 |
|
لیاقت باغ میں خودکش حملے کے بعد تباہی کا منظر |
پاکستان کی سابق وزیرِ اعظم بے نظیر بھٹو کو خود کش حملے میں قتل کر دیا گیا ہے، جس کے بعد ملک بھر میں پرتشدد مظاہروں کا سلسلہ شروع ہو گیا ہے جن میں اب تک نو افراد مارے جا چکے ہیں۔
پولیس کا کہنا ہے کہ خودکش حملہ آور نے پہلے بے نظیر بھٹو پر گولیاں چلائیں اور اس کے بعد خود کو دھماکے سے اڑا دیا۔ اس واقعے میں کم از کم 20 دیگر افراد بھی مارے گئے۔
بے نظیر بھٹو اپنی انتخابی مہم کے سلسلے میں راولپنڈی کے لیاقت باغ میں ایک جلسے سے خطاب کر رہی تھیں، جس کے تھوڑی دیر بعد ان پر حملہ ہوا۔ انھیں راولپنڈی کے سنٹر ہسپتال پہنچایا گیا لیکن وہ زخموں سے جان بر نہ ہو سکیں۔ ان کی عمر 54 برس تھی۔
ان کا جسدِ خاکی ان کے آبائی شہر لاڑکانہ پہنچا دیا گیا ہے جہاں انھیں ان کے والد اور پاکستان کے سابق وزیرِ اعظم ذوالفقار علی بھٹو کی قبر کے قریب دفن کیا جائے گا۔
کراچی، لاہور اور دوسرے شہروں میں مشتعل مظاہرین نے گاڑیوں کو آگ لگا دی اور دکانوں پر حملے کیے۔ اس کے بعد سے پاکستانی فوج کو’ریڈ الرٹ‘جاری کر دیا گیا ہے۔ جوں ہی بے نظیر بھٹو کی ہلاکت کی خبر پھیلی، روتے پیٹتے اور نعرے لگاتے لوگوں کا ہجوم راولپنڈی کے اس ہسپتال کے سامنے اکٹھا ہو گیا جہاں بے نظیر بھٹو نے دم توڑا تھا۔
حملے سے چند گھنٹے قبل محترمہ بے نظیر بھٹو نے اسلام آباد میں افغان صدر حامد کرزئی سے مذاکرات کیے تھے، جس کے بعد انھوں نے وائس آف امریکہ کی اردو سروس کے نمائندے ایاز گل سے گفتگو کرتے ہوئے کہا تھا کہ ان کا افغان صدر کے ساتھ اس بات پر اتفاق ہوا تھا کہ دونوں ملکوں کو دہشت گردی اور انتہاپسندی کا مقابلہ کرنے کے لیے مل کر کام کرنے کی ضرورت ہے۔
بے نظیر بھٹو اکتوبر میں آٹھ سالہ جلاوطنی کے بعد وطن لوٹی تھیں۔ ان کی وطن واپسی پر استقبالیہ جلوس پر بھی خودکش حملہ کیا گیا تھا جس میں 140 کے قریب افراد ہلاک ہوگئے تھے۔ اس حملے کو پاکستان کی تاریخ کی بدترین دہشت گردی قرار دیا گیا تھا۔
بے نظیر بھٹو نے امریکہ کی حمایت کے ساتھ صدر مشرف کے ساتھ شراکتِ اقتدار کے سلسلے میں کئی ماہ تک خفیہ مذاکرات کیے تھے۔ تاہم بے نظیر بھٹو کی وطن واپسی کے بعد دونوں رہنماؤں کے درمیان مفاہمت میں تعطل پیدا ہو گیا تھا۔
بے نظیر آٹھ جنوری کو ہونے والے انتخابات کے سلسلے میں ملک گیر انتخابی مہم کے سلسلے میں مختلف شہروں کے دورے کر رہی تھیں۔
بے نظیر بھٹو کے قتل کے چند گھنٹوں بعد ہی چار افراد اس وقت مارے گئے جب کچھ افراد نے راولپنڈی کے قریب نواز شریف کے سیاسی جلسے میں فائر کھول دیا۔