Urdu TV ▪ خبروں سے آگے 
اردو ٹی وی

صرف متن
Search

غذائی بحران پر قابو فی ایکڑ پیداوار بڑھانےسے ہی ممکن ہے


May 12, 2008
اس رپورٹ کی ویڈیو - ڈاؤن لوڈ کیجیئے (Real) video clip
اس رپورٹ کی ویڈیو - Watch (Real) video clip

wheat1
حالیہ مہینوں میں دنیا کے مختلف علاقوں میں خوراک کی قلت اور قیمتوں میں اضافے کے خلاف مظاہرے اور لوٹ مار کے واقعات دیکھنے میں آرہے ہیں۔ اس مسئلے سے نمٹنے کے لیے عالمی راہنما اور عالمی ادارے کوششیں کررہے ہیں۔ امریکہ کے شہر ابرڈین آئڈیو میں قائم بیجوں کا ایک تحقیقی ادارہ غذائی اجناس کی فی ایکڑ پیداوار میں اضافے اور فصلوں کو لگنے والی بیماریوں پرقابو پانے پر زور دے رہا ہے۔

مائک بانڈ مین ایک زرعی ماہر ہیں اور وہ گندم کی فصل کو لگنے والی ان بیماریوں پر تحقیق کررہے ہیں جس سے افریقہ میں گندم کی فصل کوبڑے پیمانے پر نقصان پہنچا تھا۔ان کا کہنا تھا کہ یہاں غذائی فصلوں پر تحقیق کی جاتی ہے اور ایسے بیجوں کی منظوری دی جاتی ہے جو زیادہ پیداوار دے سکیں اور جن میں وائرس اور جراثیموں کے خلاف زیادہ قوت مدافعت موجود ہوتی ہے۔

امریکہ میں قائم بیجوں کا یہ منفرد ادارہ دنیا بھر میں ایک اہم مقام رکھتا ہے۔یہاں پر دنیا کے مختلف حصوں سے بیج لاکر محفوظ کیے گئے ہیں۔ یہاں پر بہت سی پرانی اقسام کے بیج موجود ہیں جنہیں سینکڑوں ہزاروں سال پہلے کاشت کیا جاتا تھا۔

اکثر ماہرین کا کہنا ہے کہ خوراک کے بحران کا ایک طویل مدتی حل دنیا بھر میں فصلوں میں بیماریوں کے خلاف مدافعت میں اضافے اور پیداور بڑھانے سے ممکن ہے۔ مائک بانڈمین کہتےہیں کہ اس پر ایک جامع تحقیق کی ضرورت ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ بہت سے ملکوں میں نئی آبادیاں بننے سے اچھی پیداوار دینے والی زمینیں کم ہورہی ہیں۔ اس لیے آپ کوایسی فصلوں کی ضرورت ہے جو زیادہ پیداوار دے سکیں۔

ابرڈین آئڈیو میں قائم اس مرکز میں دنیا بھر سے گندم، چاول، جو اور جوار کی ایک لاکھ تیس ہزار قسموں کے بیج موجود ہیں۔ یہاں پر صرف گندم کی 55 ہزار اقسام رکھی گئی ہیں۔ ہر قسم کو ان کی خصوصیات کی تفصیل سمیت کمپیوٹر کے ڈیٹا بیس میں محفوظ کیا گیا ہے۔ جس میں یہ تفصیل بھی موجود ہے کہ وہ کہاں سے لی گئی ہیں۔اور یہ کہ ان میں کس مخصوص بیماری کے خلاف کتنی مزاحمت موجود ہے۔بانڈ مین کا کہنا ہے کہ یہ مرکز ایک اہم جینیاتی خزانہ ہے۔ دنیا بھر کے زرعی ماہرین آن لائن جاکر اس مرکز میں موجود ڈیٹا سے فائدہ اٹھا سکتے ہیں۔

کسی مخصوص خصوصیات کے حامل بیجوں کو پیدا کرنے میں دس سال کا عرصہ لگ سکتا ہے۔ ان بیجوں کو گرین ہاؤس اور زرعی فارموں میں اس وقت تک تجربات کے مراحل سے گذارا جاتا ہے جب تک کہ ان میں مطلوبہ خصوصیات پیدا نہیں ہوجاتیں۔

