ہر دو ہفتے بعد دنیا میں ایک زبان معدوم ہو رہی ہے، جس نے نتیجے میں رواں صدی کے اختتام تک دنیا کی زبانوں کی تعداد آدھی رہ جائے گی۔
' hspace=2 src="/urdu/images/210-LAND-Squanto-from-a-nin.jpg" width=138 vspace=2 border=0> |
|
یہ وہ تشویش ناک خبر ہے جو نیشنل جیوگرافک کی ایک تحقیق میں سامنے آئی ہے۔ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ ان میں سے اکثر زبانیں ایسی ہیں جن کا کوئی تحریری یا صوتی ریکارڈ نہیں ہے چناں ان کے ختم ہو جانے سے انسانی ثقافت کا یہ بے حد اہم پہلو بھی نابود ہو جائے گا۔
زبان صرف آوازوں کا مجموعہ ہی نہیں ہے بلکہ اس کے اندر تاریخ، ثقافت، ماحول، جانوروں، پودوں کے بارے میں معلومات، غرض ایک جہان آباد ہوتا ہے۔اس لیے کسی زبان کے مرنے سے اس مخصوص تہذیب کے یہ تمام پہلو بھی فنا ہو کر انسانی ورثے کو ناقابلِ تلافی نقصان پہنچاتے ہیں۔
تحقیق کے سربراہ ڈیوڈ ہیریسن کہتے ہیں کہ اس وقت دنیا میں 6992 منفرد زبانیں ہیں، جن میں سے تقریباً ہر دوہفتے میں ایک زبان ختم ہو رہی ہے:
’ہمارا دنیا کے بارے میں زیادہ تر علم ایسا ہے جسے ضبطِ تحریر میں نہیں لایا جاتا، اور اس کا وجود صرف لوگوں کے دماغوں میں ہوتا ہے]زبانوں کے معدوم ہونے سے [ ہم اس علم کو اپنی آنکھوں کے سامنے ضائع ہوتا ہوا دیکھ رہے ہیں۔‘
جانوروں اور پودوں کی نسلوں کے معدوم ہونے کی طرح زبانوں کا معدوم ہونا کوئی نئی بات نہیں ہے۔ ماہرینِ لسانیات کا اندازہ ہے کہ 1500ء میں دنیا میں 15 ہزار کے لگ بھگ زبانیں بولی جاتی تھیں، جو اب گھٹ کر آدھی سے بھی کم ہو گئی ہیں۔ تاہم دورِ حاضر میں زبانوں کے فنا ہونے کی رفتار تشویش ناک حد تک بڑھ گئی ہے۔
 |
|
دنیا کے پانچ خطے جہاں زبانیں تیزی سے فنا ہو رہی ہیں: 1: آسٹریلیا، 2، وسطی جنوبی افریقہ، 3، امریکی ریاست اوکلاہوما، 4، مشرقی سائبیریا اور 5 مغربی امریکہ |
نیشنل جیوگرافک کی تحقیقاتی ٹیم نے دنیا کے پانچ ایسے خطوں کی نشان دہی کی ہے جہاں کی زبانوں کو معدوم ہونے کے شدید خطرات لاحق ہیں۔ ان خطوں میں مشرقی سائبیریا، شمالی آسٹریلیا، وسطی جنوبی امریکہ، امریکی ریاست اوکلاہوما اور امریکہ کا شمال مغربی علاقہ شامل ہیں۔
جنوبی امریکہ کا ایک خطہ اس فہرست میں دوسرے نمبر پر ہے۔ اس خطے میں ایکواڈور، کولمبیا، پرو، برازیل اور بولیویا شامل ہیں۔ یہاں صدیوں سے مقامی زبانیں بولی جاتی تھیں، لیکن اب ہسپانوی اور پرتگالی زبان کی وجہ سے ان مقامی زبانوں کو شدید دباؤ کا سامنا ہے۔
دریں اثنا اس تحقیق سے یہ بھی معلوم ہوا کہ بولیویا میں زبانوں کا تنوع تمام یورپ کے مقابلے میں دو گنا ہے، لیکن یہاں بولی جانے والی کئی چھوٹی زبانوں کو ہسپانوی زبان روندتی چلی جا رہی ہے۔
تحقیق میں سامنے آیا کہ اس وقت دنیا میں کئی درجن زبانیں ایسی ہیں جن کے بولنے والوں کی تعداد صرف دو یا تین رہ گئی ہے۔ اس کے علاوہ کئی زبانیں ایسی ہیں جنھیں روانی سے بولنے والے تو سب مر کھپ گئے ہیں تاہم کچھ لوگ ایسے ہیں جو کچھ ٹوٹی پھوٹی بول لیتے ہیں۔
ہیریسن نے ایک دل چسپ بات یہ بتائی کہ کسی زبان کا مستقبل بچوں کے ہاتھ میں ہوتا ہے۔ بچے زیادہ بڑی اور ’ترقی یافتہ‘زبانیں بولنے میں زیادہ آسانی محسوس کرتے ہیں۔ اگر بچوں کو دو یا دو سے زیادہ زبانیں بولنے کے مواقع فراہم ہوں، تو وہ ان میں سے ایسی زبان کا انتخاب کریں گے جس سے زیادہ معاشرتی وقار منسلک ہو۔
عام طور پر ایسی زبانیں اعلیٰ تعلیم حاصل کرنے اور روزگار کے بہتر مواقع فراہم کرنے میں مددگار ثابت ہوتی ہیں، جب کہ بچے اپنی گمنام موروثی زبانوں کو ترقی کے راستے میں رکاوٹ سمجھتے ہیں۔
آسٹریلیا ایسا ملک ہے جہاں کئی زبانیں دیکھتے ہی دیکھتے ختم ہو رہی ہیں۔ تحقیقاتی ٹیم کو اس وقت خوش گوار حیرت ہوئی جب انھیں وہاں ایک ایسا شخص ملا جو’اموردگ‘نامی زبان بولتا تھا۔ اس سے پہلے یہ خیال کیا جاتا تھا کہ یہ زبان معدوم ہو چکی ہے۔
یہیں ان کی ملاقات ایک 80 سالہ خاتون سے بھی ہوئی جو ’یاراؤ‘ زبان بولتی تھی۔ اس وقت دنیا بھر میں صرف تین افراد رہ گئے ہیں جو یہ زبان بولتے ہیں۔ یہ خاتون سکول کے بچوں کو اپنی زبان سکھا رہی ہے۔
جب ان بچوں سے پوچھا گیا کہ آپ یہ زبان کیوں سیکھ رہے ہیں تو انھوں نے جواب دیا کہ زبان مر رہی ہے اور ہم اسے زندہ رکھنا چاہتے ہیں۔
ماہرینِ لسانیات کےخیال میں یہی واحد طریقہ ہے جس سے زبانوں کو بچایا جا سکتا ہے۔