دنیا میں سب سے زیادہ آلودگی پھیلانے والے ملک امریکہ کی میزبانی میں ماحولیاتی تبدیلی پر واشنگٹن میں ایک دو روزہ اجلاس کر رہے ہیں ۔ اس اجلاس میں امریکہ کے علاوہ بھارت اور چین شامل ہیں۔
یہ اجلاس 2012ءکے بعد کا لائحہ ٴعمل طے کرنے پر مرکوز ہے جب ماحولیاتی تبدیلی پر کیوٹو پروٹوکول کی مدت ختم ہو جائے گی۔صدر بش اس کانفرنس کے جمعے کے اجلاس سے خطاب کریں گے۔
اس اجلاس میں آلودگی پیدا کرنے والی گیسوں پر لازمی پابندی کا مطالبہ نہیں کیا جائے گا۔ صدر بش اس طرح کی پابندی کے خلاف ہیں اور کیوٹو معاہدے کو بھی نہیں مانتے جس میں لازمی پابندی کا مطالبہ کیا گیا ہے۔
یہ اجلاس اقوامِ متحدہ کی طرف سے نیویارک میں عالمی ماحولیاتی اجلاس کے چند دن بعد منعقد کیا گیا ہے۔ اقوامِ متحدہ کے اجلاس میں 150 ملکوں نے شرکت کی تھی جس میں تقریباً 80 ممالک کے سربراہان بھی شامل تھے، تاہم صدر بش نے اس میں شرکت نہیں کی تھی۔