اندازے کے مطابق اس سال بھی 20 لاکھ سے زائد افراد حج کی ادائیگی کے لیے سعودی عرب گئے ہیں جن میں تقریباً 12000 امریکی مسلمان بھی شامل ہیں۔
حج پر جانے والے امریکی مسلمانوں کی تعداد میں ہر سال اضافہ ہو رہاہے۔ افغانستان سے امریکہ منتقل ہونے والی فوزیہ عزیز پہلی مرتبہ حج کی ادائیگی کے لیے جارہی ہیں اور ان کا کہنا ہے کہ وہ کافی عرصہ پہلے جانا چاہتی تھیں لیکن چونکہ ان کے بچے چھوٹے تھے اس لیے وہ یہ فریضہ ادا نہیں کر سکیں۔
فوزیہ کے شوہر عزیز کا کہنا ہے کہ انھیں خوشی ہے کہ وہ ایک ایسے معاشرے میں رہ رہے ہیں جہاں انھیں مذہبی آزادی حاصل ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ انھیں امریکہ سے حج کی ادائیگی کے لیے جانے میں کوئی مشکل درپیش نہیں آئی۔ فوزیہ اور عزیز نے حج کے انتظامات کے لیے ایک حج آپریٹر سے رجوع کیا جو امریکی ریاست ورجینیا سے 50 لوگوں کے ایک گروپ کو لے کر سعودی عرب جارہے ہیں۔
حج آپریٹر ولید کا کہنا ہے کہ اس گروپ میں افغانستان کے علاوہ یمن، مصر، سوڈان، مراکش اور فلسطین سے تعلق رکھنے والے افراد بھی شامل ہیں۔