 |
|
فی بچہ ایک لیپ ٹاپ |
برونڈی میں فوج کو کچن میں جلانے کے لیے پیٹ فراہم کیا جاتا ہے۔ پیٹ ایک متبادل ایندھن ہے جو لکڑی کی بجائے استعمال ہوتا ہے۔ ہپیٹ کے چولہے سب سے زیادہ برونڈی کی فوج استعمال کرتی ہے۔ اب منصوبہ ہے کہ اسے عام شہریوں کے لیے بھی مارکیٹ میں فراہم کیا جائے۔
ادھر کمبوڈیا میں تقریباً ایک لاکھ گھروں میں چینی کا بنا ہوا واٹر فلٹر استعمال کیا جارہا ہے۔ چینی کا یہ فلٹر پانی میں سے جراثیم اور دوسری مضر صحت چیزیں نکال کر اسے پینے کے قابل بنا دیتا ہے۔ ایک امریکی تنظیم انٹرنیشنل ڈیولپمنٹ انٹرپرائز اس فلٹر کو عام کرنے کی کوشش کررہی ہے۔ ایمیلی یہ فلٹر استعمال کرتی ہیں۔
ان کا کہنا ہے کہ میں دو وجوہات کی بنا پر اسے ایک اچھا فلٹر سمجھتی ہوں۔ پہلا یہ کہ پانی ابالنے کے لیے جنگل سے لکڑی کاٹ کر نہیں لانی پڑتی اور نہ ہی کوئلہ خریدنا پڑتا ہے۔ دوسرا یہ کہ اب اس فلٹر کی وجہ سے مجھے پینے کے لیے صاف پانی ملتا ہے اور میں بیمار نہیں پڑتی۔ یہ مجھے صحت مند رکھتا ہے۔اس لیے یہ بہت فائدہ مند ہے۔
پانی صاف کرنے کے لیے چینی کا فلٹر اور پیٹ کا چولہا سود مند ٹیکنالوجی کی دو مثالیں ہیں۔ ان کے بنانے میں کوئی خاص مہارت یا وسائل کی ضرورت نہیں ہے۔ یہ سستے ہیں اور دوسری روائتی ٹیکنالوجی کی چیزوں کی نسبت ان کی دیکھ بھال آسان ہے۔ وہ ماحول پر بھی اثر نہیں ڈالتے۔ ان کم خرچ ایجادوں کا مقصد غریب ملکوں میں لوگوں کی زندگی کی آسانیاں فراہم کرنا ہے۔ حتی ٰ کہ ہائی ٹیک چیزیں مثلاً کمیپوٹر وغیرہ میں بھی تبدیلی لا کر اسے مقامی تقاضوں کے مطابق ڈھالا جاسکتا ہے۔اسی کے پیش نظر ایک امریکی تنظیم نے فی بچہ ایک لیپ ٹاپ کا تصور دیا تھا۔
سبز اور سفید رنگ کے یہ لیپ ٹاپ کم وزن اور پائیدار ہیں اور انہیں انسانی قوت یا شمسی توانائی کے ذریعے چلایا جاسکتا ہے۔ ان میں عام سافٹ ویئر استعمال ہوتے ہیں جنہیں ٹیچر اور بچے اپنی ضرورت کے مطابق استعمال کرسکتے ہیں۔ پرو نےاپنے اسکولوں کے لیے اس طرح کے چار لاکھ کمپیوٹر منگوائے ہیں۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ ایسی ٹیکنالوجی کو کاروباری نکتہ نظر سے بھی مفید ہونا چاہیے۔عالمی بینک کے ایک ماہر اینڈریو برنز کا کہنا ہے۔اگر کسی چیز کے لیے کوئی مارکیٹ نہیں ہے اور اگر لوگ اسے نہ دیکھیں اور انہیں یہ معلوم نہ ہوکہ وہ ان کی ضرورت پوری کرسکتا ہے یا اگر وہ کسی ملک کے لیے مفید نہ ہو تو اس کا فروغ نہیں ہوگا اور اس کے فوائدسامنے نہیں آئیں گے۔
روانڈا کے دارلحکومت کی گالی کے سائنس اینڈ ٹیکنالوجی کے انسٹی ٹیوٹ میں ٹیچرز اور طالب علم کئی اشیاء کی مارکیٹنگ کے حوالےسے کام کررہے ہیں۔اسکول نے چند ایسی سادہ چیزوں کو فروغ دیا ہے جن سے کیل یا دوسرے روزمرہ استعمال کی چیزیں بنائی جاسکتی ہیں۔ مثال کے طورپرانسٹی ٹیوٹ میں آسان ٹیکنالوجی سے بنائی جانے والی موم بتی پر تقریباً دوسینٹ خرچ ہوتے ہیں۔ جبکہ وہاں چین سے منگوائی جانے والی فی موم بتی دس سینٹ میں پڑتی ہے۔اس انسٹی ٹیوٹ میں طالب علم شہد کی مکھیوں کی موم سے ، جو روانڈا میں بہت زیادہ پائی جاتی ہے ایسی موم بتیاں بنارہے ہیں جو اپنی کارکردگی میں غیر ملکی موم بتیوں سے کم تر نہیں ہیں۔