 |
|
اقوامِ متحدہ کے سیکریٹری جنرل بان گی مون کانفرنس سے خطاب کر رہے ہیں |
پیر کو نیو یارک میں اقوام متحدہ کے صدر دفتر میں ماحولیاتی آلودگی سے متعلق عالمی رہنماؤں کی اب تک کی سب سے بڑی کانفرنس منعقد کی گئی جس کا مقصد ماحولیاتی مسائل کے عالمی سطح پر حل کے لیے اتحاد قائم کرنا تھا۔
کانفرنس کے اختتام پر اخباری نمائندوں سے بات کرتے ہوئے تنظیم کے سیکرٹری جنرل بان گی مون کا کہنا تھا کہ ماحولیاتی آلودگی کا مقابلہ کرنا ممکن ہے اگر سب راضی ہوں۔ انہوں نے کہا کہ ہمارے پاس وسائل بھی ہیں، ہمارے پاس تکنیکی صلاحیت بھی ہے۔ اس وقت اگر کمی ہے توگلوبل وارمنگ سے نمٹنے کے لیے سیاسی جذبے کی کمی ہے۔
سیکرٹری جنرل کا یہ بیان اس لیے بھی اہم ہے کہ امریکی صدر جارج بش اس کانفرنس میں شریک نہیں ہوئے تھے۔ وہ اسی ہفتے خود ماحولیات پر ایک کانفرنس منعقد کریں گے جس میں وہ ان 16 ممالک کو بلانے کا ارادہ رکھتے ہیں جو سب سے زیادہ ماحولیاتی آلودگی پھیلاتے ہیں۔
بعض مبصرین کا کہنا ہے کہ اگرچہ صدر بش کی حکومت نے حال ہی میں ماحولیات سے متعلق اپنا نقطہٴ نظر بدلہ ہے اور اسے ایک بڑا مسئلہ قرار دیا ہے لیکن صدر بش کی کوشش ہے کہ اس مسئلے کے حل کے لیے کوئی عالمی قانون بنانے کے بجائے رضاکارانہ پالیسیوں کو ترجیح دی جائے۔
سیکرٹری جنرل گی مون کا کہنا ہے کہ نقصان دہ گرین ہاؤس گیسوں کے اخراج کو کم کرنے کے لیے اقوام متحدہ کی تحت ایک عالمی معاہدہ جلد طے پانا چاہیئے کیونکہ وقت کم ہے اور ان کے بقول اگر اب بھی کچھ نہ کیا گیا تو اس کے نتائج بے حد خطرناک ہوں گے۔
اس اجلاس کا ایک اہم مقصد یہ تھا کہ دسمبر میں انڈونیشیا کے شہر بالی میں ہونے والی کانفرنس کے لیے ایجنڈے کو آگے بڑھایا جائے۔
بالی کانفرنس کے مقاصد کے بارے میں انڈونیشیا کے صدر سوسیلو یودھویونو نے بتایا کہ اس میں’اب سے لے کر 2012ء کے درمیان ماحولیات سے متعلق ایک روڈ میپ یا نقشہٴ راہ تیار کیا جائے۔
2012ء میں ماحولیات سے متعلق عالمی معاہدہ کیوٹو پروٹوکول ختم ہو جائے گا اور سیکرٹری جنرل بان گی مون کی کوشش ہے کہ اس سے پہلے ہی اس مسئلے کے حل کے لیے ایک واضح عالمی پالیسی تشکیل دے دی جائے۔
ماحولیات سے متعلق اس کانفرنس میں دنیا کے ڈیڑھ سو ممالک سے اعلٰی حکام نے شرکت کی تھی جن میں کم از کم 80 سربراہان مملکت شامل تھے۔