ماحولیاتی تبدیلی کا مسئلہ اور اس کا سدِ باب اقوام متحدہ کے 62ویں سالانہ اجلاس کے ایجنڈے میں سر فہرست رہے گا۔ اسمبلی میں عام بحث کا موضوع بھی اس دفعہ ماحولیات ہی کو رکھا گیا ہے۔
اس موضوع میں دلچسپی اور اس کی اہمیت کا کچھ اندازہ اس سے ہوتا ہے کہ پیر 24 ستمبر کو اس سلسلے میں منعقد کیے گئے ایک خصوصی اجلاس میں شرکت کرنے والے ڈیڑھ سو سے زیادہ مندوبین میں کم از کم 80 سربراہان مملکت شامل ہوں گے۔
اٹھارہ ستمبر سے شروع ہونے والے اقوام متحدہ کے اس اجلاس میں اصل تیزی اگلے ہفتے دیکھنے کو ملے گی جب مختلف سربراہان مملکت نیویارک پہنچنا شروع ہوں گے۔
بان گی مون کے لیے اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل کی حیثیت سے یہ پہلا اجلاس ہے اور ان کے مطابق اقوام متحدہ کی تاریخ میں سفارتی تعلقات اور عالمی امور پر بات چیت کے لیے یہ سیشن انتہائی اہم ہے کیونکہ ’21ویں صدی میں داخلے کے ساتھ ایک دفعہ پھر اقوام متحدہ وہ عالمی فورم بن گیا ہے جہاں مسائل پر بات چیت کی جاتی ہے اور ان کے حل ڈھونڈے جاتے ہیں۔‘
دارفر، عراق، افغانستان اور مشرقِ وسطٰی میں امن پر بات چیت کے لیے بھی عام اجلاس سے ہٹ کر خصوصی اجلاس رکھے گئے ہیں۔
پچھلے چند سالوں کے بر عکس اس سال کے اجلاس میں پاکستانی وفد کی سربراہی صدر جنرل پرویز مشرف نہیں بلکہ وزیرِ خارجہ خورشید قصوری کریں گے۔ مبصرین اس کی وجہ یہ بتاتے ہیں کہ پاکستان کے تیزی سے بدلتے ہوئے سیاسی حالات کی وجہ سے صدر جنرل مشرف کے لیے اس وقت پاکستان سے نکلنا ممکن نظر نہیں آتا۔
اسی طرح بھارت میں بھی اندرونی سیاسی سرگرمیاں آج کل کچھ اس نہج پر ہیں کہ وہاں سے بھی وفد کی قیادت صدر یا وزیرِ اعظم نہیں بلکہ وزیرِ خارجہ پرنب مکھرجی ہی کریں گے۔
کانگرس پارٹی کی صدر سونیا گاندھی بھی اس ماہ کے آخر میں نیو یارک آئیں گی اور 2 اکتوبر کو اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی سے خطاب کریں گی۔
اس دن مہاتما گاندھی کی سالگرہ ہوتی ہے اور اقوام متحدہ نے چند ماہ پیشتر 2 اکتوبر کو ہر سال عالمی یوم عدم تشدد کے طور پر منانے کی قرارداد منظور کی تھی۔