 |
| شیری رحمن |
وفاقی وزیر اطلاعات شیری رحمن نے صدر آصف علی زرداری کی طرف سے امریکی اخبار وال سٹریٹ جرنل کو انٹرویو میں مسئلہ کشمیر اور پاکستانی زمین پر بیرونی کاروائیوں کے حوالے سے دیے گئے بیان کی وضاحت کرتے ہوئے کہا ہے کہ پاکستان نے امریکہ یا اتحادی فوج کو کسی کاروائی کی اجازت نہیں دی اور حکومت کشمیر ی عوام کی اخلاقی اور سفارتی حمایت کے لیے پر عزم ہے۔
اخبار میں پاکستانی صدر سے منسوب بیان کے مطابق انھوں نے بھارت کے زیر انتظام کشمیر میں لڑنے والے عسکریت پسندوں کو دہشت گرد قرار دیا تھا اور یہ بھی کہا تھا کہ پاکستانی سرزمین پر سرحد پار سے امریکہ اور اتحادی افواج کی کارروائیاں پاکستان کی اجازت سے ہو رہی ہیں۔
صدر کے اس بیان کو ملک میں کڑی تنقید کا نشانہ بنایا جار ہا ہے۔ اپوزیشن رہنما صدر کے بیان کو انتہائی غیر ذمہ دارانہ قرار دیتے ہوئے مطالبہ کر رہے ہیں کہ حکومت پارلیمنٹ کے مشترکہ اجلاس میں ان معاملات پر سیاسی جماعتوں کو حقائق سے آگاہ کیا جائے۔
وفاقی وزیر اطلاعات شیری رحمن نے صدر زرداری کے بیان کی واضح تردید کرتے ہوئے کہا ہے کہ ان کے بیان کو صحیح پیرائے میں پیش نہیں کیا گیا۔ وفاقی وزیر کے مطابق پاکستان میں اپنی سرحدی خود مختاری کا عزم کر رکھا ہے ۔ انھوں نے کہا کہ صدر نے افغانستان کے ساتھ سرحد کی مشترکہ نگرانی کی بات کی تھی اوراتحادی افواج سے کہا تھا کہ وہ سرحد پار کسی بھی دہشت گردی کی کارروائی کے حوالے سے پاکستان کو ٹھوس معلومات فراہم کرے تاکہ پاکستانی افواج اس کے خلاف کاروائی کر سکیں۔ مزید وضاحت کرتے ہوئے وفاقی وزیر نے کہا کہ صدر نے دہشت گردی کے خلاف عالمی برادری کی مشترکہ حکمت عملی کی بات کی تھی اور یہ کہا تھا کہ امریکہ کی طرف سے یک طرفہ حملے دہشت گردی کے خلاف پاکستان کی کوششوں کو متاثر کریں گے۔
مسئلہ کشمیر کے حوالے سے وفاقی وزیر نے کہا کہ حکومت بھارتی کشمیر میں حق خود ارادیت کے لیے جدوجہد کرنے والے کشمیر ی عوام کی مکمل حمایت کرتی ہے اور بھارت کے ساتھ تعلقات کی بہتری امن کے قیام اور تجارتی روابط میں اضافے کا مطلب یہ نہیں ہے کہ مسئلہ کشمیر پر ملکی موقف پر کو ئی سودے بازی کی جارہی ہے۔