افغانستان میں تعینات نیٹو افواج نے اورزگان صوبے سے طالبان کے ایک مشتبہ اعلی کمانڈر کو گرفتار کر لیا ہے۔ اتوار کو کابل میں جاری ہونے والے ایک سرکاری بیان کے مطابق ملا سخی داد اور ایک دوسرے طالبان جنگجو کو ترین کوٹ ضلع سے یکم اکتوبر کی صبح ایک کاروائی کے دوران گرفتار کیا گیا۔
مشتبہ طالبان کمانڈر سخی داد اطلاع کے مطابق اورزگان صوبے میں خود کش بمباروں کے منظم کرنے کے احکامات جاری کرتاتھا اور مبینہ طور پر خود کش حملہ آور اس کی اجازت کے بغیر کوئی کاروائی نہییں کرتے ۔
نیٹو افواج کے مطابق طالبان جنگجوؤں کی ایک قابل ذکر تعداد کی قیادت کے علاوہ سخی داد صوبے بھر میں بارودی سرنگیں ، بارودی پاؤڈر اور مقامی طور پر بنائے گئے بم اپنے ساتھیوں میں تقسیم کرنے اور افغان شہریوں کے اغوا میں بھی ملوث ہے۔ نیٹو کے بیان کے مطابق سخی داد کے طالبان کی اعلی قیادت خصوصاََ طالبان کے نائب کمانڈر ملا برادر اخوند کے ساتھ قریبی رابطے تھے۔
افغان وزارت داخلہ کے ترجمان زمری بشری کا کہنا ہے کہ سخی داد کو افغان عوام کے ساتھ مل بیٹھ کر امن کے ساتھ موقع دیا گیا تھا لیکن اس نے وعدہ خلافی کرتے ہوئے معصوم افغان شہریوں پر دوبارہ حملے شروع کر دیے اور طالبان جنگجوؤں کی بھی مدد شروع کر دی۔
ISAF کے ایک ترجمان بریگیڈئیر رچرڈ جنرل کا کہنا ہے کہ ملا سخی داد کو افغان حکام کی تحویل میں دے دیا گیا ہے اور اگر مشتبہ جنگجو کے جرائم ثابت ہو جاتے ہیں تو افغانستان کی امن و سلامتی کے لیے خطرہ بننے والا ایک اور مجرم کم ہو جائے گا۔