امریکہ کے صدارتی امیدواروں نے محترمہ بے نظیر بھٹو کے قتل کی مذمت کی ہے اور اس سانحے پر غم و غصے کا اظہار کیا ہے۔ امیدواروں نے اس واقعے کے تناظر میں خارجہ پالیسی اور سلامتی کے امور سے متعلق اظہارِ خیال کیا ہے۔
بل رچرڈسن ڈیموکریٹ پارٹی کی طرف سے صدارتی امیدوار ہیں اور وہ اقوامِ متحدہ میں سفیر بھی رہ چکے ہیں۔ انھوں نے کہا کہ امریکہ اس بات کی اجازت نہیں دے سکتا کہ پاکستان میں جمہوریت کی واپسی کو تشدد کے ذریعے پامال کر دیا جائے۔ انھوں نے یہ بھی کہا کہ صدر مشرف کو استعفیٰ دے دینا چاہیئے کیوں کہ ان کے اقتدار سے چمٹے رہنے کی کوششوں کی وجہ سے ملک عدم استحکام کا شکار ہو رہا ہے۔
نیویارک سے تعلق رکھنے والی صدارتی امیدوار اور سابق خاتونِ اول ہلیری کلنٹن نے کہا کہ وہ محترمہ بھٹو کو ان کے دورِ اقتدار کے زمانے سے جانتی ہیں۔ انھوں نے ان کے قتل کو پاکستان کے لیے المیہ قرار دیا اور کہا کہ یہ اس بات کی تاکید ہے دنیا کے ان خطوں میں امن اور سلامتی کی بحالی کے ابھی بہت کام کرنا باقی ہے جو خوف اور نفرت کی لپیٹ میں ہیں۔
جان ایڈورڈز بے نظیر کو خراجِ عقیدت پیش کرتے ہوئے کہا کہ وہ ایک غیر معمولی اور حوصلہ مند خاتون تھیں جنہوں نے پاکستان کی بہتری کے لیے ایک عظیم قربانی دی ہے۔
ایک اور صدارتی امیدوار مٹ رامنی نے اس موقعے پر کہا کہ عالمی سطح پر تشدد کے خلاف مسلم دنیا اور مغربی اقوام کو مل کر کام کرنے کی ضرورت کا احساس بڑھتا جا رہا ہے۔