی ہیں۔اور یہ کہ ان میں کس مخصوص بیماری کے خلاف کتنی مزاحمت موجود ہے۔بانڈ مین کا کہنا ہے کہ یہ مرکز ایک اہم جینیاتی خزانہ ہے۔ دنیا بھر کے زرعی ماہرین آن لائن جاکر اس مرکز میں موجود ڈیٹا سے فائدہ اٹھا سکتے ہیں۔
کسی مخصوص خصوصیات کے حامل بیجوں کو پیدا کرنے میں دس سال کا عرصہ لگ سکتا ہے۔ ان بیجوں کو گرین ہاؤس اور زرعی فارموں میں اس وقت تک تجربات کے مراحل سے گذارا جاتا ہے جب تک کہ ان میں مطلوبہ خصوصیات پیدا نہیں ہوجاتیں۔
مائک بانڈ مین کا کہنا ہے کہ نئی قسم کی فصل کاشت کرنے کے بعد اکثر پیداوار میں اضافہ ہوجاتا ہے۔ کیونکہ ماحول میں موجود جراثیم اس سے مانوس نہیں ہوتے اور دوسرا یہ کہ اس میں بیماریوں کے خلاف بہتر قوت مدافعت موجود ہوتی ہے مگر آہستہ آہستہ اس کی مزاحمت کی قوت کمزور پڑنے لگتی ہے اور ماحول میں موجود جراثیم اس نئی فصل کو قبول کرلیتے ہیں اور پھر نہ صرف اس پر بیماریاں حملہ آور ہونے لگتی ہیں بلکہ اس کی پیداوار کم ہوجاتی ہے اور اس کا معیار بھی متاثر ہوجاتا ہے۔ چنانچہ پھر آپ کو ایسے جنیاتی طریقے کی ضرورت پڑتی ہے کہ آپ اس کے بیج کو زیادہ توانا بنا سکیں اور اس سے زیادہ پیداوار حاصل کرسکیں۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ کاشت کاروں اور قدرتی ماحول کے درمیان ایک طرح کا بلی اور چوہے کا کھیل جاری ہے۔ دنیا کی آبادی بڑھ رہی ہے اور قابل کاشت زمین میں کمی آرہی ہے۔ اب یہ ضروری ہو گیا ہے کہ ہم ایسی غذائی فصلیں اگانے پر توجہ دیں جو یبماریوں کا مقابلہ کرنے کی بہتر صلاحیت رکھتی ہو اور زیادہ فی ایکڑ پیداوار دیتی ہو۔ یہ ایک مشکل چیلنج ہے اور بیجوں کے اس مرکز کے ماہرین کو امیدہے کہ وہ اس صورت حال پر قابو پانے میں ایک اہم کردار ادا کریں گے۔