مائک بانڈ مین کا کہنا ہے کہ نئی قسم کی فصل کاشت کرنے کے بعد اکثر پیداوار میں اضافہ ہوجاتا ہے۔ کیونکہ ماحول میں موجود جراثیم اس سے مانوس نہیں ہوتے اور دوسرا یہ کہ اس میں بیماریوں کے خلاف بہتر قوت مدافعت موجود ہوتی ہے مگر آہستہ آہستہ اس کی مزاحمت کی قوت کمزور پڑنے لگتی ہے اور ماحول میں موجود جراثیم اس نئی فصل کو قبول کرلیتے ہیں اور پھر نہ صرف اس پر بیماریاں حملہ آور ہونے لگتی ہیں بلکہ اس کی پیداوار کم ہوجاتی ہے اور اس کا معیار بھی متاثر ہوجاتا ہے۔ چنانچہ پھر آپ کو ایسے جنیاتی طریقے کی ضرورت پڑتی ہے کہ آپ اس کے بیج کو زیادہ توانا بنا سکیں اور اس سے زیادہ پیداوار حاصل کرسکیں۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ کاشت کاروں اور قدرتی ماحول کے درمیان ایک طرح کا بلی اور چوہے کا کھیل جاری ہے۔ دنیا کی آبادی بڑھ رہی ہے اور قابل کاشت زمین میں کمی آرہی ہے۔ اب یہ ضروری ہو گیا ہے کہ ہم ایسی غذائی فصلیں اگانے پر توجہ دیں جو یبماریوں کا مقابلہ کرنے کی بہتر صلاحیت رکھتی ہو اور زیادہ فی ایکڑ پیداوار دیتی ہو۔ یہ ایک مشکل چیلنج ہے اور بیجوں کے اس مرکز کے ماہرین کو امیدہے کہ وہ اس صورت حال پر قابو پانے میں ایک اہم کردار ادا کریں گے۔

emailme.gif اس صفحے کو ای میل کیجیے
printerfriendly.gif قابل چھپائی صفحہ

  اہم ترین خبر

  مزید خبریں
صدر بش کی اولمپک مقابلوں کی افتتاحی تقریب میں شر کت سے مایوسی ہوئی ہے: انسانی حقوق کی تنظیمیں
ڈالر کے مقابلے میں پاکستانی کرنسی69روپے90پیسے کی  کم ترین سطح پر
صومالیہ میں 71 اسلام پسند جنگجوؤں کو ہلاک کرنے کا دعویٰ
جنوبی کوریا غریب ممالک کی مدد میں بڑھ چڑھ کر حصہ لے: بن کی مون
چین اولمپکس میں سیکیورٹی کے لیے بغیر پائلٹ کے جہاز استعمال کرے گا
عراق میں مختلف کارروائیوں میں دو عسکریت پسند ہلاک
چین اور تائیوان نے تاریخی براہِ راست پروازیں شروع کر دیں
اُڑیسا میں جگن ناتھ یاترا: بھگدڑ میں سات سے زائد افراد ہلاک، 20زخمی
سلووانیا میں کشتی کے حادثے میں پارلیمنٹ کے رکن سمیت آٹھ افراد ڈوب گئے
اہم امریکی شخصیات کی پاسپورٹ فائلوں کی باربار جان پڑتال کا انکشاف
امریکہ کے ساتھ نیوکلیر سمجھوتے پر عمل درآمد کے لیے بھارت کی تگ و دو
بھارتی زیرِ انتظام کشمیر عسکریت پسندوں اور فوج کے درمیان جھڑپیں، جموں حالت بدستور کشیدہ
امریکی فضائی حملے میں 22شہری ہلاک ہوئے: افغان عہدے دار
امریکہ میں اپنا 332واں یوم آزادی منا رہا ہے
حزب اختلاف کو مذاکرات کے لیے  مجھے صدر تسلیم کرنا ہوگا: موگابے
ایران نے ترغیبات کے پیکیج کے بارے میں اپنے موقف سے یورپی یونین کو باضاطہ آگاہ کر دیا
کوئٹہ :بم دھماکے کے نتیجے میں 1 بچی ہلاک جبکہ13 افراد زخمی
چار جولائی: امریکہ کا یوم آزادی  Video clip available
خون کا عطیہ دینا انسانیت کی ایک بڑی خدمت ہے  Video clip available
واشنگٹن میں سالانہ پاک وہند مشاعرہ  Video clip available
چاڈ کے ڈکٹیٹر کے مظالم پر ہیومن رائٹس واچ کی فلم  Video clip available
جوہری پروگرام کے خاتمے کے بعد شمالی کوریا پر عائد پابندیوں کا خاتمہ ہوجائےگا  Video clip available