پاکستان کے قبائلی علاقے اورکزئی ایجنسی میں جمعے کی سہ پہر طالبان مخالف جرگے پر ہونے والے خود کش حملے میں ہلاک ہونے والوں کی تعداد کم از کم تیس ہو گئی ہے جبکہ زخمی ہونے والوں کی تعداد100 سے زائد ہے۔جبکہ مقامی ذرائع ابلاغ کا کہنا ہے کہ اس خود کش حملے میں ہلاک ہونے والوں کی تعداد 40 سے 50 ہو سکتی ہے۔کیونکہ اس دور داز علاقے سے معلومات کا فوری حصول خاصہ مشکل ہے جس کی بنا پر حتمی اعداد وشمار تاحال حاصل نہیں ہو سکے ہیں۔
اطلاعات کے مطابق ہلاک ہونے والے طالبان مخالف قبائلی عمائدین کی ہفتے کی صبح ادا کی جانے والی نمازہ جنازہ میں سینکڑوں افراد نے شرکت کی۔
یہ دھماکا اُس وقت ہوا جب اورکزئی ایجنسی کے گاؤں خدیزئی میں علی خیل قبیلے کے عمائدین جرگے میں مصروف تھے کہ ایک خود کش حملہ آور نے بارود سے بھری ایک گاڑی کو جرگے کے مقام پر دھماکے سے اڑا دی۔ عینی شاہدین کے مطابق علی خیل قبائل کے تقریبا500 عمائدین علاقے میں طالبان جنگجوؤں کی کاروائیاں روکنے اوراُنہیں علاقے سے نکالنے کے لیے لشکر کی تشکیل میں مصروف تھے کہ یہ خودکش حملہ ہو گیا۔
اس حملے میں بچ جانے والے ایک شخص نے کہا کہ جب یہ دھماکا ہوا تو وہ بے ہوش ہو کر زمین پر گر گئے او ر جب اُنہیں ہوش آئی تو اُنہیں ہر طرف لاشیں اور زخمی لوگ نظر آئے۔
اس حملے میں زخمی ہونے والوں کو قریبی ضلع کوہاٹ کے ہسپتال میں پہنچایا گیا ہے، جہاں بعض زخمیوں کی حالت تشویش ناک بتائی جاتی ہے۔
وزیراعظم یوسف رضا گیلانی نے دہشت گردی کے واقعہ کی شدیدالفاظ میں مذمت کی ہے اور اس کے نتیجے میں ہونے والی جانی نقصان پر گہرے دکھ کااظہار کرتے ہوئے حکومتی اداروں کو ہدایت کی ہے کہ وہ دہشت گردی کے اس واقعہ کی فوری تفتیش کریں اور اس میں ملوث افراد کو کیفرکردار تک پہنچائیں۔
واضح رہے کہ قبائلی پٹی درہ آدم خیل اور ہنگو سے ملحقہ اورکزئی ایجنسی میں مقامی قبائل نے طالبان جنگجوؤں کے خلاف لشکرتشکیل دے کر اُن کے گھروں کو مسمار کرنا شروع کر دیا تھا۔ جس کے نتیجے میں اس علاقے میں طالبان کی کاروائیاں کافی حد تک محدود ہو گئی ہیں۔